تل ابیب/تہران (ویب ڈیسک): اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کے قومی سلامتی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات کیے گئے حملوں کے اہداف میں علی لاریجانی بھی شامل تھے، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ زخمی ہوئے ہیں یا ہلاک۔
اسرائیلی اخبار The Times of Israel کے مطابق حملے کے بعد ان کی حالت کے بارے میں کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ یاد رہے کہ پیر کے روز علی لاریجانی نے مسلم ممالک کے اتحاد پر زور دیا تھا۔
مسلم دنیا کے نام پیغام
گزشتہ روز علی لاریجانی نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے نام ایک خط میں کہا تھا کہ مسلم دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کس طرف کھڑی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ “کیا آپ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ہیں یا ایران اور مزاحمت کاروں کے ساتھ؟” ان کا کہنا تھا کہ جب ایران پر حملہ ہوا تو مسلم اکثریتی ممالک کی جانب سے وہ حمایت اور یکجہتی دیکھنے میں نہیں آئی جس کی توقع تھی۔
علی لاریجانی نے کہا کہ ایران “بڑے اور چھوٹے شیطان” یعنی امریکا اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے راستے پر قائم ہے، تاہم کچھ مسلم حکومتوں کا رویہ باعثِ تشویش ہے۔