دریاؤں سے غزہ تک، اقوام متحدہ میں شہباز شریف نے کیا کہا؟ 

0

نیوز ڈیسک

نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے خارجہ پالیسی کے اہم نکات عالمی برادری کے سامنے رکھ دیے۔ ان کے خطاب میں علاقائی سلامتی، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، فلسطین، کشمیر، دہشت گردی، افغانستان اور پاکستان کے آبی حقوق نمایاں موضوعات رہے۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں سفارت کاری کو تنازعات کے حل کا بنیادی ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے اور دنیا میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں اسلام آباد کی سہولت کاری کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔

شہباز شریف نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ آبی گزرگاہیں عالمی تجارت اور معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں، اس لیے انہیں کھلا اور محفوظ رکھنا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

پانی: پاکستان کی سلامتی کا اہم سوال

وزیراعظم کے خطاب کا ایک نمایاں حصہ پاکستان کے آبی تحفظ سے متعلق تھا۔ انہوں نے دریائے سندھ کے نظام کو پاکستان کی معیشت، زراعت اور زندگی کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا۔

شہباز شریف نے خبردار کیا کہ پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، اس کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو پاکستان ’’جنگ کے مترادف اقدام‘‘ سمجھے گا۔

انہوں نے سندھ طاس معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے اسے معطل کرنے کا فیصلہ قانونی بنیاد نہیں رکھتا اور پاکستان کے مطابق یہ معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے۔

وزیراعظم نے زور دیا کہ دریاؤں کو تنازعات کا ذریعہ بنانے کے بجائے انہیں زراعت، آبپاشی اور خطے کی ترقی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

کشمیر: دیرینہ تنازع کا ذکر

کشمیر کے مسئلے پر وزیراعظم نے پاکستان کے روایتی مؤقف کو دہراتے ہوئے کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی کئی نسلیں اقوام متحدہ کی جانب سے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے وعدے کی تکمیل کی منتظر ہیں۔

شہباز شریف کے مطابق جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کشمیر کے تنازع کا منصفانہ حل تلاش نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کشمیری عوام کے لیے پاکستان کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا۔

غزہ: جنگ بندی اور فلسطینی ریاست کا مطالبہ

خطاب میں فلسطین اور غزہ بھی اہم موضوعات رہے۔ وزیراعظم نے غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے پاکستان کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ فلسطین کے مسئلے کا پائیدار حل ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کی سرحدیں 1967 سے قبل کی حدود پر مبنی ہوں اور دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

شہباز شریف نے لبنان اور شام میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی بھی مذمت کی اور خطے میں مزید کشیدگی سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا۔

سعودی عرب سے یکجہتی اور نیا دفاعی فریم ورک

وزیراعظم نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مملکت کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار کیا۔

انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق یہ اقدام کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ دفاع، علاقائی استحکام اور امن کے لیے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

دہشت گردی، افغانستان اور پاکستان کی قربانیاں

دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے پاکستان کی قربانیوں کو عالمی برادری کے سامنے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے تقریباً ایک لاکھ جانوں کا نقصان اٹھایا جبکہ ملکی معیشت کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔

افغانستان کے حوالے سے شہباز شریف نے مطالبہ کیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔

انہوں نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین سے سرگرم عسکریت پسند گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق اور مؤثر کارروائی کریں۔

اسلامو فوبیا اور مذہبی منافرت

وزیراعظم نے دنیا میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور مذہبی منافرت کے خاتمے پر زور دیا۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ مذاہب اور مقدس شخصیات کے خلاف نفرت انگیز رویوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے۔

سفارت کاری یا مزید تنازعات؟

اقوام متحدہ میں شہباز شریف کا خطاب مجموعی طور پر پاکستان کے ان اہم خارجہ اور سلامتی کے خدشات کے گرد گھومتا رہا جو بیک وقت علاقائی اور عالمی سطح پر اثرات رکھتے ہیں۔

ایک طرف وزیراعظم نے غزہ، کشمیر اور علاقائی تنازعات کے حل پر زور دیا تو دوسری جانب پاکستان کے پانی کے حقوق اور قومی سلامتی کو واضح طور پر اپنی ترجیحات میں شامل کیا۔

خطاب کے اختتام پر شہباز شریف نے عالمی برادری پر زور دیا کہ تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری، مذاکرات اور اعتماد سازی کو ترجیح دی جائے، کیونکہ عالمی امن کا راستہ مزید جنگوں کے بجائے سیاسی اور سفارتی اقدامات سے نکلتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.