خاموش پردوں کے پیچھے کھو جانے والا ہنر

فوزیہ ظہور

0

اسلام آباد: ایک وقت تھا جب گھروں کی خوبصورتی صرف بازار سے خریدی گئی اشیا کی مرہونِ منت نہیں ہوتی تھی۔ ہر گھر میں ایسے نمونے موجود ہوتے تھے جن میں ہاتھوں کی محنت، محبت اور تخلیقی صلاحیتوں کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔
کروشیے کے باریک کام سے مزین پنکھوں کے غلاف، ہاتھ کی کڑھائی سے سجے ڈریسنگ ٹیبل کور اور رنگ برنگے دستکارانہ نمونے محض آرائشی اشیا نہیں تھے، بلکہ ایک ایسے دور کی یادگار تھے جہاں صبر، ہنر اور انسانی تعلقات روزمرہ زندگی کا حصہ ہوا کرتے تھے۔
کئی دہائیاں پہلے خواتین شام کے اوقات میں اکٹھی بیٹھتیں، گھریلو معاملات پر گفتگو کرتیں، خوشیاں اور غم بانٹتیں اور ساتھ ہی کروشیا، سلائی، بنائی یا کڑھائی کا کام بھی جاری رکھتیں۔ یہ مشاغل تنہائی میں کیے جانے والے کام نہیں تھے بلکہ میل جول، دوستی اور باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کا ذریعہ تھے۔
گفتگو کے دوران دھاگوں سے خوبصورت نقش ابھرتے، زندگی کے مسائل زیرِ بحث آتے اور ایک دوسرے کی رفاقت دلوں کو سکون بخشتی۔ اس طرح بننے والی ہر چیز میں صرف مہارت ہی نہیں بلکہ وقت، توجہ اور محبت بھی شامل ہوتی تھی۔
تقریباً ہر گھر میں ہاتھ سے بنی ہوئی کوئی نہ کوئی چیز ضرور موجود ہوتی تھی۔ کڑھائی شدہ رومال، بنے ہوئے غلاف یا سجاوٹ کے منفرد نمونے اس بات کا ثبوت ہوتے تھے کہ ان کے پیچھے کسی کے ہاتھوں کی محنت اور دل کی وابستگی شامل ہے۔
آج یہ روایات آہستہ آہستہ ماضی کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔
جو اشیا کبھی گھروں میں تیار ہوتی تھیں، اب وہ بازاروں سے خریدی جاتی ہیں۔ اکثر یہ مصنوعات مشینوں سے تیار شدہ یا بیرونِ ملک سے درآمد شدہ ہوتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لوگ اب پیسہ خرچ کرکے وہ چیزیں خریدتے ہیں جو کبھی ان کی مائیں اور دادیاں اپنے ہاتھوں سے تیار کیا کرتی تھیں۔
بلاشبہ ٹیکنالوجی نے تخلیقی خیالات تک رسائی آسان بنا دی ہے۔ آج لاکھوں لوگ سوشل میڈیا پر دستکاری کی ویڈیوز دیکھتے ہیں، نت نئے ڈیزائن محفوظ کرتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ تاہم کسی ہنر کو دیکھنے اور اسے اپنے ہاتھوں سے تخلیق کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایک محفوظ شدہ ویڈیو کبھی بھی وہ جذباتی وابستگی پیدا نہیں کر سکتی جو اپنی محنت سے بنائی گئی چیز میں محسوس ہوتی ہے۔
یہ تبدیلی صرف دستکاری کے زوال کی کہانی نہیں بلکہ ہمارے طرزِ زندگی میں آنے والی ایک بڑی تبدیلی کی عکاس بھی ہے۔
موبائل فون آج ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر کے لوگوں کو قریب کر دیا ہے، لیکن بعض اوقات ایک ہی گھر میں رہنے والوں کے درمیان فاصلے بھی پیدا کر دیے ہیں۔ خاندان ایک ہی کمرے میں موجود ہوتے ہیں، مگر ہر فرد اپنی الگ ڈیجیٹل دنیا میں گم رہتا ہے۔
سوشل میڈیا بظاہر رابطے کا احساس دیتا ہے، لیکن پسندیدگی اور توجہ حاصل کرنے کی مسلسل دوڑ اکثر ذہنی تھکن اور بے چینی کا باعث بھی بن جاتی ہے۔
ایک وقت تھا جب مائیں اپنے بچوں کو سونے سے پہلے کہانیاں سناتیں، دعائیں سکھاتیں اور زندگی کی اقدار منتقل کرتیں۔ آج وہی وقت اکثر اسکرینوں کی نذر ہو جاتا ہے۔
انسان فطرتاً ایک سماجی مخلوق ہے، مگر جدید زندگی نے ایک عجیب تضاد پیدا کر دیا ہے۔ ہم پہلے سے کہیں زیادہ جڑے ہوئے ہیں، لیکن شاید پہلے سے کہیں زیادہ تنہا بھی۔
یہ پرانے کروشیے کے غلاف، کڑھائی شدہ کپڑے اور ہاتھ سے بنائی گئی اشیا صرف دستکاری کی مثالیں نہیں، بلکہ یادوں، تعلقات اور ایک ایسے طرزِ زندگی کی علامت ہیں جس میں ایک دوسرے کے لیے وقت نکالنا اہم سمجھا جاتا تھا۔
شاید دھاگے کم ہو گئے ہیں، مگر ان کا پیغام آج بھی اتنا ہی مضبوط ہے: گھر صرف اینٹوں، دیواروں اور فرنیچر کا نام نہیں۔ گھر دراصل ان لمحوں، روایات اور محبت بھرے ہاتھوں سے بنتا ہے جو خاموشی سے یادیں تخلیق کرتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.