امن کی تلاش میں ایک سرحد

علی سعد

0

اسلام اباد:پاکستان اور افغانستان کے درمیان پھیلی تقریباً 2,640 کلومیٹر طویل سرحد، جسے سرکاری طور پر ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے، صرف دو ملکوں کے درمیان جغرافیائی لکیر نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی، سیاسی اور سیکیورٹی بحث کا مرکز بھی ہے۔
پاکستان ڈیورنڈ لائن کو ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی سرحد سمجھتا ہے، جبکہ افغانستان اس مؤقف کو تسلیم نہیں کرتا۔ یہی اختلاف دونوں ممالک کے تعلقات میں کئی دہائیوں سے کشیدگی کی ایک بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔
جیسا کہ معروف شاعر رابرٹ فراسٹ نے لکھا تھا، “کچھ ایسی چیز ہے جو دیوار کو پسند نہیں کرتی۔” شاید یہی کیفیت پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے حوالے سے بھی نظر آتی ہے، جہاں تقسیم کی لکیر کو امن اور تعاون کی علامت بنانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
سرحد پار سے ہونے والی عسکریت پسندی، سیکیورٹی خدشات، تجارتی رکاوٹیں، نقل مکانی کے مسائل اور سماجی مشکلات نے دونوں ممالک کے عوام کو متاثر کیا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سمیت خطے کے کئی اہم منصوبے بھی عدم استحکام کے اثرات سے متاثر ہوئے ہیں، جہاں عسکریت پسند گروہوں کے خطرات اور مبینہ پراکسی سرگرمیاں ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔
ایسے حالات میں ضروری ہے کہ سرحدی تنازعات اور اختلافات کو طاقت کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی اعتماد کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ ڈیورنڈ لائن ایک تنازع کی علامت کے بجائے امن، تجارت اور دوستی کا راستہ بن سکے۔
عسکریت پسندی کا چیلنج
پاکستان کے لیے سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی ایک اہم سیکیورٹی مسئلہ رہی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حملوں کو پاکستان اپنی داخلی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیتا ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود طالبان حکومت ٹی ٹی پی کے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کر رہی، جبکہ افغان حکومت اس الزام کو مسترد کرتی رہی ہے۔ پاکستان نے ٹی ٹی پی کو فتنہ الخوارج قرار دیتے ہوئے اس کے اقدامات کو اسلام کے نام پر تشدد کا جواز فراہم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
3 اگست کو ایک امن احتجاج کے دوران ہونے والے دہشت گرد حملے میں شہریوں اور ایک پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم 14 افراد جاں بحق ہوئے۔ بعد میں ٹی ٹی پی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ ایسے گروہ عام شہریوں، پڑوسی معاشروں اور مشترکہ مذہبی و ثقافتی رشتوں رکھنے والی برادریوں کے خلاف تشدد کو کس بنیاد پر جائز قرار دیتے ہیں۔
اسی طرح بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی سرگرمیاں بھی پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج رہی ہیں۔ بی ایل اے پر بلوچستان میں ریلوے ٹریکس، شہریوں اور سیکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ایسے گروہ کس طرح منظم ہوتے ہیں اور انہیں وسائل کہاں سے حاصل ہوتے ہیں۔ پاکستان کی قیادت نے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سمیت بعض تنظیموں پر غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گرد پراکسی ہونے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
افغان بحران کپ پاکستان پر اثرات
افغانستان میں سوویت مداخلت اور بعد ازاں امریکی جنگ کے دوران لاکھوں افغان مہاجرین نے پاکستان کا رخ کیا، جہاں انہوں نے مختلف علاقوں میں سکونت اختیار کی۔
وقت گزرنے کے ساتھ افغان مہاجرین نے پاکستان کی معیشت، سماج اور روزمرہ زندگی میں مختلف کردار ادا کیے، تاہم سرحدی سیکیورٹی، غیر قانونی آمدورفت اور عسکریت پسندی جیسے مسائل بھی سامنے آتے رہے۔
سرحد پار حملوں اور دہشت گردی کے واقعات نے پاکستان کو بارڈر مینجمنٹ مضبوط بنانے، سیکیورٹی اقدامات بڑھانے اور انٹیلی جنس تعاون بہتر بنانے پر مجبور کیا۔
دوسری جانب، پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت بھی کشیدگی سے متاثر ہوئی ہے۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والی مقامی آبادی کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاری کے امکانات کو بھی متاثر کیا ہے۔
امن کے لیے تعاون ضروری
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں مسائل کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور معاشی روابط موجود ہیں۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ علاقائی استحکام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔
پاکستان نے مختلف مواقع پر مذاکرات کے ذریعے امن کی حمایت کی ہے، تاہم اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
امن کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان قبائلی عمائدین، مذہبی اسکالرز، سیاسی قیادت، سابق حکام، کاروباری برادری اور سول سوسائٹی سمیت تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کرے۔
سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی نظام کو مزید مؤثر بنانے، جدید نگرانی کے نظام، بائیومیٹرک سہولیات اور قانونی تجارت کے فروغ کے اقدامات کیے جا سکتے ہیں تاکہ عوام اور تاجروں کو سہولت بھی ملے اور سیکیورٹی خدشات بھی کم ہوں۔
اس کے ساتھ ساتھ چین، ترکی، سعودی عرب سمیت دیگر علاقائی ممالک کی مدد سے کثیرالجہتی سفارتی کوششیں بھی امن کے عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
سرحد تقسیم نہیں، رابطے کی لکیر
پاکستان کو صرف سیکیورٹی اقدامات تک محدود رہنے کے بجائے طویل المدتی اقتصادی تعاون پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ افغانستان کے ساتھ تجارت، علاقائی روابط اور مشترکہ منصوبوں میں اضافہ دونوں ممالک کے عوام کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنی سب سے طویل سرحد شیئر کرتا ہے۔ اگرچہ ڈیورنڈ لائن کی حیثیت پر دونوں ممالک کے مؤقف مختلف ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ خطے کا مستقبل امن، تعاون اور باہمی احترام سے جڑا ہوا ہے۔
عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیاں اور سیاسی اختلافات تجارت اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ضرور ہیں، لیکن مستقل مذاکرات، اعتماد سازی اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے اس سرحد کو تنازع کی علامت کے بجائے امن اور ترقی کا راستہ بنایا جا سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.