آزاد کشمیر کے طلبہ کا ایم ڈی کیٹ شیڈول میں توسیع کا مطالبہ

نیوز ڈیسک

0

اسلام آباد:آزاد جموں و کشمیر (آزاد کشمیر) کے ہزاروں طلبہ نے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (MDCAT) کے رجسٹریشن اور امتحانی شیڈول میں توسیع کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملتوی شدہ انٹرمیڈیٹ امتحانات اور انٹرنیٹ کی مسلسل بندش کے باعث وہ دیگر تعلیمی بورڈز کے طلبہ کے مقابلے میں شدید نقصان کا شکار ہیں۔
طلبہ نے وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ حالات میں ایم ڈی کیٹ کی تیاری اور رجسٹریشن کا عمل ان کے لیے انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ملک کے بیشتر تعلیمی بورڈز کے طلبہ ایف ایس سی کے امتحانات مکمل کر چکے ہیں یا آخری مراحل میں ہیں، جبکہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میرپور کی جانب سے باقی ماندہ پرچے غیر معینہ مدت تک ملتوی کیے جانے کے بعد آزاد کشمیر کے طلبہ تاحال نئے شیڈول کے منتظر ہیں۔
طلبہ کے مطابق امتحانات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے ان کی تعلیمی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے اور وہ بیک وقت بورڈ امتحانات اور ملک کے اہم ترین داخلہ امتحان کی تیاری کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
ایک امیدوار نے کہا، “ہمیں انہی طلبہ کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے جن کے بورڈ امتحانات مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ ہم ابھی تک اپنے امتحانات کے نئے شیڈول کے انتظار میں ہیں۔”
طلبہ کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز کی بندش یا سست روی نے آن لائن کلاسز، ایم ڈی کیٹ تیاری کے مواد، رجسٹریشن پورٹل اور اساتذہ سے رابطے تک رسائی بھی محدود کر دی ہے۔
چونکہ ایم ڈی کیٹ کی رجسٹریشن مکمل طور پر آن لائن کی جاتی ہے، اس لیے طلبہ کو خدشہ ہے کہ انٹرنیٹ مسائل کی وجہ سے بعض امیدوار مقررہ وقت میں رجسٹریشن مکمل نہیں کر سکیں گے۔
موجودہ شیڈول کے مطابق ایم ڈی کیٹ رجسٹریشن کا آغاز 22 جون سے ہو چکا ہے جو 8 جولائی تک جاری رہے گا، جبکہ تاخیر سے رجسٹریشن کی سہولت 13 جولائی تک دستیاب ہوگی۔ امتحان 16 اگست کو منعقد ہونا ہے۔
طلبہ نے مطالبہ کیا ہے کہ رجسٹریشن اور امتحانی شیڈول میں مناسب توسیع کی جائے تاکہ انہیں بورڈ امتحانات مکمل کرنے اور ایم ڈی کیٹ کی تیاری کے لیے مساوی مواقع میسر آ سکیں۔
یہ مسئلہ صرف آزاد کشمیر کے مقامی طلبہ تک محدود نہیں بلکہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے وہ طلبہ بھی متاثر ہو رہے ہیں جو آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں اور کیڈٹ کالجوں میں زیر تعلیم ہیں۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں دیگر بورڈز کے امیدوار مکمل توجہ کے ساتھ ایم ڈی کیٹ کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ آزاد کشمیر کے طلبہ ملتوی امتحانات، رجسٹریشن مسائل اور غیر یقینی تعلیمی شیڈول کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
متعدد طلبہ نے سڑکوں کی بندش، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور نقل و حرکت پر پابندیوں کے باعث اکیڈمیوں اور کوچنگ سینٹرز تک رسائی میں دشواریوں کی بھی نشاندہی کی ہے۔
متاثرہ طلبہ کا مؤقف ہے کہ وہ کسی خصوصی رعایت کے خواہاں نہیں بلکہ صرف مساوی مواقع اور منصفانہ مقابلے کے حق دار ہیں۔
انہوں نے پی ایم ڈی سی، آزاد کشمیر بورڈ اور وفاقی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مشاورت کے بعد ایک واضح لائحہ عمل کا اعلان کریں جو بورڈ امتحانات اور ایم ڈی کیٹ شیڈول سے متعلق تمام خدشات کو دور کر سکے۔
والدین نے بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ برسوں کی محنت سے میڈیکل کالج میں داخلے کا خواب دیکھنے والے طلبہ کو ایسے حالات کی سزا نہیں ملنی چاہیے جو ان کے اختیار سے باہر ہیں۔
اس حوالے سے مؤقف جاننے کے لیے پی ایم ڈی سی سے رابطہ کیا گیا، تاہم خبر فائل کیے جانے تک کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا تھا۔
ہزاروں طلبہ کا مستقبل اس معاملے سے وابستہ ہے اور امیدواروں کو امید ہے کہ متعلقہ حکام جلد کوئی ایسا فیصلہ کریں گے جو ان کے لیے منصفانہ اور قابلِ عمل ہو۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.