ممبئی: بھارت کی معروف سماجی اور کاروباری شخصیت نیتا امبانی ایک بار پھر اپنے منفرد انداز اور شاندار لباس کے باعث خبروں میں ہیں۔ اس بار توجہ کا مرکز ان کی وہ خاص چکنکاری ساڑھی بنی ہے جسے تیار کرنے میں ایک سال کا عرصہ لگا۔
62 سالہ نیتا امبانی حال ہی میں ایک تقریب میں ہلکے موورنگ کی نفیس شیفون ساڑھی میں نظر آئیں۔ اس لباس نے نہ صرف اپنی خوبصورتی بلکہ اس کے پیچھے موجود روایتی دستکاری اور کاریگروں کی غیر معمولی محنت کے باعث بھی فیشن حلقوں کی توجہ حاصل کی۔
رپورٹس کے مطابق اس ہاتھ سے تیار کی گئی چکنکاری ساڑھی کو لکھنؤ کے ماہر کاریگر انجانی کشیپ نے ایک سال کی مسلسل محنت کے بعد مکمل کیا۔ ساڑھی میں چکنکاری کی کئی روایتی تکنیکیں استعمال کی گئی ہیں، جن میں جالی، مُری، گھاس پٹی اور بلدا ورک شامل ہیں۔
چکنکاری برصغیر کی قدیم اور معروف کڑھائی کی روایات میں شمار ہوتی ہے، جو اپنی باریک کاریگری، نفیس ڈیزائن اور لازوال خوبصورتی کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانی جاتی ہے۔ فیشن ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں روایتی دستکاری اور ہیریٹیج ٹیکسٹائل کی مقبولیت میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے نسلوں پر محیط ہنر کو محفوظ رکھنے میں مدد مل رہی ہے۔
اس ساڑھی کو معروف فیشن ڈیزائنر منیش ملہوترا کے تیار کردہ خصوصی بلاؤز کے ساتھ پہنا گیا، جس میں جدید طرز کے پلیٹس اور رفل ڈیزائن شامل تھے۔ اس امتزاج نے روایتی دستکاری اور جدید فیشن کو ایک خوبصورت انداز میں یکجا کر دیا۔
نیتا امبانی نے اپنی شخصیت کو مزید نکھارنے کے لیے ہیرے کی بالیاں، ڈائمنڈ بریسلٹ، نمایاں انگوٹھی اور نفیس گھڑی کا انتخاب کیا۔ تاہم ان تمام لوازمات کے باوجود لباس کی اصل توجہ اس کی منفرد چکنکاری اور دستکاری ہی رہی۔
فیشن مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ساڑھی صرف ایک مہنگا لباس نہیں بلکہ روایتی ہنر، ثقافتی ورثے اور کاریگروں کی محنت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی ایک مثال بھی ہے۔ ایسے دور میں جب فاسٹ فیشن اور مشینی پیداوار کا رجحان بڑھ رہا ہے، اس قسم کے ملبوسات دستکاری کی پائیدار اہمیت اور ثقافتی شناخت کے تحفظ کی یاد دلاتے ہیں۔
