ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کا مبینہ آٹھ نکاتی جنگی منصوبہ سامنے آ گیا
تہران واشنگٹن: ایران کے ایک انگریزی روزنامے نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک مبینہ آٹھ نکاتی جنگی منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس میں اعلیٰ قیادت، بڑے شہروں اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ممکنہ زمینی کارروائیوں کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس منصوبے میں ایرانی قیادت اور اہم شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کے علاوہ ایک مربوط زمینی آپریشن بھی شامل ہے، جس کے تحت ہزاروں جنگجوؤں پر مشتمل اپوزیشن فورسز شمال مغربی سرحد کے راستے ایران میں داخل ہو سکتی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی دستے جنوب مشرقی راستے سے داخل ہو سکتے ہیں، جبکہ بندر عباس، کرمانشاہ، ارمیہ اور تبریز کے ہوائی اڈوں کو ممکنہ طور پر فوجی تعیناتی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹے خصوصی یونٹس کو حساس تنصیبات پر پیراشوٹ کے ذریعے اتارنے اور میزائل حملے کرنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔
مزید برآں، بعض فوجی اور جوہری اہداف پر محدود جوہری حملوں کی تیاری کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق پینٹاگون ایران میں ممکنہ زمینی آپریشن کی تیاری کر رہا ہے، جو کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر کو مختلف فوجی آپشنز پیش کیے جا رہے ہیں، تاہم ابھی تک کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ممکنہ حکمت عملی میں ایران کے جزیرہ خرگ پر کنٹرول حاصل کرنے اور آبنائے ہرمز کے قریب کارروائیاں شامل ہو سکتی ہیں، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ سمیت عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔