معیشت کی بنیاد، تحفظ سے محروم

عاصم مصطفیٰ اعوان

0

اسلام آباد
میدان وسیع ہے۔ زمین تیار ہے۔ کھیت پر کھنچی ہوئی لکیریں ان نسلوں کے نظم و ضبط کی گواہی دیتی ہیں جنہوں نے مٹی، موسموں اور غیر یقینی حالات کے ساتھ زندگی گزاری ہے۔ انہی کھیتوں کے درمیان ایک عمر رسیدہ کسان کھڑا ہے، ہاتھ میں ایک سادہ زرعی آلہ تھامے، ایک ایسی روزمرہ جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے جو پوری زندگی اس کی شناخت بنی رہی ہے۔
اس کے اردگرد نہ کوئی جدید مشینری ہے، نہ جدید زرعی آلات، اور نہ ہی آسودگی کی کوئی علامت۔ صرف ایک بوڑھا آدمی، زمین کا ایک مختصر سا ٹکڑا، اور ایسا عزم جو ماند پڑنے سے انکاری ہے۔
اس کے کپڑے اس کے الفاظ سے پہلے اس کی کہانی بیان کر دیتے ہیں۔

اس کی گھسی ہوئی چپلیں اور تھکا ہوا اندازِ بدن اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں جو اکثر سرکاری بیانات اور پالیسی اعلانات کے پیچھے اوجھل رہ جاتی ہے۔ ایک زرعی ملک کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے کسان کی زندگی آج بھی اسی قدیم جدوجہد کے گرد گھومتی ہے—یہ یقین دہانی کہ کل کا دن بھی گزر جائے گا۔
پاکستان کے کھیت ہمیشہ ایسے ہی ہاتھوں کے مرہونِ منت رہے ہیں؛ وہ ہاتھ جو بیج بوتے ہیں، وہ ہاتھ جو فصل کاٹتے ہیں، اور وہ ہاتھ جو تپتی دھوپ میں محنت کرتے ہیں، جبکہ دوسرے لوگ ایئر کنڈیشنڈ دفاتر میں بیٹھ کر زراعت پر گفتگو کرتے ہیں۔معیشت کی بنیاد، تحفظ سے محروممگر یہ تصویر ایک بے چین کر دینے والا سوال بھی اٹھاتی ہے: اگر زراعت ملکی معیشت کی بنیاد ہے تو پھر اتنے زیادہ کسان آج بھی بنیادی تحفظ اور معاشی استحکام کے لیے کیوں جدوجہد کر رہے ہیں؟
اس سوال کا جواب کہیں پالیسی اور عملدرآمد کے درمیان پوشیدہ ہے۔ امدادی پیکجز، سبسڈیز اور اصلاحات کاغذوں پر ضرور موجود ہو سکتی ہیں، لیکن ان کی اصل کامیابی کا پیمانہ کھیتوں میں کھڑے ان لوگوں کی زندگیوں میں بہتری ہے جن کے لیے یہ اقدامات کیے جاتے ہیں۔ بہت سے چھوٹے کسانوں کے لیے بقا کا انحصار محض اعلانات پر نہیں بلکہ وسائل تک رسائی، سہولیات اور منصفانہ مواقع کی دستیابی پر ہے۔
اس کسان کے چہرے پر دہائیوں کی محنت نقش ہے۔ اس کے چہرے کی ہر لکیر گزرے ہوئے موسموں، فصلوں سے وابستہ امیدوں اور خاموشی سے برداشت کی جانے والی مشکلات کی داستان سناتی ہے۔
وہ ہمدردی کا طلبگار نہیں؛ وہ صرف اپنی محنت کے اعتراف کا خواہاں ہے۔
دنیا جدید زرعی تکنیکوں، ٹیکنالوجی اور خوراک پیدا کرنے والوں کے لیے بہتر تحفظ کی جانب بڑھ چکی ہے، لیکن بہت سے کسانوں کے لیے جدوجہد آج بھی ویسی ہی روایتی اور کٹھن ہے—ایک عمر رسیدہ جسم جو زمین پر مسلسل محنت کر رہا ہے، کیونکہ رک جانا اس کے لیے ممکن نہیں۔
ایک ایسا ملک جو اپنے کسانوں پر انحصار کرتا ہو، وہ انہیں نظرانداز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
کیونکہ ہر دسترخوان پر رکھی جانے والی ہر پلیٹ کے پیچھے کوئی نہ کوئی ایسا شخص موجود ہوتا ہے۔ کوئی جو طلوعِ آفتاب سے پہلے بیدار ہو جاتا ہے۔ کوئی جو تھکن کی آخری حد تک کام کرتا ہے۔ کوئی جو زمین کو زندہ رکھتا ہے، حتیٰ کہ جب اس کی اپنی زندگی ایک مسلسل جدوجہد بن چکی ہو۔
یہ تصویر صرف فیصل آباد کے ایک کسان کی نہیں، بلکہ ہر اُس ہاتھ کی نمائندگی کرتی ہے جو پوری قوم کو خوراک فراہم کرتا ہے، مگر خود آج بھی اپنے حصے کے تحفظ، وقار اور معاشی سلامتی کا منتظر ہے۔
فوٹو: اے پی پی

Leave A Reply

Your email address will not be published.