پاکستانی ڈرامے جو سوٹ کیسوں میں یو اے ای پہنچے

0

نیوز ڈیسک
اسلام آباد: سیٹلائٹ ٹیلی ویژن کے ذریعے پاکستانی ڈرامے براہ راست متحدہ عرب امارات کے گھروں تک پہنچنے سے بہت پہلے ہی پاکستانی خاندانوں نے انہیں ایک اور طریقے سے اپنے درمیان زندہ رکھا ہوا تھا۔
یہ سفر ٹیلی ویژن کیبل یا سیٹلائٹ کے ذریعے نہیں بلکہ ویڈیو کیسٹس کے ذریعے ہوتا تھا، جو پاکستان سے متحدہ عرب امارات جانے والے مسافروں کے سوٹ کیسوں میں خاموشی سے جگہ بناتیں اور پھر شارجہ، ابوظہبی اور دیگر شہروں میں ایک گھر سے دوسرے گھر تک پہنچتی رہتیں۔
اس دور میں کسی نئے پاکستانی ڈرامے کو دیکھنا آج کی طرح صرف ٹیلی ویژن آن کرنے کا معاملہ نہیں تھا۔ ایک خاندان کے پاس پہنچنے والی ریکارڈ شدہ کیسٹ کچھ عرصے بعد دوسرے گھر کا رخ کرتی، پھر تیسرے اور چوتھے گھر تک پہنچتی۔ کئی بار جب وہ چوتھے یا پانچویں گھر تک پہنچتی تو تصویر دانے دار ہو چکی ہوتی، آواز متاثر ہوتی اور ٹیپ بھی اپنی عمر پوری کرنے کے قریب پہنچ چکی ہوتی۔
لیکن کسی کو اس کی زیادہ پروا نہیں تھی۔
اصل کشش تصویر کا معیار نہیں بلکہ کہانی، کردار اور سب سے بڑھ کر ایک ساتھ بیٹھ کر اسے دیکھنے کا تجربہ تھا۔
گلف نیوز کی ایک رپورٹ میں ایسے پانچ پاکستانی ٹیلی ویژن کلاسکس کا ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے اس دور میں متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے درمیان خاص مقام بنایا۔ یہ ڈرامے محض تفریح کا ذریعہ نہیں تھے بلکہ پاکستان سے ہزاروں کلومیٹر دور رہنے والے خاندانوں کے لیے مشترکہ ثقافت، یادوں اور شناخت سے جڑے رہنے کا ایک ذریعہ بھی بن گئے تھے۔
دھوپ کنارے: ایک رومانس جو سرحدوں سے آگے پہنچا
پاکستانی ٹیلی ویژن کے ان کلاسکس میں دھوپ کنارے کا نام آج بھی نمایاں ہے۔ حسینہ معین کا تحریر کردہ اور سائرہ کاظمی کی ہدایت کاری میں بننے والا 13 اقساط پر مشتمل یہ ڈرامہ پہلی مرتبہ 1987 میں نشر ہوا۔
کہانی کراچی کے ایک اسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کے گرد گھومتی ہے، جن کے کردار مرینہ خان اور راحت کاظمی نے ادا کیے۔ دونوں کرداروں کی مختلف شخصیات اور ان کے درمیان پروان چڑھنے والا نرم اور بتدریج رومانس اس ڈرامے کی مقبولیت کی بڑی وجہ بنا۔
دھوپ کنارے کی شہرت اس کی ابتدائی نشریات تک محدود نہیں رہی۔ ویڈیو کیسٹس نے اسے متحدہ عرب امارات میں رہنے والے پاکستانی خاندانوں تک پہنچایا، جہاں اسے گھروں میں بار بار دیکھا اور ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیا گیا۔
ڈرامے کی موسیقی نے بھی اس کی یاد کو مزید گہرا کیا۔ نیرہ نور کی آواز اور فیض احمد فیض کی شاعری نے کہانی میں ایک ایسی جذباتی کیفیت پیدا کی جو کئی دہائیوں بعد بھی ناظرین کے ذہنوں میں محفوظ ہے۔
تنہائیاں: خواتین کے کرداروں کو نئی آواز
حسینہ معین کا ایک اور معروف ڈرامہ تنہائیاں 1985 میں ٹیلی ویژن پر پیش کیا گیا اور جلد ہی اپنی نسل کے نمایاں ڈراموں میں شمار ہونے لگا۔
شہزاد خلیل کی ہدایت کاری میں بننے والے اس ڈرامے میں شہناز شیخ، مرینہ خان اور بہروز سبزواری سمیت دیگر فنکاروں نے کردار ادا کیے۔
کہانی دو بہنوں کے گرد گھومتی ہے جو اپنے والدین اور گھر سے محروم ہونے کے بعد اپنی زندگی دوبارہ اپنے طور پر بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔
تنہائیاں کی خاص بات یہ تھی کہ اس نے خواتین کو اپنے فیصلے خود کرنے اور اپنے مستقبل کی سمت طے کرنے والی شخصیات کے طور پر پیش کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ حسینہ معین کی تحریر میں موجود مزاح، گرمجوشی اور انسانی جذبات نے ڈرامے کو مزید مقبول بنایا۔
متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے بھی یہ ڈرامہ ویڈیو کیسٹس کے ذریعے گھروں تک پہنچا۔ ایک گھر میں دیکھے جانے کے بعد کیسٹ دوسرے گھر کا سفر کرتی اور یوں ڈرامہ مسلسل نئی فیملیز تک پہنچتا رہا۔
ان کہی: ثنا مراد، ایک یادگار کردار
آج کے میمز اور وائرل ٹیلی ویژن مناظر کے دور سے بہت پہلے پاکستانی ناظرین کو ان کہی کی ثنا مراد جیسا کردار مل چکا تھا۔
1982 میں نشر ہونے والے اس ڈرامے کو بھی حسینہ معین نے تحریر کیا تھا، جبکہ شہناز شیخ، جاوید شیخ، بہروز سبزواری اور قاضی واجد اس کی نمایاں کاسٹ میں شامل تھے۔
شہناز شیخ کی جانب سے ادا کیا گیا ثنا مراد کا کردار ایک متوسط طبقے کی، نسبتاً کم تعلیم یافتہ لیکن غیر معمولی طور پر ذہین اور حاضر جواب نوجوان خاتون کا تھا، جو اپنی سمجھ بوجھ اور تیز فہمی کے ذریعے مختلف حالات کا سامنا کرتی ہے۔
یہ کردار وقت کے ساتھ پاکستانی مقبول ثقافت کا حصہ بن گیا اور اس کا نام آج بھی کئی نسلوں کے ناظرین کے لیے مانوس ہے۔
ان کہی کی مقبولیت پاکستان تک محدود نہیں رہی۔ ویڈیو کیسٹس کے ذریعے یہ ڈرامہ متحدہ عرب امارات میں رہنے والے پاکستانی خاندانوں تک بھی پہنچا اور وہاں بھی ایک یادگار ٹیلی ویژن تجربہ بن گیا۔
الفا براوو چارلی: دوستی، فوج اور حب الوطنی
1998 میں نشر ہونے والے الفا براوو چارلی نے پاکستانی ناظرین کو روایتی ڈراموں سے مختلف کہانی پیش کی۔
شعیب منصور کی تخلیق کردہ اس سیریز میں تین دوستوں کی زندگی دکھائی گئی جو پاکستان آرمی میں شامل ہوتے ہیں اور فوجی تربیت کے ساتھ ساتھ دوستی، محبت، قربانی اور زندگی کے دیگر پہلوؤں سے گزرتے ہیں۔
ڈرامے میں دوستی، قربانی اور حب الوطنی کے موضوعات نے ناظرین کو خاص طور پر متاثر کیا۔ اس دور کی بہت سی اسٹوڈیو پر مبنی پروڈکشنز کے برعکس الفا براوو چارلی کو مختلف بیرونی مقامات پر فلمایا گیا، جس نے اسے ایک منفرد بصری انداز دیا۔
متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کے لیے اس ڈرامے کے موضوعات کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ وطن سے دور رہنے والے ناظرین کے لیے دوستی، قومی شناخت اور پاکستان سے تعلق کے جذبات نے اسے ایک خاص جذباتی وزن دیا۔
یوں اس کی کیسٹس بھی پاکستانی خاندانوں کے گھریلو ویڈیو ذخیرے کا حصہ بن گئیں۔
عینک والا جن: بچوں کی اپنی دنیا
اگر بڑوں کے پاس دھوپ کنارے، تنہائیاں اور ان کہی جیسے ڈرامے تھے تو 1990 کی دہائی کے پاکستانی بچوں کے لیے عینک والا جن ایک الگ ہی دنیا تھی۔
1993 میں بچوں کے ڈرامے کے طور پر شروع ہونے والی اس فنتاسی سیریز میں ایک جن اور مختلف رنگین کرداروں کی کہانی پیش کی گئی۔ ان کرداروں میں زکوتا جن خاص طور پر مقبول ہوا اور پاکستانی بچوں کے ٹیلی ویژن کے یادگار کرداروں میں شامل ہو گیا۔
عینک والا جن کی مقبولیت بھی عمر اور سرحدوں سے آگے نکل گئی۔ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی بچوں کو بھی وہی کردار، کہانیاں اور لطیفے دیکھنے کا موقع ملا جو پاکستان میں ان کے ہم عمر بچے دیکھ رہے تھے۔
اس کی وجہ بھی وہی ویڈیو کیسٹس تھیں جو ایک خاندان سے دوسرے خاندان تک پہنچتی رہیں۔
سوٹ کیس سے گھر گھر تک
سیٹلائٹ ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کے دور سے پہلے پاکستانی ڈراموں کا بیرون ملک سفر ایک غیر معمولی لیکن سادہ نظام کے ذریعے جاری تھا۔ پاکستان آنے جانے والے مسافر اپنے سامان میں ویڈیو کیسٹس لے جاتے، پھر وہ کیسٹس خاندانوں، دوستوں اور جاننے والوں کے درمیان گردش کرتیں۔
اس پورے عمل میں نہ تیز رفتار انٹرنیٹ تھا، نہ آن لائن ویڈیو پلیٹ فارم اور نہ ہی چند کلکس میں دنیا بھر کا مواد دستیاب تھا۔ ایک کیسٹ کو کئی گھروں تک پہنچنے میں وقت لگتا، اس کی تصویر خراب ہوتی جاتی اور بعض اوقات ٹیپ بھی جواب دے جاتی۔
اس کے باوجود یہی کیسٹس بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے پاکستان کی کہانیوں، زبان، کرداروں اور ثقافت سے جڑے رہنے کا ایک اہم ذریعہ بن گئیں۔
دھوپ کنارے، تنہائیاں، ان کہی، الفا براوو چارلی اور عینک والا جن اس دور کی صرف کامیاب ٹیلی ویژن پروڈکشنز نہیں تھیں، بلکہ ان خاندانوں کی مشترکہ یادوں کا حصہ بھی بن گئیں جنہوں نے انہیں سوٹ کیسوں سے نکال کر گھروں میں دیکھا، پھر آگے کسی اور گھر تک پہنچا دیا۔
آج جب ایک ڈرامہ چند لمحوں میں دنیا کے کسی بھی حصے میں دیکھا جا سکتا ہے، ان کیسٹس کی کہانی اس دور کی یاد دلاتی ہے جب پاکستانی ٹیلی ویژن بیرون ملک ناظرین تک پہنچنے کے لیے واقعی سفر کرتا تھا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.