نیوز ڈیسک
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ماہ ترکی کے دورے کے دوران سیکرٹ سروس نے مبینہ ایرانی قتل کی دھمکی کے پیش نظر انہیں اپنا طیارہ خفیہ طور پر تبدیل کرنے کا حکم دیا تھا۔
ٹرمپ کے مطابق سیکیورٹی حکام کو خدشہ تھا کہ جس طیارے کے بارے میں عام طور پر خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ صدر کو لے کر جا رہا ہے، وہ ممکنہ حملہ آوروں کے لیے زیادہ نمایاں ہدف بن سکتا ہے۔
یہ غیر معمولی سیکیورٹی آپریشن انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد کیا گیا، جہاں ٹرمپ کو مبینہ طور پر ایک کیٹرنگ ٹرک کی آڑ میں ایئر فورس ون سے دوسرے فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا۔ اس تبدیلی کو عوام کی نظروں سے پوشیدہ رکھا گیا اور اس کی تفصیلات رواں ہفتے کے آغاز میں واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے بعد سامنے آئیں۔
اس آپریشن نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر ٹرمپ کے معاونین اور صحافی اس طیارے میں سوار رہتے جس کے بارے میں عوامی طور پر سمجھا جا رہا تھا کہ صدر اسی میں سفر کر رہے ہیں تو کیا وہ طیارہ ممکنہ حملہ آوروں کے لیے زیادہ پرکشش ہدف بن سکتا تھا۔
تاہم، ٹرمپ نے اس کے برعکس مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں جس طیارے میں وہ خود موجود تھے، وہ زیادہ خطرے میں تھا کیونکہ حملہ آور اسی طیارے کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے تھے جس کے بارے میں انہیں یقین ہو کہ صدر اس میں سوار ہیں۔
صدر نے طیارہ تبدیل کرنے کے آپریشن کو خفیہ رکھنے سے متعلق سوالات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سیکرٹ سروس اور فوج کی ہدایات پر عمل کیا۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں وہاں کوئی خطرہ موجود تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں متعدد دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں، تاہم انہوں نے سیکیورٹی خطرے کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب ٹرمپ نے قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے اور نئے سرے سے تیار کیے گئے ایک جیٹ طیارے پر اپنا پہلا بین الاقوامی سفر کیا تھا۔ صدر اسی طیارے میں نیٹو سربراہی اجلاس کے لیے انقرہ پہنچے تھے، تاہم واپسی کے موقع پر انہوں نے غیر متوقع طور پر ایک پرانے ایئر فورس ون طیارے میں سفر کرنے کا فیصلہ کیا۔
طیارہ تبدیل کیے جانے کی خبر نے اس فیصلے کے پیچھے موجود سیکیورٹی خدشات پر مزید توجہ مرکوز کر دی ہے۔
یہ پیش رفت امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران سامنے آئی۔ ترکی ایران کے ساتھ زمینی سرحد بھی رکھتا ہے، جس کے باعث صدر کے دورے کے دوران سیکیورٹی انتظامات کو خاص اہمیت حاصل تھی۔
سیکیورٹی کے اس واقعے نے ٹرمپ کے بیرون ملک دوروں کے انتظامات پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے، بالخصوص اس سوال پر کہ صدارتی تحفظ کو صدر کے ساتھ سفر کرنے والے حکام، معاونین اور صحافیوں کی سلامتی کے ساتھ کس طرح متوازن کیا جاتا ہے۔
طیارے کی خفیہ تبدیلی کا معاملہ اس بات کی ایک غیر معمولی مثال بن کر سامنے آیا ہے کہ امریکی صدر کے بیرون ملک سفر کے دوران ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی ادارے کس حد تک غیر معمولی اقدامات کر سکتے ہیں۔
Prev Post
Next Post
