نیوز ڈیسک
مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کا تیسرا اور آخری مرحلہ جاری ہے، جہاں باغ اور حویلی کے چار حلقوں میں ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔
حکام کے مطابق آخری مرحلے میں تقریباً 4 لاکھ 60 ہزار ووٹرز ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں، جبکہ باغ اور حویلی میں پولنگ کے لیے انتخابی سامان ہفتے کی شب پہنچا دیا گیا تھا۔
چیف الیکشن کمشنر کے مطابق پونچھ کے پانچ اور سدھنوتی کے دو حلقوں میں انتخابات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔
آخری مرحلے میں کئی اہم سیاسی شخصیات بھی میدان میں ہیں، جن میں آزاد کشمیر کے سابق وزرائے اعظم سردار عتیق احمد خان اور سردار تنویر الیاس کے علاوہ موجودہ وزیر اعظم فیصل راٹھور شامل ہیں۔
انتخابات کے آخری مرحلے میں داخل ہوتے ہی سیاسی درجہ حرارت بھی بڑھ گیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری یاسین نے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری یاسین نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن اپنی مرضی کے مطابق انتخابات کرا رہا ہے اور موجودہ چیف الیکشن کمشنر کے مخصوص مقاصد ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب پولیس کو مخصوص مقاصد کے تحت آزاد کشمیر میں تعینات کیا گیا جبکہ مسلم لیگ ن کو انتخابات میں کامیاب کرانے کے لیے مبینہ طور پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
پیپلز پارٹی رہنما نے موجودہ انتخابات کا موازنہ 2016 کے آزاد کشمیر انتخابات سے کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل کی شفافیت اور ساکھ سے متعلق خدشات ایک بار پھر سامنے آ رہے ہیں۔
چوہدری یاسین کے مطابق مسلم لیگ ن نے ماضی میں تقریباً 80 فیصد حلقوں کی تحقیقات پر رضامندی ظاہر کی تھی، تاہم بعد میں اس وعدے سے پیچھے ہٹ گئی۔
دوسری جانب، مسلم لیگ ن پہلے دو مراحل میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے بعد آخری مرحلے میں داخل ہوئی ہے۔ پہلے مرحلے میں مسلم لیگ ن نے میرپور ڈویژن کی 13 میں سے 9 نشستیں جیتیں، جبکہ پیپلز پارٹی کے حصے میں 4 نشستیں آئیں۔
دوسرے مرحلے میں بھی مسلم لیگ ن نے اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرتے ہوئے 21 میں سے 15 نشستیں حاصل کیں، جبکہ پیپلز پارٹی 6 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی۔
اب انتخابات کے آخری مرحلے میں توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا مسلم لیگ ن اپنی برتری برقرار رکھتے ہوئے آزاد کشمیر اسمبلی میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر پاتی ہے یا پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتیں نتائج کا رخ تبدیل کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔
آخری مرحلے کے نتائج آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں آئندہ سیاسی طاقت کے توازن کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔
Prev Post
Next Post
