کولمبیا زلزلےمیں254 ہلاکتیں

0

نیوز ڈیسک
پیریرا/کیلی: کولمبیا میں اس صدی کے شدید ترین اور تباہ کن زلزلوں میں شمار ہونے والے 7.4 شدت کے زلزلے کے بعد بڑے پیمانے پر تباہی پھیل گئی، جبکہ امدادی ٹیموں کی جانب سے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری ہے اور ہلاکتوں کی تعداد 254 تک پہنچ گئی ہے۔
زلزلہ پیر کی علی الصبح ملک کے مغربی حصے میں آیا، جس کے نتیجے میں کافی پیدا کرنے والے اہم علاقوں کو شدید نقصان پہنچا۔ گھروں، اپارٹمنٹ عمارتوں، اسکولوں اور طبی مراکز سمیت متعدد عمارتیں متاثر ہوئیں۔
پیریرا میں 101 اور ملک کے تیسرے بڑے شہر کیلی میں 95 اموات کی اطلاع ملی ہے، جبکہ دیگر متاثرہ علاقوں میں بھی ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔ حکام کے مطابق امدادی ٹیموں کے دور دراز علاقوں تک پہنچنے کے ساتھ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
زلزلے کے مرکز کے قریب بحرالکاہل کے ساحل پر واقع جنگلاتی خطہ چوکو امدادی کارروائیوں کے لیے سب سے مشکل علاقوں میں شامل ہے۔ متعدد مقامی آبادیوں میں بجلی اور بنیادی سہولیات بدستور معطل ہیں، جبکہ تباہ شدہ سڑکوں اور مواصلاتی نظام کے باعث امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے منصب سنبھالنے کے فوراً بعد شدید متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور اپنے گھر کھونے والے خاندانوں کے لیے مالی امداد کا وعدہ کیا۔
ملبے تلے زندگی کی تلاش
پیریرا اور کیلی میں امدادی کارکنوں نے رات بھر بھاری مشینری اور ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے کا کام جاری رکھا۔ رضاکاروں نے ملبہ صاف کرنے کے لیے انسانی زنجیریں بنائیں جبکہ امدادی ٹیموں نے منہدم عمارتوں کے نیچے پھنسے افراد تک پہنچنے کے لیے کرینوں اور کھدائی کرنے والی مشینوں کا استعمال کیا۔
کیلی میں ٹوریس ڈیل لیمونار اپارٹمنٹ کمپلیکس کے ملبے سے ایک خاتون کو زندہ نکالے جانے کے بعد وہاں موجود لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ ریسکیو آپریشن کے اس لمحے نے تباہی کے درمیان امید کی ایک کرن پیدا کی۔
تاہم زلزلے نے مقامی ہنگامی خدمات کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔ کیلی کے سرکاری مردہ خانے کی گنجائش بھی پوری ہوگئی جبکہ متاثرہ علاقوں سے لاشیں منتقل کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔
زندہ بچ جانے والوں کی خوفناک یادیں
زلزلے سے بچ جانے والے افراد نے عمارتوں کے شدید لرزنے، لوگوں کے گھبرا کر سڑکوں پر نکلنے اور ہر طرف ملبہ پھیلنے کے مناظر بیان کیے۔
پیریرا کی رہائشی روزا گونزالیز نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر اور 10 ماہ کے بچے کے ساتھ ایک گیسٹ ہاؤس میں موجود تھیں اور عمارت منہدم ہونے سے چند لمحے قبل وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں۔
سوشل میڈیا پر معروف جوز گیلیگو زلزلے کے وقت پیریرا ایئرپورٹ پر موجود تھے۔ انہوں نے عمارت کی چھت کے کچھ حصے گرنے کے دوران آنے والے شدید جھٹکوں کو ریکارڈ کیا۔ بعد میں انہوں نے شہر میں زخمی افراد اور اپنے رشتہ داروں کی تلاش میں پریشان حال لوگوں کو بھی دیکھا۔
حکام کے مطابق منگل کی صبح تک تقریباً 100 آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے تھے۔ مسلسل جھٹکوں کے باعث متعدد رہائشیوں نے غیر مستحکم عمارتوں میں واپس جانے کے بجائے کھلے مقامات پر رہنے کو ترجیح دی۔
ہوائی اڈے، سڑکیں اور بنیادی سہولیات متاثر
زلزلے کے باعث ملک کے مغربی علاقوں میں نقل و حمل اور بنیادی خدمات بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔
کوئبڈو، پیریرا، مانیزیلس، آرمینیا، کارٹاگو اور بویناونٹورا کے چھ ہوائی اڈے نقصان کے باعث بند کر دیے گئے، جبکہ متعدد سڑکیں بھی متاثر ہوئیں۔
کئی علاقوں میں بجلی، پانی، صحت کی سہولیات اور مواصلاتی خدمات متاثر رہیں۔ چوکو ان علاقوں میں شامل ہے جہاں بنیادی خدمات کی بحالی سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
زلزلے کے معاشی اثرات بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ نیشنل کافی فیڈریشن نے ملک کے اہم کافی پیدا کرنے والے علاقوں میں کھیتوں اور دیہی انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
عالمی امداد کا آغاز
قدرتی آفت کے بعد بین الاقوامی امداد بھی متاثرہ علاقوں تک پہنچنا شروع ہوگئی ہے۔
امریکا نے عارضی پناہ گاہوں، خوراک، تحفظ اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے 15.5 ملین ڈالر کی ہنگامی امداد کا اعلان کیا ہے۔
بین امریکن ڈویلپمنٹ بینک نے بھی درخواست کی صورت میں تعمیر نو کے لیے 50 ملین ڈالر تک کی رقم دستیاب رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے اداروں نے کہا ہے کہ وہ متاثرہ کمیونٹیز میں اپنی سرگرمیاں بڑھا رہے ہیں اور بے گھر خاندانوں کے لیے خوراک اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی کی تیاری کر رہے ہیں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ ہلاکتوں کی حتمی تعداد میں اضافہ ممکن ہے، کیونکہ امدادی ٹیمیں ابھی دور دراز اور دشوار گزار علاقوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مواصلاتی رابطوں کی بحالی اور متاثرہ علاقوں کے مکمل جائزے کے بعد ہی زلزلے سے ہونے والی مجموعی تباہی کا درست اندازہ لگایا جا سکے گا، جس میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.