باجوڑ
ادب اکثر خطرات کو سیاسی سائنس دانوں اور پالیسی سازوں سے کہیں پہلے پہچان لیتا ہے۔ عظیم ناول محض کہانیاں نہیں سناتے بلکہ معاشروں کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور انہیں نظرانداز کرنے کے نتائج سے خبردار کرتے ہیں۔
پاکستان کے تناظر میں دو اہم تخلیقات — بپسی سدھوا کا آئس کینڈی مین اور چنوا اچیبے کا تھنگز فال اپارٹ — ادارہ جاتی زوال، سماجی تقسیم اور بدلتے حالات کے مطابق ڈھلنے میں قیادت کی ناکامی کے حوالے سے گہرے اسباق فراہم کرتی ہیں۔
سدھوا کی تقسیم کی عکاسی صرف جغرافیائی تقسیم کی کہانی نہیں بلکہ سماجی اعتماد کے ٹوٹنے اور نسلوں سے ساتھ رہنے والی برادریوں کے بکھرنے کی طاقتور تصویر ہے۔ سیاسی فیصلے جب عام انسانوں کی زندگیوں سے کٹ جاتے ہیں تو اس کے نتیجے میں تشدد، خوف اور نقل مکانی جنم لیتے ہیں۔ ایسے حالات میں ادارے بحران کو سنبھالنے میں ناکام رہتے ہیں اور سماجی ڈھانچہ بتدریج کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔
یہ ناول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تہذیبیں اچانک نہیں گرتیں بلکہ آہستہ آہستہ کمزور ہوتی ہیں یہاں تک کہ دراڑیں ناقابلِ مرمت ہو جاتی ہیں۔
اسی طرح اچیبے کا ناول مختلف تاریخی و جغرافیائی پس منظر کے باوجود ایک ہی انتباہ پیش کرتا ہے۔ *تھنگز فال اپارٹ* میں ایگبو معاشرے کا المیہ نہ صرف بیرونی مداخلت کا نتیجہ ہے بلکہ روایتی اداروں کی بدلتے حالات سے ہم آہنگ نہ ہونے کی ناکامی بھی اس کا سبب بنتی ہے۔ جب موجودہ ڈھانچے اپنی ساکھ اور افادیت کھو دیتے ہیں تو معاشرہ تیزی سے کمزور ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ مشہور جملہ حقیقت بن جاتا ہے کہ “مرکز قائم نہیں رہ سکتا”۔
آج پاکستان ان ادبی مناظر کی براہِ راست عکاسی نہیں کرتا، تاہم بنیادی اسباق اب بھی پوری شدت سے متعلق ہیں۔ ملک بھر میں حکمرانی پر بڑھتا ہوا عدم اطمینان، سیاسی تقسیم میں اضافہ، اداروں پر عوامی اعتماد میں کمی اور عدم استحکام کے بار بار پیدا ہونے والے چکر واضح نظر آتے ہیں۔ یہ صورتحال جمہوریت کے خاتمے کی علامت نہیں بلکہ ایک گہری ادارہ جاتی تھکن کی نشاندہی کرتی ہے۔
کئی دہائیوں سے پاکستان کا پارلیمانی نظام جمہوری ڈھانچہ فراہم کرتا رہا ہے، مگر مسلسل اتحادی سیاست، سیاسی محاذ آرائی، بدلتے اتحاد اور پالیسی کے عدم تسلسل نے اس کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حکومتیں بدلتی ہیں، اسمبلیاں تحلیل ہوتی ہیں، سیاسی قوتیں گردش کرتی ہیں، مگر بنیادی ساختی مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔ معاشی غیر یقینی، انتظامی کمزوری اور متضاد پالیسی سازی عوامی اعتماد کو مزید کمزور کر رہی ہے۔
اسی پس منظر میں صدارتی نظام کے حوالے سے بحث کو دوبارہ توجہ ملی ہے۔ اس کے حامیوں کا خیال ہے کہ یہ ماڈل زیادہ انتظامی استحکام، واضح جوابدہی اور پالیسی تسلسل فراہم کر سکتا ہے۔ تاہم اس بحث سے قطع نظر ایک حقیقت واضح ہے کہ بہت سے شہری موجودہ نظام سے آگے کسی متبادل کی تلاش میں ہیں۔
اس کے باوجود صرف آئینی ڈھانچے کی تبدیلی پاکستان کے مسائل کا حل نہیں۔ اصل سبق یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے کی مضبوطی کا دارومدار اس کے اداروں کی کارکردگی پر ہوتا ہے، نہ کہ صرف سیاسی نعروں پر۔ احتساب کے بغیر صدارتی نظام بھی اتنا ہی ناکام ہو سکتا ہے جتنا اصلاحات کے بغیر پارلیمانی نظام۔
پاکستان کی حقیقی ضرورت ادارہ جاتی مضبوطی ہے۔ طاقت کا ارتکاز صرف وفاق یا صوبائی دارالحکومتوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے مقامی حکومتوں، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں اور کمیونٹی سطح کی قیادت تک منتقل ہونا چاہیے۔ جب شہری اپنی روزمرہ زندگی سے جڑے فیصلوں میں مؤثر کردار ادا کریں تو جمہوریت حقیقی معنوں میں مضبوط ہوتی ہے۔
اگر پاکستان کسی صدارتی ماڈل پر غور کرے بھی تو اسے لازماً مؤثر وکندریقرت کے ساتھ جوڑا جانا چاہیے۔ اختیارات کو اوپر مرکوز کرنے کے بجائے مختلف سطحوں پر تقسیم کرنا ضروری ہے۔ مقامی حکومتوں کو انتظامی توسیع کے بجائے حقیقی فیصلہ سازی کے مراکز بننا ہوگا تاکہ وہ ترقی، تعلیم، عوامی خدمات اور فلاحی منصوبوں کی مؤثر نگرانی کر سکیں۔
پاکستان کے نوجوان اس عمل میں مرکزی کردار رکھتے ہیں۔ ملک کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، اور یہی طبقہ ادارہ جاتی اصلاحات اور قومی تجدید میں سب سے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مستقبل کی تعمیر پرانی سیاسی دشمنیوں اور تعصبات کی بنیاد پر ممکن نہیں بلکہ شہری شمولیت، پالیسی جدت، جمہوری شرکت اور شفاف حکمرانی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
آئس کینڈی مین اورتھنگز فال اپارٹ میں موجود انتباہ حتمی ناکامی کی پیش گوئی نہیں کرتے بلکہ یہ یاد دلاتے ہیں کہ جب ادارے اپنی مطابقت کھو دیں اور قیادت ابھرتی ہوئی دراڑوں کو نظر انداز کرے تو معاشرے کمزور ہو جاتے ہیں۔
مضبوط قومیں اس لیے قائم نہیں رہتیں کہ وہ بحرانوں سے بچ جاتی ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ بحران آنے سے پہلے اصلاحات کر لیتی ہیں۔
