اسلام آباد:سینیٹ کی ایک کمیٹی نے پاکستان کے گلیشیئر مانیٹرنگ نظام میں موجود سنگین خامیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں موجود تقریباً 13,500 گلیشیئرز کی نگرانی کے لیے صرف 350 مانیٹرنگ ڈیوائسز نصب ہیں۔
یہ انکشاف سینیٹ کمیٹی کے اجلاس کے دوران سامنے آیا، جہاں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے حکام نے موسمیاتی تبدیلیوں، قبل از وقت وارننگ سسٹمز اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاریوں پر بریفنگ دی۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ملک کو شدید گرمی کی لہروں، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں، فلیش فلڈز اور گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈز (GLOFs) جیسے خطرات کا سامنا ہے۔
حکام نے اعتراف کیا کہ موجودہ گلیشیئر مانیٹرنگ نظام ملک کے وسیع برفانی علاقوں کی مؤثر نگرانی کے لیے ناکافی ہے اور اس شعبے میں مزید تکنیکی سرمایہ کاری اور نگرانی کے نیٹ ورک کی توسیع ناگزیر ہو چکی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت متوقع ہے، جبکہ گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے شمالی علاقوں میں گلیشیئرز سے متعلق سیلابوں کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
ارکانِ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ پیش گوئی اور ڈیجیٹل الرٹ سسٹمز میں بہتری آئی ہے، تاہم وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر رابطے اور ہم آہنگی کا فقدان اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ ہنگامی حالات میں بروقت معلومات کی فراہمی اور اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری انتہائی ضروری ہے تاکہ جانی و مالی نقصانات کو کم کیا جا سکے۔
این ڈی ایم اے حکام کے مطابق قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی ذخائر، رابطہ کاری کے نظام اور تیاری کے منصوبے موجود ہیں، جبکہ ریئل ٹائم مانیٹرنگ ٹولز اور موبائل الرٹ سسٹمز کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔
اجلاس کے دوران چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے تعاون سے ملک بھر میں 350 گلیشیئر مانیٹرنگ ڈیوائسز نصب کی گئی ہیں، تاہم یہ تعداد مؤثر نگرانی کی ضروریات کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔
کمیٹی نے بین الاقوامی شراکت داروں کی جانب سے پیش کردہ جدید تکنیکی حلوں کا بھی جائزہ لیا، جن میں سیلاب کی پیشگی وارننگ فراہم کرنے والی سینسر ٹیکنالوجی شامل ہے۔
تاہم قانون سازوں نے واضح کیا کہ جدید ٹیکنالوجی اس وقت تک مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی جب تک ادارہ جاتی ہم آہنگی، بروقت فیصلہ سازی اور زمینی سطح پر تیز رفتار ردعمل کو یقینی نہ بنایا جائے۔
کمیٹی نے معاملہ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کو بھجواتے ہوئے سفارش کی کہ تمام متعلقہ اداروں پر مشتمل مشترکہ تکنیکی اجلاس بلایا جائے تاکہ موجودہ خامیوں کا جائزہ لے کر گلیشیئر اور سیلابی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے مستقبل کا نہیں بلکہ موجودہ دور کا ایک سنگین بحران بن چکی ہے، جو سیلاب، گرمی کی لہروں اور پانی سے متعلق آفات کی صورت میں لاکھوں افراد کو متاثر کر رہی ہے۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر رانا محمود الحسن نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مؤثر رابطہ کاری، جدید نگرانی اور تیز رفتار ردعمل ہی انسانی اور معاشی نقصانات کو کم کرنے کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
