سات دہائیاں گزر گئیں، بلوچستان ابھی تک انتظار کر رہا ہے

شعیب

0

اسلام آباد
بلوچستان ابلتا نہیں، بلکہ آہستہ آہستہ، مسلسل اور ایک طویل صبر کے ساتھ جل رہا ہے—ایسا صبر جو سات دہائیوں سے سنا جانے کا منتظر ہے۔

بلوچستان کے بحران کو محض ایک سیکیورٹی مسئلہ کے طور پر پیش کرنا ہمیشہ آسان رہا ہے، اور اس کا حل طاقت کے استعمال میں تلاش کرنا بھی ریاستی پالیسی کا بار بار دہرایا جانے والا طریقہ رہا ہے۔ تاہم ان اقدامات کے باوجود صوبہ آج بھی سب سے زیادہ غیر مستحکم، سب سے کم ترقی یافتہ اور سب سے زیادہ احساسِ محرومی کا شکار نظر آتا ہے۔
اصل سوال اب یہ نہیں رہا کہ بلوچستان کیا غلط کر رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ریاست نے کیا درست کرنے سے انکار کیا ہے۔
اس ناکامی کی جڑیں محض آزادی کے بعد کی پالیسیوں تک محدود نہیں۔ برطانوی دور میں بھی بلوچستان کو ترقی کے بجائے محض اسٹریٹجک کنٹرول کی نظر سے دیکھا گیا۔ سرمایہ کاری اُن علاقوں میں کی گئی جہاں معاشی فائدہ ممکن تھا، جبکہ بلوچستان کو بنیادی ڈھانچے، تعلیم اور سماجی ترقی سے محروم رکھا گیا۔ اسے وسائل سے زیادہ جغرافیائی اہمیت کے طور پر استعمال کیا گیا۔
آزادی کے بعد یہ طرزِ فکر ختم نہیں ہوا بلکہ ایک نئے سیاسی ڈھانچے کے ساتھ جاری رہا۔ اقتدار مقامی عوام کے بجائے ایسے اشرافیہ طبقے کے ہاتھ میں رہا جو مرکز کے قریب تو تھے، مگر صوبے کی نمائندگی کم کرتے تھے۔ حقیقی سیاسی قیادت کو اکثر کمزور یا غیر مؤثر بنایا گیا، جبکہ قابلِ قبول پراکسی کرداروں کو آگے لایا گیا۔
نتیجتاً بلوچستان کے لیے مختص وسائل کاغذی سطح پر تو موجود رہے، مگر عملی سطح پر ان کا اثر محدود رہا۔ اس دوران سیاسی اختلاف یا مزاحمت کی آوازیں اکثر جبر، خاموشی یا غیر موجودگی میں بدلتی رہیں۔
گزشتہ کئی دہائیوں میں جبری گمشدگیاں بلوچستان کے مسئلے کا ایک سنگین پہلو بن چکی ہیں۔ یہ محض انسانی حقوق کا معاملہ نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی بحران ہے۔ ہر لاپتہ فرد کے پیچھے ایک ایسا خاندان موجود ہے جس کے سوالات کا جواب نہیں دیا گیا، اور یہی خاموشی مزید بداعتمادی کو جنم دیتی ہے۔
ریاست جب قانونی عمل کو نظرانداز کرتی ہے تو وہ خود اپنی قانونی حیثیت کو کمزور کر دیتی ہے۔ ایسے حالات میں قانون اس صوبے میں غیر مؤثر ہو جاتا ہے جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
اسی پس منظر میں مسلح گروہوں کا ابھرنا صرف نظریاتی مسئلہ نہیں بلکہ برسوں کی شکایات، فوجی کارروائیوں، سیاسی محرومی اور عدم اعتماد کا نتیجہ ہے۔ یہ تشدد کی توجیہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ حقیقت کی وضاحت ہے کہ مسائل کو نظر انداز کرنے سے وہ ختم نہیں ہوتے بلکہ بڑھتے ہیں۔
آج بھی بلوچستان میں ہر آواز بندوق نہیں اٹھا رہی۔ بڑی تعداد میں لوگ پرامن احتجاج، درخواستوں اور مکالمے کے ذریعے اپنے حقوق کی بات کر رہے ہیں۔ یہ وہی طرزِ عمل ہے جس کا مطالبہ ایک جمہوری ریاست اپنے شہریوں سے کرتی ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست محض طاقت کے بجائے سیاست اور مکالمے کو ترجیح دے۔ اس کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں: جبری گمشدگیوں کا خاتمہ اور عدالتی نگرانی میں شفاف عمل؛ سیاسی عمل کو آزاد اور غیر مداخلتی بنانا؛ وفاقی وسائل کی شفاف تقسیم اور مقامی سطح پر ان کا مؤثر استعمال؛ اور بلوچستان کی سیاسی قیادت کے ساتھ مستقل اور بامعنی مکالمہ۔
بلوچستان کوئی مسئلہ نہیں جسے صرف کنٹرول کیا جائے۔ یہ ایک ایسا خطہ ہے جسے احترام، شراکت اور سیاسی اعتماد کی ضرورت ہے۔ ریاست کے لیے اصل فیصلہ یہی ہے کہ وہ خود کو ایک حکمران کے طور پر دیکھتی ہے یا ایک شراکت دار کے طور پر۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.