پشاور میں جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن خوش آئند، مگر اصلاحی مواقع کی کمی پر تشویش
پشاور میں پولیس کی جانب سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری بھرپور کارروائیوں کو شہری و سماجی حلقوں نے خوش آئند قرار دیا ہے، تاہم اصلاح اور بحالی کے مواقع نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پولیس آپریشنز کے نتیجے میں بڑے جرائم پیشہ گروہوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے، جبکہ چھوٹے جرائم میں ملوث متعدد نوجوانوں نے عدالتوں میں ضمانتیں جمع کرا کے جرائم کی دنیا چھوڑنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ ان نوجوانوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ پرامن اور معمول کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے افراد کو پولیس کی جانب سے بار بار مختلف مقدمات میں ملوث کیا جا رہا ہے، اور کسی بھی نئے کیس کی صورت میں انہیں دوبارہ گرفتار کر کے ان پر پرچے درج کیے جا رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ طرز عمل بظاہر کارکردگی ظاہر کرنے کے لیے اپنایا جا رہا ہے، جس سے اصلاح کی کوشش کرنے والے نوجوان مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔
سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی فرد جرم چھوڑ کر مثبت راستہ اختیار کرنا چاہے تو ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اسے مواقع فراہم کیے جائیں۔ ان کے مطابق صرف گرفتاریوں سے جرائم کا خاتمہ ممکن نہیں بلکہ تعلیم، روزگار اور سماجی بحالی کے پروگرامز کے ذریعے ہی دیرپا امن قائم کیا جا سکتا ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس کارکردگی رپورٹ میں صرف گرفتاریوں کے بجائے اصلاح اور بحالی کے اقدامات کو بھی شامل کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو معاشرے کا مفید شہری بنانے میں مدد مل سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ پالیسی وقتی کامیابیاں تو دکھا سکتی ہے مگر طویل المدتی امن کے لیے مؤثر ثابت نہیں ہو رہی۔
ماہرین کے مطابق پشاور میں جرائم کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک پائیدار نتائج نہیں دے سکتیں جب تک اصلاحی مواقع کو یقینی نہ بنایا جائے، کیونکہ حقیقی امن سزا کے ساتھ ساتھ بحالی اور اعتماد سازی سے ہی ممکن ہے۔