نیوز ڈیسک
فٹبال ورلڈ کپ کا فائنل ہو یا کوئی عام میچ، دنیا بھر کے شائقین کی نظریں کھلاڑیوں، حکمت عملیوں اور یادگار لمحات پر مرکوز رہتی ہیں، لیکن میدان کے مرکز میں موجود گیند بھی اپنی ایک الگ سائنسی کہانی رکھتی ہے۔
ورلڈ کپ کی گیند محض چمڑے یا مصنوعی مواد سے تیار کیا گیا ایک گول جسم نہیں بلکہ ریاضی، جیومیٹری اور جدید انجینئرنگ کا شاہکار ہوتی ہے۔ اس کے ہر پینل، ہر خم اور سطح کی ساخت کو اس انداز میں ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ گیند ہوا میں متوازن حرکت کرے، درست رفتار حاصل کرے اور کھلاڑیوں کے لیے قابلِ اعتماد ثابت ہو۔
اسی پوشیدہ سائنس کو اجاگر کرنے کے لیے نیویارک میں نیشنل میوزیم آف میتھمیٹکس نے “فٹ بال کی خفیہ جیومیٹری” کے عنوان سے خصوصی سیشن کا انعقاد کیا، جس میں بتایا گیا کہ دنیا کے مقبول ترین کھیل کے پیچھے کس طرح پیچیدہ ریاضیاتی اصول کام کرتے ہیں۔
ریاضی دان ڈاکٹر چیم گڈمین اسٹراس کے مطابق ریاضی صرف نمبروں تک محدود نہیں بلکہ عمارتوں، قدرتی اشکال، روشنی کے سائے اور کھیلوں کے ڈیزائن میں بھی موجود ہوتی ہے۔ ان کے مطابق فٹ بال ریاضیاتی توازن کی ایک بہترین مثال ہے۔
روایتی 32 پینل والی فٹ بال، جس میں سیاہ پینٹاگون اور سفید مسدس شامل ہوتے ہیں، ایک ایسی جیومیٹری کی نمائندگی کرتی ہے جو تقریباً مکمل کرہ بنانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ یہ ڈیزائن گیند کو ہر سمت میں یکساں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
1970 اور 1974 کے ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والی مشہور ایڈیڈاس ٹیلسٹر گیند اس جیومیٹری کی عالمی علامت بن گئی تھی۔ اس میں 12 سیاہ پینٹاگون اور 20 سفید مسدس پینلز شامل تھے، جنہوں نے فٹ بال کے روایتی ڈیزائن کو دنیا بھر میں شناخت دی۔
تاہم جدید دور کی ورلڈ کپ گیندوں میں ڈیزائن مزید پیچیدہ اور سائنسی ہوگیا ہے۔ 2026 ورلڈ کپ کی آفیشل گیند ٹریونڈا تین میزبان ممالک کینیڈا، میکسیکو اور امریکا سے متاثر ہے، جس کا مطلب “تین لہریں” ہے۔
ٹریونڈا میں روایتی سیدھے کناروں والے پینلز کے بجائے خم دار، لہروں جیسے ایس شکل کے ڈیزائن شامل کیے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس ساخت کا مقصد گیند کو مختلف زاویوں سے حرکت دینے کے باوجود اس کا توازن برقرار رکھنا ہے۔
ایڈیڈاس کے فٹ بال ڈیزائن ماہر ہینس شیفکے کے مطابق ایک جدید فٹ بال تیار کرنے کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہوتا ہے کہ تین جہتی سطح پر تمام حصوں کو اس طرح تقسیم کیا جائے کہ گیند ہر سمت میں یکساں خصوصیات برقرار رکھے۔
کچھ تخلیق کاروں نے فٹ بال جیومیٹری کو روایتی حدود سے بھی آگے لے جانے کی کوشش کی ہے۔ امریکی کاریگر جان پال وہٹلی نے ایسی “ناممکن گیند” تیار کی جس میں ایسے پینلز دکھائی دیتے ہیں جو ریاضی کے اعتبار سے مکمل کرہ تشکیل نہیں دے سکتے، لیکن ڈیزائن اور بصری تکنیک کے ذریعے یہ ایک منفرد تجربہ پیش کرتی ہے۔
اسی طرح ان کی “گلیچ بال” بھی ایک ایسی تخلیق ہے جو دیکھنے والوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آیا یہ ڈیزائن حقیقت میں ممکن ہے یا محض ایک بصری دھوکا۔
فٹ بال کی جیومیٹری نے کھیل کے میدان سے باہر بھی اثرات چھوڑے ہیں۔ نیویارک کی ایک بیکری نے ورلڈ کپ سے متاثر ڈونٹ تیار کیا، جس میں بھی ہم آہنگی اور اشکال کے انہی ریاضیاتی اصولوں کو استعمال کیا گیا۔
یوں ورلڈ کپ کی گیند صرف ایک کھیل کا سامان نہیں بلکہ سائنس، فن اور ریاضی کے امتزاج کی مثال ہے۔ ہر پاس، ہر شاٹ اور ہر گول کے پیچھے ایسی پیچیدہ جیومیٹری چھپی ہوتی ہے جو فٹ بال کو صرف کھیل نہیں بلکہ ایک سائنسی تجربہ بھی بنا دیتی ہے۔
