بجٹ متوازن مگر غیر واضح معاشی سمت: چیمبر

نیوز ڈیسک

0

راولپنڈی: راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے وفاقی بجٹ 2026-27 پر ملا جلا ردعمل دیتے ہوئے اسے جزوی طور پر مثبت قرار دیا ہے جبکہ کئی اہم شعبوں میں مزید اصلاحات اور سہولتوں کا مطالبہ کیا ہے۔
چیمبر کے صدر عثمان شوکت نے کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی اور سپر ٹیکس میں تخفیف خوش آئند ہے، جبکہ آئی ٹی سیکٹر کے لیے ٹیکس ریلیف کو بھی سراہا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے لیے 88 ارب روپے کی تخصیص مثبت قدم ہے، تاہم برآمدات بڑھانے کے لیے اس میں مزید اضافہ ضروری ہے۔
انہوں نے جان بچانے والی ادویات پر ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز کو عوام دوست فیصلہ قرار دیا۔
گروپ لیڈر سہیل الطاف نے کہا کہ بجٹ میں کچھ مثبت اقدامات شامل ہیں لیکن صنعتی بحالی کے لیے کوئی جامع حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔ ان کے مطابق ایز آف ڈوئنگ بزنس کے حوالے سے بھی کوئی نئی سہولت یا اصلاح نظر نہیں آتی۔
انہوں نے فکسڈ ٹیکس اسکیم کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس کے عملی طریقہ کار پر وضاحت کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ سپر ٹیکس کے خاتمے اور ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کو کاروباری طبقے کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا۔
سہیل الطاف نے کہا کہ چھوٹے کاروباری طبقے کے لیے بجٹ میں کوئی نمایاں ریلیف شامل نہیں کیا گیا، جبکہ نئے ٹیکس دہندگان کو نیٹ میں لانا ناگزیر ہے۔
سابق صدر راجہ عامر اقبال نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکس میں نرمی کو مثبت اقدام قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ حکومتی مالی پالیسیوں سے قرضوں پر انحصار کم ہوگا۔
چیمبر قیادت کے مطابق مجموعی طور پر بجٹ متوازن ہے، تاہم مہنگائی میں کمی اور صنعتی ترقی کے لیے واضح اور جامع حکمت عملی کی کمی محسوس کی گئی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.