نیوز ڈیسک
کوئٹہ: بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بدھ کے روز 4.8 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جن میں ژوب اور چمن بھی شامل ہیں۔ زلزلے کے باعث شہریوں میں تشویش پھیل گئی، تاہم فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پاکستان محکمہ موسمیات کے تحت کام کرنے والے نیشنل سیسمک مانیٹرنگ سینٹر کے مطابق زلزلہ 15 کلومیٹر کی گہرائی میں آیا، جبکہ اس کا مرکز ژوب سے 122 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع تھا۔
حکام نے زلزلے کے بعد صورتحال کی نگرانی شروع کر دی ہے، خصوصاً اس لیے کہ بلوچستان ماضی میں کئی شدید اور نقصان دہ زلزلوں کا سامنا کر چکا ہے۔
تازہ زلزلے نے ایک مرتبہ پھر صوبے کے مختلف اضلاع میں موجود زلزلے کے خطرے کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔
ژوب اور چمن اکتوبر 2021 میں آنے والے 5.9 شدت کے تباہ کن زلزلے سے بھی متاثر ہوئے تھے۔ اس زلزلے کا مرکز ہرنائی کے قریب 15 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا اور یہ صبح تقریباً 3:20 بجے آیا، جب بیشتر شہری سو رہے تھے۔
2021 کے زلزلے میں کم از کم 20 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے، جبکہ ہرنائی سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ تھا۔ زلزلے کے باعث متعدد عمارتیں منہدم ہوئیں اور 70 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا۔
بعد ازاں کئی روز تک آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری رہا، جس کے باعث امدادی کارروائیوں کے لیے ریسکیو ٹیموں اور فوجی اہلکاروں کو متاثرہ علاقوں میں تعینات کیا گیا تھا۔
چمن مارچ 2024 میں بھی 5.4 شدت کے زلزلے سے متاثر ہوا تھا۔ یہ زلزلہ صبح تقریباً 5:35 بجے 35 کلومیٹر کی گہرائی میں آیا، جبکہ اس کا مرکز کوئٹہ سے تقریباً 150 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع تھا۔
مارچ 2024 کے زلزلے کے جھٹکے قلعہ عبداللہ، نوشکی، پشین، دالبندین، چاغی اور کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے تھے۔
بدھ کو آنے والے زلزلے کے بعد فی الحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بلوچستان میں ماضی کی شدید زلزلہ سرگرمی کے باعث متعلقہ ادارے کسی بھی ممکنہ آفٹر شاک یا نقصان کی صورت میں صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
Prev Post
