اشتیاق احمد
بریڈفورڈ: سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خلیج سے لے کر جنوبی ایشیا تک پھیلے ہوئے سلامتی کے منظرنامے میں ممکنہ طور پر ایک اہم پیش رفت ہے۔
7 اگست کو مکہ مکرمہ میں دستخط کیے گئے اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک اجتماعی دفاع کے اصول کے پابند ہوں گے، یعنی کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ترک حکام نے اس اصول کو نیٹو کے آرٹیکل 5 سے تشبیہ دی ہے، تاہم اس بات پر زور دیا ہے کہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور ایران یا کسی دوسری ریاست کے خلاف نہیں۔
اس معاہدے کو ’’اسلامی نیٹو‘‘ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ تینوں ممالک اچانک کسی متحد فوجی بلاک میں تبدیل نہیں ہوئے۔ تاہم یہ معاہدہ بتدریج ایک وسیع تر سیکیورٹی نیٹ ورک تشکیل دے سکتا ہے، جس کے بھارت کے لیے اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ کے موجودہ سیکیورٹی ڈھانچے کے حوالے سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ سعودی عرب کو میزائل اور ڈرون حملوں سے لاحق خطرات کے ساتھ ساتھ خلیجی سلامتی کے حتمی ضامن کے طور پر امریکہ کے کردار کے بارے میں بدلتے ہوئے تاثرات نے علاقائی ممالک کو اپنی شراکت داری کو متنوع بنانے کی ترغیب دی ہے۔
سعودی عرب بیک وقت ایران، چین اور امریکہ کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ اپنے فوجی تعاون کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔ اس لیے مکہ معاہدے کو امریکہ کو مسترد کرنے کے بجائے غیر یقینی صورتحال کے خلاف ایک حفاظتی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔
پاکستان کے لیے یہ معاہدہ محض علامتی اہمیت نہیں رکھتا۔ سعودی عرب مالی طاقت، توانائی کے اثر و رسوخ اور سفارتی رسائی فراہم کرتا ہے، ترکیہ فوجی اور دفاعی صنعتی صلاحیتوں میں حصہ ڈالتا ہے، جبکہ پاکستان بڑی روایتی افواج، جنگی تجربے اور جوہری صلاحیت رکھنے والی ریاست کی حیثیت سے اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔
یہ انتظام ایک ایسے سیکیورٹی اداکار کے طور پر پاکستان کی پوزیشن کو بھی مضبوط کرتا ہے جس کا اثر جنوبی ایشیا سے باہر تک پھیل سکتا ہے۔ پاکستان کی بڑھتی ہوئی رسائی بھارت کے لیے باعث تشویش ہے۔
بھارت کی تشویش یہ نہیں کہ سعودی عرب یا ترکیہ لازماً کسی تنازع میں پاکستان کا ساتھ دیں گے۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ معاہدہ ان ممالک کو ایسا کرنے کا پابند کرتا ہے۔ اصل تشویش یہ ہے کہ پاکستان کو زیادہ اسٹریٹجک گہرائی اور سفارتی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔
مستقبل میں کسی بھی بھارت-پاکستان بحران میں زیادہ ممالک شامل ہو سکتے ہیں، ثالثی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں اور اضافی سیاسی دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ ایسے میں فوجی بحران کے گرد سفارتی محاذ تقریباً اتنا ہی اہم ہو سکتا ہے جتنا کہ فوجی محاذ۔
چین کا عنصر اس صورتحال میں ایک اور پہلو کا اضافہ کرتا ہے۔ پاکستان چین کا دیرینہ اسٹریٹجک شراکت دار ہے، سعودی عرب نے بیجنگ کے ساتھ اپنے تعلقات کو نمایاں طور پر وسعت دی ہے، جبکہ ترکیہ بڑی طاقتوں کے درمیان اپنی اسٹریٹجک گنجائش برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ معاہدہ کسی چینی منصوبے کا ثبوت نہیں، تاہم یہ ایک وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے: ریاستیں کسی ایک بیرونی طاقت پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی سیکیورٹی شراکت داری کو متنوع بنا رہی ہیں۔ بھارت کے لیے اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اسے کسی روایتی اتحاد کے بجائے ایک دوسرے سے جڑی ہوئی شراکت داریوں کے نیٹ ورک کا سامنا کرنا پڑے۔
خلیج بھارت کی توانائی کی سلامتی، تجارت و سرمایہ کاری، سمندری مفادات اور لاکھوں بھارتی شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے انتہائی اہم ہے۔
اسی لیے نئی دہلی نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ایران، اسرائیل، امریکہ اور دیگر اہم علاقائی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو احتیاط سے متوازن رکھا ہے۔ نئے سیکیورٹی انتظامات کا ظہور اس توازن کو برقرار رکھنا خاصا مشکل بنا سکتا ہے، بالخصوص اگر مزید ممالک اس معاہدے میں شامل ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر، اگر مصر اس معاہدے میں شامل ہوتا ہے تو اس سے بھارت پر اسرائیل کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کے بعض پہلوؤں پر نظرثانی کے لیے مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
ایک وسیع تر سیکیورٹی فریم ورک، جس میں بڑی تعداد میں مسلم اکثریتی ممالک شامل ہوں، بالخصوص ایسا فریم ورک جس میں پاکستان زیادہ بااثر کردار ادا کرے، نئی دہلی کے لیے نئے سفارتی چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔
مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے بھارت کا داخلی ریکارڈ بھی ایسے کسی فریم ورک کے تحت زیادہ بین الاقوامی جانچ پڑتال کی زد میں آ سکتا ہے۔ جن معاملات کو نئی دہلی اب تک اپنے داخلی امور کے تناظر تک محدود رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے، وہ ایسے کثیرالجہتی فورم کے ذریعے زیادہ توجہ حاصل کر سکتے ہیں جہاں پاکستان کی پوزیشن زیادہ مضبوط ہو۔
اسی طرح، بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کا مسئلہ، جسے پاکستان اس علاقے کے بھارت کے جبری الحاق کے طور پر بیان کرتا ہے، بھی بین الاقوامی سطح پر دوبارہ توجہ حاصل کر سکتا ہے۔
نتیجتاً، ایسے سیکیورٹی ڈھانچے کی توسیع بھارت کے لیے سفارتی گنجائش محدود کر سکتی ہے۔
نئی دہلی کے لیے کشمیر اور اقلیتوں کے حقوق جیسے متنازع مسائل کو وسیع تر علاقائی اور بین الاقوامی مباحث میں شامل ہونے سے روکنا مشکل ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر پاکستان ابھرتے ہوئے علاقائی نظام میں زیادہ نمایاں کردار حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
ایران اس صورتحال میں ایک اور پیچیدگی ہے۔ اگرچہ اس معاہدے کو تہران کے خلاف ایک سنی اتحاد کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، لیکن یہ تشریح حد سے زیادہ سادہ ہوگی۔
سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان، تینوں کے پاس ایران مخالف واضح صف بندی سے گریز کرنے کی اپنی وجوہات ہیں، جبکہ دستخط کنندگان نے بھی واضح طور پر معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے۔
تاہم ایران کو یہ جائزہ لینا ہوگا کہ آیا اسے اس انتظام کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا ہے، اس کا مقابلہ کرنا ہے یا معاہدے میں شامل ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مزید بہتر بنانے ہیں۔
Prev Post
