خیبرپختونخوا میں موسلا دھار بارشیں، 17 افراد جاں بحق، 56 زخمی؛ صوبے کو مالی بحران کا بھی سامنا

0

پشاور: خیبرپختونخوا میں وقفے وقفے سے جاری موسلا دھار بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں کم از کم 17 افراد جاں بحق جبکہ 56 زخمی ہو گئے ہیں۔پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق 25 مارچ سے جاری بارشوں کے دوران مختلف اضلاع میں چھتیں اور دیواریں گرنے کے متعدد واقعات پیش آئے، جن کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شدید بارشوں سے کم از کم 11 مکانات کو جزوی نقصان بھی پہنچا ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق ہلاکتیں بنوں، ایبٹ آباد، کوہاٹ، اپر دیر، باجوڑ، بٹگرام اور شمالی وزیرستان میں رپورٹ ہوئی ہیں۔ اتھارٹی نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ متاثرین کو فوری امداد فراہم کی جائے اور ریسکیو کارروائیاں تیز کی جائیں۔

اتھارٹی نے مزید خبردار کیا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ منگل تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے، اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ مزید نقصانات سے بچا جا سکے۔

دوسری جانب صوبے کو مالی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے ترقیاتی اور جاری اخراجات کے لیے مختص 25 ارب روپے سے زائد فنڈز عارضی طور پر روک دیے ہیں۔ ان فنڈز میں سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) اور مختلف محکموں کے اخراجات شامل ہیں، تاہم صحت کارڈ، ہسپتالوں، بی آر ٹی، ریسکیو سروسز اور پولیس کے فنڈز متاثر نہیں ہوئے۔ذرائع کے مطابق سرحدی بندش کے باعث صوبے کو اب تک تقریباً 9 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے، جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے مارچ کی قسط میں متوقع 55 سے 60 ارب روپے کے مقابلے میں صرف 17 ارب روپے ہی موصول ہوئے ہیں۔مزید برآں عارضی طور پر بے گھر افراد (ٹی ڈی پیز) کے واجبات کی مد میں 66 ارب روپے کی ادائیگی تاحال باقی ہے، جس کے باعث صوبائی حکومت کو اپنے وسائل سے 15 ارب روپے خرچ کرنا پڑے ہیں۔اس حوالے سے صوبائی وزیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ حکومت موجودہ صورتحال، جو جنگ جیسے حالات سے مشابہ ہے، کے پیش نظر معاشی معاملات کا ازسرِنو جائزہ لے رہی ہے اور آئندہ ہفتوں میں مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.