نیا دفاعی معاہدہ آرٹیکل 5 جیسا

0

نیوز ڈیسک

انقرہ: ترکی نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ حال ہی میں طے پانے والے نئے دفاعی معاہدے کو خطے میں وسیع تر سلامتی تعاون کی بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کے باہمی دفاعی اصول کا موازنہ نیٹو کے آرٹیکل 5 سے کیا ہے۔
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ مستقبل میں ایک وسیع تر علاقائی سلامتی اتحاد کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے جمعے کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
ہاکان فیدان نے واضح کیا کہ معاہدے کا مقصد ایران یا کسی دوسرے ملک کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سلامتی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے انادولو سے گفتگو کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر تینوں میں سے کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اتحادی باہمی مشاورت کے ذریعے حملے کی نوعیت اور درکار مدد کا تعین کریں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ معاہدہ کسی ملک کو پہلے سے خطرے کے طور پر نامزد نہیں کرتا اور اس میں شامل سلامتی کی ضمانتیں کسی رکن ملک کے خلاف جارحیت کی صورت میں فعال ہوں گی۔
فیدان نے انکشاف کیا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان چاہتے ہیں کہ مستقبل میں خطے کے مزید ممالک بھی اس دفاعی فریم ورک کا حصہ بنیں۔ ان کے مطابق مصر بھی ممکنہ ارکان میں شامل ہو سکتا ہے، تاہم اس کے لیے بعض تکنیکی معاملات کو پہلے حل کرنا ہوگا۔
ترک وزیر خارجہ کے مطابق نیا اتحاد ابتدائی مرحلے میں محتاط انداز میں آگے بڑھے گا۔ سعودی عرب میں ایک جنرل سیکرٹریٹ قائم کیے جانے کے ساتھ وزارتی کمیٹی تشکیل دیے جانے کی توقع ہے، جبکہ اتحاد کے پہلے اجلاس میں مزید انتظامی اور عملی امور پر بات چیت کی جائے گی۔
نیٹو سے معاہدے کا موازنہ کرتے ہوئے فیدان نے کہا کہ مغربی دفاعی اتحاد اس وقت 32 ارکان پر مشتمل ہے، جبکہ نیا علاقائی فریم ورک تین ممالک سے شروع ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں توسیع کا عمل بتدریج آگے بڑھایا جائے گا۔
ترک حکام کے مطابق نئے معاہدے کا مقصد موجودہ علاقائی یا عالمی اتحادوں کی جگہ لینا نہیں بلکہ سلامتی کے شعبے میں تعاون کے خواہش مند ممالک کے لیے ایک کھلا علاقائی فریم ورک فراہم کرنا ہے۔
ترک حکام نے اس معاہدے کو خطے میں سلامتی کے بڑے چیلنجز سے نمٹنے کی وسیع تر کوششوں سے بھی جوڑا ہے۔ پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر حالیہ عرصے میں علاقائی معاملات پر چار ملکی گروپ کے ذریعے بھی تعاون کر رہے ہیں، جس میں ایران سے متعلق تنازعات سمیت دیگر اہم مسائل زیر بحث آئے ہیں۔
دریں اثنا، ہاکان فیدان نے کہا کہ ترکی کو بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو حوثی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں میں حصہ لینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بحری سلامتی ترکی کے مفادات کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی الگ بیان میں دفاعی معاہدے کو اجتماعی دفاع اور بازداریت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دوسرے برادر ممالک کے لیے بھی کھلا ہے۔
اردوان کے مطابق معاہدے کے تحت دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبوں اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں تعاون بڑھایا جائے گا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں اور ترکی خطے کے تنازعات کو مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے ذریعے حل کرنے کی پالیسی پر قائم ہے۔
نئے دفاعی معاہدے کو اس تناظر میں خطے میں بدلتے ہوئے سلامتی کے منظرنامے اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کے عملی دائرہ کار اور مستقبل میں ممکنہ توسیع کا انحصار آئندہ مشاورت اور اتحادی ممالک کے فیصلوں پر ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.