آج ٹائر، کل اوزار

پانچ کم سن لڑکے ایک پرانے ٹائر کو لکڑی سے دھکیلتے ہوئے کچی سڑک پر دوڑ رہے ہیں۔ یہ نظر جتنا خوبصورت ہے، اتنا ہی دل کو چھو لینے والا بھی۔

0

عاصم مصطفیٰ اعوان
اسلام آباد: پانچ کم سن لڑکے ایک پرانے ٹائر کو لکڑی سے دھکیلتے ہوئے کچی سڑک پر دوڑ رہے ہیں۔ ان کی قہقہوں سے دوپہر گونج رہی ہے۔ ان کے ننھے قدم تیزی سے زمین پر پڑتے ہیں اور چند لمحوں کے لیے وہ بالکل ویسے ہی نظر آتے ہیں جیسے بچوں کو ہونا چاہیے؛ بے فکر، مقابلے کے جذبے سے بھرپور اور کھیل میں پوری طرح مگن۔
یہ منظر جتنا خوبصورت ہے، اتنا ہی دل کو چھو لینے والا بھی۔
ان میں سے شاید ہی کوئی دس برس سے بڑا ہو۔ ان کا کھلونا کسی مہنگی دکان سے نہیں خریدا گیا بلکہ کباڑ سے نکالا گیا ایک پرانا ٹائر ہے۔ کوئی ننگے پاؤں دوڑ رہا ہے، تو کسی کے پاؤں میں گھسی ہوئی چپل ہے۔ ان کے سادہ اور پرانے کپڑے خاموشی سے ان گھروں کی کہانی سناتے ہیں جہاں ہر روپیہ قیمتی ہوتا ہے اور کسی چیز کو ضائع کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔
لیکن ان چہروں پر فکر کا کوئی نشان نہیں۔
بچپن میں معمولی سے معمولی چیز میں بھی خوشی تلاش کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت ہوتی ہے۔ بچوں کو ایک پرانا ٹائر مل جائے تو وہ اسے دوڑ کا مقابلہ بنا لیتے ہیں۔ کھلی سڑک مل جائے تو وہی ان کا کھیل کا میدان بن جاتی ہے، اور چند گھنٹوں کی فرصت ایسی یادیں تخلیق کر دیتی ہے جن کی جگہ دنیا کا مہنگا ترین کھلونا بھی نہیں لے سکتا۔
مگر ہر تصویر صرف وہی نہیں بتاتی جو نظر آ رہا ہو، بلکہ وہ بھی سنا دیتی ہے جو فریم سے باہر رہ جاتا ہے۔
شاید ایک یا دو سال بعد یہی بچے ٹائر نہیں دوڑا رہے ہوں گے۔ ان میں سے بہت سے کسی ورکشاپ، چائے کے ہوٹل، مکینک کی دکان یا سڑک کنارے کسی کاروبار میں “چھوٹے” کے طور پر کام کر رہے ہوں گے۔ ان کے ننھے ہاتھ کھیل کے بجائے اوزار اٹھانا سیکھ چکے ہوں گے۔ آج جو دوڑ صرف کھیل ہے، کل شاید روزی کی دوڑ بن جائے۔
ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
تعلیم ہی وہ راستہ ہے جو اس کہانی کا انجام بدل سکتا ہے، مگر پاکستان میں آج بھی لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں۔ ہر وہ بچہ جو کلاس روم تک نہیں پہنچ پاتا، محض ایک اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک ایسا خواب ہے جسے حقیقت بننے کا موقع ہی نہیں ملا۔
غربت اکثر بچپن کو زیادہ دیر بچپن نہیں رہنے دیتی۔ جب گھر کا خرچ چلانا مشکل ہو جائے تو خاندان کا ہر فرد، چاہے وہ کتنا ہی کم عمر کیوں نہ ہو، اس بوجھ میں شریک ہو جاتا ہے۔
اس تصویر میں دکھائی دینے والی مسکراہٹیں بالکل حقیقی ہیں، لیکن ان کے مستقبل کی غیر یقینی بھی اتنی ہی حقیقی ہے۔
یہ بچے ابھی مہنگائی، بے روزگاری یا اپنے والدین کی روزمرہ جدوجہد کو نہیں سمجھتے۔ وہ صرف اتنا جانتے ہیں کہ دوست سے پہلے منزل تک پہنچنے میں کتنی خوشی ہوتی ہے۔
شاید یہی معصومیت اس تصویر کا سب سے قیمتی پہلو ہے۔
بچوں کو اوزاروں کی نہیں، کتابوں کی طرف دوڑنا چاہیے۔ انہیں ورکشاپوں کی نہیں، کھیل کے میدانوں اور کلاس رومز کی راہ لینی چاہیے۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا اندازہ صرف اعداد و شمار، رپورٹوں یا سرکاری دعوؤں سے نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ اس بات سے بھی لگایا جانا چاہیے کہ اس کے بچے کتنے آزاد ہیں کہ وہ سیکھ سکیں، خواب دیکھ سکیں اور صرف بچے رہ سکیں۔
یہ پانچ بچے کسی ہمدردی کے طلبگار نہیں۔
وہ صرف ایک موقع چاہتے ہیں… ایسا موقع جس میں وہ اپنے مستقبل کو پیچھے چھوڑے بغیر دوڑتے رہ سکیں۔
فوٹو کریڈٹ: اے پی پی

Leave A Reply

Your email address will not be published.