اشتیاق احمد
بریڈ فورڈ:جیسے ہی 14 اگست قریب آتا ہے، پاکستان بھر میں سبز و سفید ہلال و ستارے والے پرچم لہرانے لگتے ہیں۔ گلیاں اور بازار سج جاتے ہیں، حب الوطنی کے گیت فضا میں گونجتے ہیں اور ہر طرف جشن کا ماحول نظر آتا ہے۔
یہ سب ہونا چاہیے، کیونکہ آزادی ایک ایسی عظیم نعمت ہے جس کی قدر شاید وہ قومیں زیادہ گہرائی سے سمجھتی ہیں جو آج بھی اس سے محروم ہیں یا اس کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ کشمیر اور فلسطین کے عوام کی آزادی کے لیے جاری جدوجہد اس حقیقت کی ایک دردناک مثال ہے۔
لیکن کیا یوم آزادی محض جشن منانے کا دن ہے؟ میری نظر میں، نہیں۔
14 اگست شکریہ ادا کرنے، اپنے عہد کی تجدید کرنے اور احتساب کا دن بھی ہے۔ یہ دن ہمیں جذباتی نعروں اور رسمی تقریبات سے آگے بڑھ کر خود سے ایک بنیادی سوال پوچھنے کا موقع دیتا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ہم نے کیا حاصل کیا اور کیا کھویا؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ہم اکثر پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کو ایک بڑی قومی کامیابی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک اہم کامیابی ہے اور ہمیں اس پر فخر ہونا چاہیے، لیکن کسی ملک کی طاقت کا پیمانہ صرف اس کے جوہری ہتھیار نہیں ہوتے۔
حقیقی طاقت اس وقت سامنے آتی ہے جب ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ، روزگار، تعلیم، صحت اور انصاف فراہم کرنے کے قابل ہو۔ جب شہریوں کو یقین ہو کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور ریاست انہیں عزت، سلامتی اور معاشی مواقع فراہم کرے گی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں جشن آزادی کے ساتھ احتساب کا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔
آج پاکستان سیاسی بے یقینی، معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور قرضوں کے بوجھ جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ عام شہری کے لیے زندگی آسان نہیں۔ روزگار، تعلیم، صحت، تحفظ اور انصاف لاکھوں پاکستانیوں کے بنیادی خدشات میں شامل ہیں۔
قومی یکجہتی کا سوال بھی مسلسل اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ کشمیر کی صورتحال ہمارے لیے ایک دیرینہ قومی المیہ ہے، جبکہ بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں سامنے آنے والی بدامنی ہمیں اس بات پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جو ہمارے قومی بندھن کو کمزور کر رہے ہیں۔
یہ سوال صرف حکومتوں سے متعلق نہیں، بلکہ ہم سب سے ہے۔
ریاست محض جغرافیہ، سرحدوں اور اداروں کا نام نہیں۔ حقیقت میں ریاست اپنے شہریوں کے اعتماد سے مضبوط ہوتی ہے۔ جب شہری یہ محسوس کرنے لگیں کہ ان کی آواز نہیں سنی جا رہی، ان کے مسائل حل نہیں ہو رہے یا قانون اور انصاف سب کے لیے یکساں نہیں تو محض نعروں سے قومی اتحاد مضبوط نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم ان تمام تلخ حقیقتوں کے باوجود ہمیں آزادی کی نعمت کو نظرانداز یا مسترد نہیں کرنا چاہیے۔ آزادی کسی حکومتی پالیسی کی کامیابی یا ناکامی کا نام نہیں، بلکہ ایک بنیادی انسانی قدر ہے۔
ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے بارے میں اپنی مرضی سے فیصلے کر سکے، اپنے خیالات رکھ سکے، اپنی رائے کا اظہار کر سکے اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں عزت و وقار کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔ یہی خواہش قوموں کو آزادی کی جدوجہد پر آمادہ کرتی ہے۔
اسی لیے پاکستان میں یوم آزادی منانا کسی خاص حکومت، سیاسی جماعت یا حکومتی کارکردگی کا جشن نہیں۔ یہ آزادی کے اس تصور کا جشن ہے جس کے لیے برصغیر کے مسلمانوں نے ایک علیحدہ وطن کا خواب دیکھا تھا۔
اس جشن کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم اپنی ناکامیوں پر آنکھیں بند کر لیں یا غربت، مہنگائی، سیاسی کشمکش، معاشی بحران اور ناانصافی کو نظرانداز کریں۔ اس کے برعکس، آزادی کا حقیقی جشن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جس پاکستان کا خواب دیکھا گیا تھا، وہ ابھی پوری طرح حقیقت نہیں بن سکا۔
اس لیے 14 اگست کو ہمیں صرف پرچم نہیں اٹھانا چاہیے بلکہ اپنے ضمیر کو بھی بیدار کرنا چاہیے۔ ہمیں صرف حب الوطنی کے گیت نہیں گانے چاہئیں بلکہ یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ ہم پاکستان کو ایسا ملک بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے جہاں آزادی محض ایک قومی نعرہ نہ ہو بلکہ ہر شہری کے لیے ایک زندہ تجربہ ہو۔
ایسا پاکستان جہاں قانون کی حکمرانی ہو، انصاف تک رسائی ہو، اختلاف رائے کو برداشت کیا جائے اور ہر پاکستانی کو عزت، سلامتی اور بہتر مستقبل کا حق حاصل ہو۔
شاید یہی یوم آزادی کا سب سے بڑا پیغام ہے: آزادی پر فخر ضرور کریں، لیکن اس کے ساتھ جڑی ذمہ داریوں کو بھی سمجھیں۔ جشن ضرور منائیں، مگر احتساب کے ساتھ۔ ماضی کی کامیابیوں کو ضرور یاد رکھیں، لیکن مستقبل کی ذمہ داریوں سے آنکھیں نہ چرائیں۔
’’پاکستان زندہ باد‘‘ کہنا آسان ہے، اصل امتحان پاکستان کو مضبوط، انصاف پسند، خوشحال اور متحد بنانا ہے۔
یوم آزادی مبارک ہو۔ پاکستان زندہ باد، پاکستانی قوم پائندہ و ترقی یافتہ ہو۔
