اسلام آباد:پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم نے ہفتے کو برسٹل کاؤنٹی گراؤنڈ میں نیدرلینڈز کو 37 رنز سے شکست دے کر آئی سی سی ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کی مہم کا اختتام جیت کے ساتھ کیا۔ یہ ٹورنامنٹ میں پاکستان کی پہلی اور واحد کامیابی رہی۔
اگرچہ پاکستان اپنے ابتدائی چار گروپ میچز میں شکست کے باعث پہلے ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکا تھا، تاہم قومی ٹیم نے آخری میچ میں نظم و ضبط اور عمدہ آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مہم کا اختتام مثبت انداز میں کیا۔
ٹاس ہار کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 126 رنز بنائے۔ اوپنر گل فیروزہ نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 52 گیندوں پر 9 چوکوں کی مدد سے ناقابلِ شکست 63 رنز اسکور کیے۔ انہوں نے اننگز کو ابتدا سے آخر تک سنبھالے رکھا اور عائشہ ظفر کے ساتھ دوسری وکٹ کے لیے 79 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔
عائشہ ظفر نے 29 گیندوں پر 32 رنز کی مفید اننگز کھیلی، جس میں دو چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ وہ 14ویں اوور میں آؤٹ ہوئیں۔ اختتامی اوورز میں پاکستان نے چند وکٹیں ضرور گنوائیں، تاہم ٹیم ایک مسابقتی مجموعہ ترتیب دینے میں کامیاب رہی۔
نیدرلینڈز کی جانب سے ایرس زیولنگ نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے چار اوورز میں 19 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں۔
127 رنز کے ہدف کے تعاقب میں نیدرلینڈز نے 14 اوورز میں تین وکٹوں کے نقصان پر 76 رنز بنا لیے تھے اور وہ مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہی تھی، لیکن اس کے بعد پاکستانی بولرز نے شاندار کم بیک کرتے ہوئے میچ کا نقشہ بدل دیا۔
عائشہ ظفر نے 15ویں اوور میں ڈبل وکٹ میڈن کرا کر نیدرلینڈز کی بیٹنگ لائن کو شدید نقصان پہنچایا۔ انہوں نے روبین رجکے اور سانیا کھرانہ کو آؤٹ کرنے کے بعد اگلے اوور میں ایک اور وکٹ حاصل کی اور 13 رنز کے عوض تین وکٹیں لے کر نمایاں رہیں۔
اس کے بعد کپتان فاطمہ ثناء نے تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف پانچ گیندوں کے دوران تین کھلاڑیوں کو پویلین بھیج دیا۔ انہوں نے آخری اوور میں ٹرپل وکٹ میڈن کرائی اور 12 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں، جس کی بدولت نیدرلینڈز کی پوری ٹیم 18 اوورز میں 89 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔
نیدرلینڈز کی جانب سے اوپنر ہیتھر سیگرز نے 24 جبکہ کپتان بابیٹ ڈی لیڈ نے 30 رنز بنائے، تاہم دیگر بیٹرز پاکستانی بولرز کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے۔
فاطمہ ثناء نے ٹورنامنٹ کا اختتام مجموعی طور پر 11 وکٹوں کے ساتھ کیا، جو پاکستان کی جلد رخصتی کے باوجود ان کی مستقل اور مؤثر بولنگ کا ثبوت ہے۔
ناقابلِ شکست نصف سنچری کھیلنے پر گل فیروزہ کو میچ کی بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
پاکستان نے اپنی ورلڈ کپ مہم پانچ میچوں میں ایک فتح کے ساتھ مکمل کی۔ قومی ٹیم کو بھارت، جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش اور آسٹریلیا کے خلاف شکستوں کا سامنا کرنا پڑا، تاہم آخری گروپ میچ میں نیدرلینڈز کو شکست دے کر اس نے ٹورنامنٹ کا اختتام حوصلہ افزا انداز میں کیا۔
