ایران کے 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ پر سوالات، اخراجات کون اٹھائے گا؟

نیوز ڈیسک

0

اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے پر جاری سفارتی کوششوں کے دوران ایک اہم سوال سامنے آ گیا ہے: ایران کی مجوزہ 300 ارب ڈالر کی تعمیر نو اور اقتصادی بحالی کے منصوبے کے لیے مالی وسائل کہاں سے آئیں گے؟

یہ معاملہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیوکے خلیجی ممالک کے حالیہ دورے میں بھی زیر بحث آیا، جہاں انہوں نے متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔
امریکی حکام خلیجی اتحادیوں کو یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا کوئی بھی ممکنہ معاہدہ خطے کے سکیورٹی مفادات کو متاثر نہیں کرے گا۔ تاہم خلیجی ریاستیں اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں کہ معاہدے کے نتیجے میں ایران کو حاصل ہونے والے مالی فوائد خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ابتدائی مذاکراتی دستاویزات میں ایران کی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے ایک تعمیر نو پیکج کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اس حوالے سے مجوزہ فریم ورک کو معاہدے کے بعد 60 روز کے اندر حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔
تاہم خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ اتنی بڑی مالی معاونت ایران کو صرف اقتصادی بحالی ہی نہیں بلکہ اپنے علاقائی اثر و رسوخ اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ ان خدشات میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب ابتدائی مذاکرات میں ایران کے میزائل پروگرام سے متعلق واضح شرائط سامنے نہیں آئیں۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور قطر جیسے ممالک، جہاں اہم امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، اس معاملے پر خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ ماضی میں ان ممالک کو ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے خطرات کا سامنا بھی رہا ہے، جس کے باعث سکیورٹی خدشات ان کی اولین ترجیح ہیں۔
اسی تناظر میں خلیجی حکومتیں یہ جاننا چاہتی ہیں کہ ایران کسی بھی ممکنہ مالی امداد یا تعمیر نو پیکج کے بدلے کیا ضمانتیں اور رعایتیں فراہم کرے گا۔ اب تک کسی عرب ملک نے مجوزہ فنڈ میں شمولیت یا مالی تعاون کی باضابطہ حمایت نہیں کی۔
فنڈنگ کا معاملہ مذاکرات کے سب سے پیچیدہ اور حساس نکات میں شمار کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی ابتدائی بات چیت کے بعد ایران کے منجمد اثاثوں کے ممکنہ استعمال سے متعلق ایک تجویز پیش کی ہے۔
ان کے مطابق اگر ایران کے منجمد اثاثے بحال کیے جاتے ہیں تو ایک ایسا نظام وضع کیا جا سکتا ہے جس کے تحت یہ فنڈز براہِ راست ایرانی عوام کی فلاح و بہبود، خوراک اور بنیادی ضروریات کی فراہمی پر خرچ ہوں۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکہ اور قطر مشترکہ نگرانی کے تحت ان فنڈز کے استعمال کو یقینی بنا سکتے ہیں تاکہ رقوم عوامی فلاح کے منصوبوں تک محدود رہیں۔
ادھر ایران نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس کے منجمد اثاثوں کے استعمال کا اختیار مکمل طور پر ایرانی حکام کے پاس ہونا چاہیے۔
ایران کے مرکزی بینک کے حکام کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک موجود ایرانی اثاثوں کے بارے میں فیصلے صرف ایران ہی کر سکتا ہے۔ مختلف اندازوں کے مطابق عالمی پابندیوں کے باعث ایران کے تقریباً 100 سے 120 ارب ڈالر کے اثاثے دنیا بھر کے مختلف بینکوں میں منجمد ہیں۔
مالی معاملات کے ساتھ ساتھ علاقائی سلامتی، خلیج میں استحکام اور آبنائے ہرمز کے مستقبل سے متعلق امور بھی امریکہ اور خلیجی ممالک کے درمیان جاری مشاورت کا اہم حصہ ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے لیے مجوزہ تعمیر نو فنڈ صرف ایک مالی معاملہ نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں مستقبل کے سیاسی اور سکیورٹی توازن سے جڑا ایک اہم سفارتی امتحان بھی بن چکا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.