اسلام آباد (ویب ڈیسک): ایران میں جاری جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی میں خلل نے عالمی سطح پر تیل اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے پاکستان سمیت کئی ممالک میں غذائی بحران کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دنیا کی کھاد کی برآمد کا تقریباً 46 فیصد حصہ آبنائے ہرمز کے راستے سے گزرتا ہے۔ جہاز رانی اور گیس کی فراہمی میں رکاوٹ کے سبب کھاد کے کارخانے بند ہو رہے ہیں یا پیداوار کم کر رہے ہیں۔
بھارت نے کئی یوریا پلانٹس کی پیداوار کم کر دی ہے، بنگلادیش کی زیادہ تر کھاد فیکٹریاں بند ہیں، جبکہ امریکا کو مشرق وسطیٰ سے تقریباً 25 فیصد کھاد کی کمی کا سامنا ہے۔ اس کے نتیجے میں یوریا کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور دیگر کھادوں کی قیمتوں میں بھی مزید اضافہ متوقع ہے۔
بھارت آبنائے ہرمز کے راستے 40 فیصد سے زائد کھاد درآمد کرتا ہے، برازیل اپنی مکمل کھاد اسی راستے سے منگواتا ہے، جبکہ چین، آسٹریلیا اور انڈونیشیا بھی بڑی حد تک مشرق وسطیٰ کی کھاد پر انحصار کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کھاد کی کمی سے گندم، چاول، مکئی اور سویا بین جیسی اہم فصلوں کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے، جس سے خوراک کی فراہمی کم ہوگی اور قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ اگر جنگ جاری رہی تو بعض ممالک میں خوراک کی شدید قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔