نیوز ڈیسک
بگوٹا:کولمبیا میں 7.4 شدت کے طاقتور زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ ریسکیو ٹیمیں منہدم عمارتوں کے ملبے میں زندہ افراد کی تلاش اور دور دراز علاقوں میں پھنسے لوگوں تک رسائی کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔ حکام کے مطابق زلزلے میں کم از کم 132 افراد ہلاک اور تقریباً 570 زخمی ہوئے ہیں۔
تباہی کی مکمل نوعیت اب بھی واضح نہیں ہوسکی، کیونکہ امدادی کارکن متاثرہ علاقوں سے ملبہ ہٹانے اور دور دراز کمیونٹیز تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ریسکیو ٹیموں کی رسائی بڑھنے کے ساتھ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
کولمبیا کے صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا کے مطابق زلزلے سے کم از کم 1,575 مکانات، 18 طبی مراکز اور 52 اسکول متاثر ہوئے ہیں، جبکہ 61 عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں۔
زلزلے کے مرکزی جھٹکے کے بعد اب تک کم از کم 21 آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔ حکام نے شہریوں کو محتاط رہنے اور حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
حکومت نے امدادی، بحالی اور تعمیر نو کی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لیے ہنگامی حالت نافذ کردی ہے۔ حکام ان علاقوں سے رابطہ بحال کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں جو زلزلے کے نتیجے میں ملک کے دیگر حصوں سے کٹ گئے ہیں۔
زلزلہ مغربی کولمبیا میں بحرالکاہل کے ساحل کے قریب آیا، جو زلزلہ خیز علاقے ’’پیسیفک رنگ آف فائر‘‘ کا حصہ ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ چوکو خطہ ملک کے غریب ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے اور گھنے جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ کئی دور دراز کمیونٹیز تک صرف کشتی یا ہوائی راستے سے پہنچا جاسکتا ہے۔
متاثرہ علاقوں سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں زلزلے کی شدت اور تباہی کے مناظر دیکھے گئے، جہاں عمارتیں منہدم ہوتی اور شہری تباہ شدہ ڈھانچوں سے جان بچا کر نکلتے دکھائی دیے۔
پریرا میں زلزلے کے دوران ایک چار منزلہ عمارت منہدم ہوگئی، جبکہ مناگوا میں نو گوتھک کیتھیڈرل سے منسلک ایک ٹاور کا حصہ بھی گر گیا اور ملبہ قریبی سڑکوں پر جاگرا۔
کیلی میں امدادی کارکنوں نے پانچ منزلہ عمارت کے ملبے سے چھ ماہ کی بچی اور اس کی والدہ کو زندہ نکال لیا۔ بچی مٹی اور گردوغبار میں ڈھکی ہوئی تھی، تاہم ریسکیو اہلکاروں نے دونوں کو بحفاظت ملبے سے باہر نکال لیا۔
ایک اور امدادی کارروائی میں تباہ شدہ اسپتال سے مریضوں اور عملے کو کھڑکیوں کے ذریعے رسیوں کی مدد سے باہر نکالا گیا، جبکہ ہنگامی کارکن انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف رہے۔
کولمبیا کے جیولوجیکل سروے نے زلزلے کو 21ویں صدی کے دوران ملک میں ریکارڈ کیے گئے طاقتور ترین زلزلوں میں شمار کرتے ہوئے مزید آفٹر شاکس کا امکان ظاہر کیا ہے۔
نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی ماہرِ زلزلہ سوزن وین ڈیر لی کے مطابق زلزلے کی شدت، زیرِ زمین گہرائی اور ٹیکٹونک پلیٹوں کی افقی حرکت نے شدید لرزش اور بڑے پیمانے پر نقصان میں کردار ادا کیا، خصوصاً گنجان آباد وادیوں میں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ گہرے زلزلے بعض اوقات سطح پر نسبتاً کم شدت کی لرزش پیدا کرتے ہیں، تاہم اس واقعے کی غیر معمولی طاقت کے باعث وسیع علاقے میں شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔
امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں اور حکام کو بالخصوص دور دراز آبادیوں میں تباہی کی مکمل شدت کا اندازہ لگانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ریسکیو ٹیموں کے ناقابلِ رسائی علاقوں تک پہنچنے کے بعد ہلاکتوں اور نقصانات کے اعداد و شمار میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
Prev Post
Next Post
