امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے معاملے پر یورپی ممالک میں اختلافات سامنے آ گئے ہیں، جہاں اسپین اور فرانس نے اس جنگ میں براہِ راست شریک ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسپین نے واضح مؤقف اپناتے ہوئے امریکی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دیں۔ ہسپانوی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بین الاقوامی قوانین اور ملکی مفاد کے تحت کیا گیا ہے، جبکہ عوامی سطح پر بھی جنگ میں شمولیت کی مخالفت پائی جاتی ہے۔
دوسری جانب فرانس نے بھی محتاط حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے ایران کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائیوں سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فرانسیسی قیادت کے مطابق یورپ کو اپنی خارجہ پالیسی میں خودمختاری برقرار رکھنی چاہیے اور ہر معاملے میں خود فیصلہ کرنا چاہیے۔
ادھر امریکہ نے یورپی اتحادیوں کے اس مؤقف پر تنقید کی ہے اور ان پر عزم کی کمی کا الزام عائد کیا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اختلاف صرف حکمتِ عملی کا نہیں بلکہ سوچ اور ترجیحات کا بھی ہے۔
نیٹو اتحاد کے اندر بھی اس معاملے پر مکمل اتفاق رائے نہیں پایا جاتا، اور تنظیم بطور ادارہ اس تنازع میں شامل نہیں ہوئی۔ برطانیہ نے محدود تعاون کی پیشکش کی ہے جبکہ جرمنی نے بھی محتاط رویہ اپنایا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ میں جنگ کے ممکنہ اثرات جیسے توانائی بحران، معاشی مشکلات اور سیکیورٹی خدشات کے باعث محتاط رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ یورپی ممالک اب زیادہ خودمختار خارجہ پالیسی کی جانب بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال عالمی طاقتوں کے درمیان بدلتے توازن کی عکاسی کرتی ہے، جہاں یورپ کھل کر جنگ میں شامل ہونے کے بجائے محتاط فاصلہ اختیار کر رہا ہے۔