نیوز ڈیسک
ملتان: پاکستان کا ڈومیسٹک کرکٹ سیزن منگل سے شروع ہونے والے البتل پریزینٹ یونیورسٹی آف لاہور نیشنل چیمپئنز کپ 2026-27 کے ساتھ اہم مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، جہاں چار ٹیموں کے درمیان مقابلہ صرف ٹرافی کے حصول تک محدود نہیں بلکہ 2027 کے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے قومی ٹیم کے ممکنہ کھلاڑیوں کی جانچ بھی ہوگی۔
ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جانے والا سات میچوں پر مشتمل 50 اوورز کا یہ ٹورنامنٹ قومی سلیکٹرز اور کوچنگ اسٹاف کو موجودہ بین الاقوامی کھلاڑیوں کے ساتھ ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کو مختلف کرداروں میں آزمانے کا موقع فراہم کرے گا۔
ملک کے سرکردہ وائٹ بال کھلاڑیوں کو پاکستان گرینز، پاکستان گولڈ، پاکستان وائٹس اور پاکستان بلیوز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر ٹیم میں 11 کھلاڑی اور تین ریزرو شامل ہیں۔
شاہین شاہ آفریدی، شاداب خان، صائم ایوب اور صاحبزادہ فرحان بالترتیب چاروں ٹیموں کی قیادت کریں گے۔
افتتاحی میچ میں منگل کو پاکستان گرینز اور پاکستان وائٹس آمنے سامنے ہوں گے، جبکہ بدھ کو پاکستان بلیوز کا مقابلہ پاکستان گولڈ سے ہوگا۔ تمام میچز دوپہر 3 بجے ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں شروع ہوں گے۔
پاکستان کے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن بھی ٹورنامنٹ کی کارکردگی پر گہری نظر رکھیں گے۔ انہوں نے اتوار کو چاروں ٹیموں کے کوچنگ اسٹاف سے ملاقات کی، جس میں 2027 ورلڈ کپ کے لیے قومی ٹیم کی تیاری کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چیمپئنز کپ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں دو ماہ تک جاری رہنے والے وائٹ بال کیمپ کے بعد شروع ہورہا ہے، جس کے باعث کھلاڑی بہتر فٹنس اور حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترنے کی توقع ہے۔
پاکستان گولڈ کی قیادت کرنے والے شاہین شاہ آفریدی کے لیے یہ ٹورنامنٹ کھلاڑیوں کو مختلف میچ حالات میں جانچنے اور مستقبل کے لیے مضبوط آپشنز تیار کرنے کا موقع بھی ہوگا۔
پاکستان وائٹس کے کپتان صائم ایوب نے 50 اوورز کے فارمیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ پاکستان بلیوز کے کپتان صاحبزادہ فرحان نے ٹیم میں نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں کے امتزاج کو نمایاں کیا۔
ٹرافی کی رونمائی اور پریس کانفرنس کے موقع پر شاداب خان کے ہمراہ موجود فہیم اشرف نے کہا کہ ایونٹ کھلاڑیوں کو میدان میں بہتر رابطہ اور باہمی سمجھ بوجھ پیدا کرنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔
تجربہ کار کوچز کی نگرانی
چاروں ٹیموں کو تجربہ کار کوچنگ اسٹاف کی نگرانی حاصل ہے۔ سابق قومی کپتان مصباح الحق اور اعجاز احمد جونیئر بھی کوچنگ ذمہ داریوں میں شامل ہیں، جبکہ اقبال امام اور اعزاز چیمہ بالترتیب پاکستان وائٹس اور پاکستان بلیوز کی نگرانی کریں گے۔
آٹھ روز میں سات میچوں پر مشتمل یہ مقابلہ پاکستان کی وائٹ بال کرکٹ میں موجود گہرائی جانچنے کا اہم ذریعہ ہوگا۔ متعدد کھلاڑیوں کے لیے ملتان میں نمایاں کارکردگی قومی ٹیم میں جگہ بنانے کی جانب اہم قدم ثابت ہوسکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب 2027 ورلڈ کپ کی تیاریاں تیز ہورہی ہیں۔
انعامی رقم 81 لاکھ 50 ہزار روپے
چیمپئنز کپ میں کھلاڑیوں کے لیے مالی انعامات بھی رکھے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر 81 لاکھ 50 ہزار روپے کی انعامی رقم تقسیم کی جائے گی۔
ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم کو 50 لاکھ روپے جبکہ رنرز اپ کو 25 لاکھ روپے ملیں گے۔ پلیئر آف دی ٹورنامنٹ، بہترین بلے باز، بہترین باؤلر اور بہترین وکٹ کیپر کو بھی ایک، ایک لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
ٹورنامنٹ کا شیڈول
11 اگست: پاکستان گرینز بمقابلہ پاکستان وائٹس
12 اگست: پاکستان بلیوز بمقابلہ پاکستان گولڈ
13 اگست: پاکستان بلیوز بمقابلہ پاکستان وائٹس
14 اگست: پاکستان گولڈ بمقابلہ پاکستان گرینز
15 اگست: پاکستان بلیوز بمقابلہ پاکستان گرینز
16 اگست: پاکستان گولڈ بمقابلہ پاکستان وائٹس
18 اگست: فائنل — ٹاپ دو ٹیمیں
تمام میچز ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں دوپہر 3 بجے شروع ہوں گے۔ مقابلے پی ٹی وی اسپورٹس پر نشر کیے جائیں گے، جبکہ پاکستان میں ٹپماد اور تماشا میچز کو لائیو اسٹریم کریں گے۔ پاکستان سے باہر ناظرین کے لیے پی سی بی کا یوٹیوب چینل کوریج فراہم کرے گا۔
Next Post
