کیا واقعی ٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی عوامی مقبولیت اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، تاہم حالیہ قومی سروے اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔
نیوز ڈیسک
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی عوامی مقبولیت اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، تاہم حالیہ قومی سروے اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔
صدر ٹرمپ نے پیر کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں لکھا، “میرے پول نمبرز اب تک کے سب سے زیادہ ہیں، حتیٰ کہ 5 نومبر کے انتخابی دن سے بھی زیادہ۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ سب اس حقیقت کے باوجود ہے کہ “ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔”
تاہم، حالیہ ہفتوں میں جاری ہونے والے کسی بھی بڑے قومی سروے میں ٹرمپ کی منظوری کی شرح کو ریکارڈ سطح پر نہیں دکھایا گیا۔
تازہ سروے کیا بتاتے ہیں؟
رواں ماہ کے آغاز میں فاکس نیوز کے سروے کے مطابق 39 فیصد امریکیوں نے صدر ٹرمپ کی کارکردگی کو سراہا، جبکہ 60 فیصد نے اسے ناپسند کیا۔
دیگر معتبر اداروں کے سروے بھی تقریباً یہی تصویر پیش کرتے ہیں۔
رائٹرز/ایپسوس کے سروے میں 34 فیصد منظوری اور 64 فیصد عدم منظوری سامنے آئی۔
مارکویٹ لاء اسکول کے سروے میں 38 فیصد منظوری جبکہ 62 فیصد عدم منظوری ریکارڈ کی گئی۔
کوئنی پیاک یونیورسٹی کے سروے کے مطابق 38 فیصد امریکی ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن جبکہ 55 فیصد غیر مطمئن ہیں۔
Strength in Numbers/Verasight کے سروے میں 37 فیصد منظوری اور 60 فیصد عدم منظوری سامنے آئی۔
مجموعی رجحان کیا ہے؟
امریکی میڈیا اداروں کی جانب سے مرتب کردہ مختلف قومی پولز کی اوسط بھی یہی ظاہر کرتی ہے کہ ٹرمپ کی عدم مقبولیت، ان کی مقبولیت سے مسلسل زیادہ رہی ہے۔
اگرچہ مختلف سرویز کے طریقۂ کار، نمونے کے حجم اور وقت میں فرق کی وجہ سے نتائج میں معمولی تبدیلی آ سکتی ہے، لیکن حالیہ قومی پولنگ کا مجموعی رجحان ایک ہی سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔
ریپبلکن ووٹروں میں بھی کمی
فاکس نیوز کی پولنگ کے مطابق مرد ووٹرز، سفید فام امریکیوں، سفید فام ایونجیلیکل عیسائیوں اور ریپبلکن ووٹروں جیسے اہم طبقات میں بھی ٹرمپ کی منظوری کی شرح ان کی صدارت کے دوران ریکارڈ کی گئی کم ترین سطح کے قریب رہی۔
وائٹ ہاؤس نے وضاحت نہیں کی
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں جن “ریکارڈ پول نمبرز” کا ذکر کیا، وائٹ ہاؤس نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کس سروے یا اعداد و شمار کا حوالہ دے رہے تھے۔
جب امریکی میڈیا نے اس بارے میں وضاحت طلب کی تو انتظامیہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
تاحال دستیاب قومی سرویز اور پولنگ کے اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری کی شرح ان کی عدم منظوری سے کم ہے۔ اس لیے ان کا یہ دعویٰ کہ ان کی مقبولیت اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، موجودہ عوامی پولنگ سے مطابقت نہیں رکھتا۔
اس حادثے میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ 24 سالہ بشریٰ آج بھی لاپتا ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں پانچویں روز بھی دریائے سوات میں ان کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، مگر اب تک کوئی کامیابی نہیں مل سکی۔
