اسلام آباد: ماحولیاتی ماہرین، تحفظِ فطرت کے کارکنوں اور قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کئی دہائیوں سے جاری ماحولیاتی تنزلی، تجاوزات اور قوانین پر کمزور عمل درآمد کے باعث مارگلہ ہلز نیشنل پارک شدید خطرات سے دوچار ہے۔ انہوں نے حکام پر زور دیا کہ سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کے تحت حاصل ہونے والے تحفظاتی اقدامات کو کسی صورت کمزور نہ کیا جائے۔
ڈویلپمنٹ کمیونیکیشنز نیٹ ورک (ڈیوکوم پاکستان) کے زیر اہتمام ایک ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے خدشہ ظاہر کیا کہ وفاقی آئینی عدالت میں زیر سماعت نظرثانی درخواست کے نتیجے میں پارک کے تحفظ کے لیے قائم قانونی حفاظتی اقدامات متاثر ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں ایک سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے زمین کے استعمال کے ضوابط، غیر قانونی تعمیرات اور تجارتی مفادات کے لیے قدرتی وسائل کے استحصال جیسے مسائل کو نمایاں کیا تھا۔
وزیراعظم کے سابق مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا کہ عدالتی فیصلے نے غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے اور پارک کے قدرتی ماحول کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کے خلاف فوری اقدامات کی ضرورت اجاگر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آلودگی، ناقص ویسٹ مینجمنٹ اور غیر منظم ترقیاتی منصوبے آج بھی پارک کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان نے کہا کہ قوانین پر عمل درآمد سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ان کے مطابق صرف عدالتی احکامات کافی نہیں، جب تک متعلقہ ادارے خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کرتے، پارک کا تحفظ ممکن نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک پاکستان میں پائی جانے والی پرندوں کی تقریباً 40 فیصد دستاویزی انواع اور نایاب جنگلی حیات، خصوصاً عام چیتے، کا مسکن ہے، تاہم غیر منظم شہری توسیع اور تجاوزات اس قدرتی ورثے کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
شرکاء نے پارک کے انتظام اور نگرانی کے ذمہ دار مختلف اداروں کے درمیان کمزور رابطہ کاری پر بھی تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ پارک کی حدود کا واضح تعین کیا جائے اور تمام غیر قانونی قبضے فوری طور پر ختم کیے جائیں۔
ماہرین نے مارگلہ ہلز کو ’’اسلام آباد کے پھیپھڑے‘‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ تیز رفتار شہری پھیلاؤ، تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ اور غیر مجاز تعمیرات پارک کے قدرتی حسن اور ماحولیاتی اہمیت کو مستقل نقصان پہنچا رہی ہیں۔
ویبینار میں پارک کے اندر تجارتی اور سیاحتی منصوبوں کی اجازت دینے کی کوششوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ زمین کے استعمال سے متعلق پابندیوں میں کسی بھی قسم کی نرمی مستقبل میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے خطرناک مثال بن سکتی ہے۔
پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (پاک ای پی اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرل آصف شجاع خان نے معاملے کی پارلیمانی سطح پر جانچ پڑتال کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کی متعلقہ قائمہ کمیٹی کو اس معاملے کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ موجودہ تحفظاتی اقدامات مؤثر انداز میں نافذ ہو رہے ہیں۔
سی ڈی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سرور سندھو نے پارک کے ماسٹر پلان پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ ماہر ماحولیات نصیر گیلانی نے کہا کہ ماحولیاتی پالیسیوں اور ان پر عمل درآمد کے درمیان موجود خلا نے تحفظاتی کوششوں کو کمزور کیا ہے۔
ویبینار کے اختتام پر شرکاء نے ادارہ جاتی احتساب کو مضبوط بنانے، ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے اور مارگلہ ہلز نیشنل پارک کو تجاوزات اور غیر پائیدار ترقیاتی منصوبوں سے محفوظ رکھنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
