قطر کے راس لفان توانائی کمپلیکس پر ایران کا دوبارہ حملہ، بڑے نقصان کی تصدیق

0

دوحہ (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود ایران نے قطر کے راس لفان توانائی کمپلیکس پر دوبارہ حملہ کیا ہے۔ قطر کی سرکاری توانائی کمپنی کے مطابق آج صبح مرکزی گیس تنصیبات کو راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور قابلِ ذکر نقصان ہوا۔

گذشتہ رات بھی ایران نے راس لفان کمپلیکس پر حملہ کیا تھا، جس کے بعد گیس پلانٹ پر آگ بھڑک اٹھی تھی۔ ایرانی میزائل حملے کے بعد ابوظبی کی گیس تنصیبات بھی بند کر دی گئی ہیں، جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق تباہ شدہ میزائل کا ملبہ گرنے کی وجہ سے حبشان گیس فیلڈ بند کیا گیا۔

قطر کی وزارتِ خارجہ نے اس حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایران کا کھلا حملہ ہے جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور تنصیب کو نمایاں نقصان پہنچا۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق آگ کو ابتدائی طور پر قابو میں کر لیا گیا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ قطر انرجی نے بھی کہا کہ تمام عملے کا حساب مکمل کر لیا گیا ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

ایران نے خلیجی خطے میں تیل اور گیس کی تنصیبات پر حملوں کی دھمکی دی تھی، جو اس کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر اسرائیل کے حملے کے جواب میں تھی۔ حملوں کی وارننگ قطر کے مسیعید پیٹروکیمیکل کمپلیکس، مسیعید ہولڈنگ کمپنی، راس لفان ریفائنری، سعودی عرب کی سامرف ریفائنری، الجبیل پیٹروکیمیکل کمپلیکس اور متحدہ عرب امارات کے الحصن گیس فیلڈ کے لیے جاری کی گئی تھی۔

حملے کے بعد قطر کی وزارتِ خارجہ نے ایران کے سفارت خانے کے فوجی اور سیکیورٹی اتاشیوں کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.