نیوز ڈیسک
اسلام آباد: پاکستانی گلوکار عاطف اسلم نے شہرت کے ساتھ آنے والے دباؤ اور تخلیقی چیلنجز پر کھل کر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کبھی موسیقی چھوڑنے کا نہیں سوچا، تاہم اپنی تخلیقی آزادی دوبارہ حاصل کرنے کے لیے انہوں نے جان بوجھ کر تجارتی توقعات سے کچھ فاصلے پر جانے کا فیصلہ کیا۔
بین الاقوامی شہرت رکھنے والے گلوکار نے بھارتی یوٹیوب چینل ’دی کرلی ٹیلز‘ کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنے کامیابی کے سفر، فنکاروں سے وابستہ بڑھتی ہوئی توقعات اور تقریباً 18 سال بعد آزادانہ طور پر ایک البم تیار کرنے کے فیصلے پر بات کی۔
عاطف اسلم کا کہنا تھا کہ ان کے لیے اب بھی یہ سمجھانا مشکل ہے کہ انہیں اتنی بڑی کامیابی کیسے ملی، تاہم ہر کامیاب گانے کے بعد ایک فنکار پر اس سے بھی بہتر کام پیش کرنے کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک فنکار اپنے گانے کی کامیابی سے لطف اندوز تو ہوتا ہے، لیکن اس کے فوراً بعد یہ سوچ شروع ہوجاتی ہے کہ آیا سامعین اگلے گانے کو بھی اسی طرح پسند کریں گے۔ ان کے مطابق جیسے جیسے البم آگے بڑھتا ہے اور توقعات میں اضافہ ہوتا ہے، فنکار کی ذمہ داری بھی بڑھتی جاتی ہے۔
گلوکار نے اپنی عالمی شناخت میں بالی ووڈ کے کردار کا بھی اعتراف کیا اور کہا کہ بھارتی فلم انڈسٹری نے ان کی رسائی اور کامیابی کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
اپنے کیریئر پر نظر ڈالتے ہوئے عاطف اسلم نے اس خیال سے بھی اختلاف کیا کہ کامیابی صرف محنت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ قسمت اور اللہ کی مرضی نے بھی انہیں اس مقام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا جہاں وہ آج موجود ہیں۔
عاطف کے مطابق شہرت وقت کے ساتھ فنکاروں کے لیے ایک تخلیقی بوجھ بھی بن سکتی ہے۔ بعض اوقات موسیقار نئے خیالات تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں اور انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے پاس مزید کچھ کہنے، لکھنے یا پیش کرنے کے لیے نہیں بچا۔
انہوں نے ایسے ادوار کو فنکار کی زندگی کا فطری حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تخلیقی جمود موسیقی چھوڑنے کی وجہ نہیں ہونا چاہیے۔
عاطف اسلم نے واضح کیا،’’میں نے موسیقی کو چھوڑنے کا کبھی نہیں سوچا۔‘‘ ان کے مطابق تخلیقی تھکن کے دوران کسی فنکار کے لیے لکھنا یا کمپوز کرنا عارضی طور پر مشکل ہوسکتا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے اپنے فن سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔
انہوں نے فنکاروں پر زور دیا کہ وہ خوشی اور کامیابی کے ادوار سے لطف اندوز ہونا بھی سیکھیں اور ہر وقت اگلی بڑی کامیابی کے حصول کے دباؤ میں نہ رہیں۔
اپنے حالیہ چوتھے اسٹوڈیو البم کے گانے ’سب آئے نا‘ کا ذکر کرتے ہوئے عاطف نے اسے خود کو دریافت کرنے اور اللہ پر ایمان کی عکاسی قرار دیا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ تقریباً 18 سال بعد کسی البم پر آزادانہ طور پر کام کرنے کا فیصلہ جزوی طور پر تجارتی منصوبوں سے الگ ہونے اور دوبارہ بنیادی طور پر اپنے لیے موسیقی تخلیق کرنے کی خواہش سے جڑا ہوا تھا۔
عاطف اسلم نے اپنے اس نئے مرحلے کو بیان کرتے ہوئے کہا ’’میں دوبارہ صفر پر واپس آگیا ہوں۔‘‘ ان کے مطابق وہ ایک ایسے فنکار کی بے خوف ذہنیت دوبارہ حاصل کرنا چاہتے تھے جو صرف موسیقی تخلیق کرنے اور اسے لوگوں تک پہنچانے کے جذبے سے کام کرتا ہے۔
عاطف اسلم بدستور عالمی سطح پر موسیقی کے میدان میں سرگرم ہیں اور پاکستان کے علاوہ کینیڈا اور شمالی امریکا میں بھی کنسرٹس کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں لاکھوں مداحوں اور پیروکاروں کے ساتھ وہ پاکستان کے سب سے زیادہ معروف اور عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں۔
شہرت اور تخلیقی جدوجہد کے باوجود عاطف اسلم نے واضح کیا کہ مستقبل قریب میں موسیقی سے دور ہونے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں۔ ان کے مطابق ان کا موجودہ تخلیقی سفر دراصل اسی آزادی اور جذبے سے دوبارہ جڑنے کی کوشش ہے جس نے ان کے کیریئر کی بنیاد رکھی تھی۔
Prev Post
Next Post
