بندروں کا سفر، انسانوں کے لیے پیغام

0

عاصم مصطفیٰ اعوان
اسلام آباد: دنیا بھر میں ہر صبح والدین اپنے بچوں کو سڑک عبور کراتے وقت ان کا ہاتھ تھام لیتے ہیں۔ جانوروں کی دنیا میں کسی کو یہ سبق سکھانے کی ضرورت نہیں پڑتی، کیونکہ یہ ایک فطری جبلت ہے۔
اسلام آباد کی ایک مصروف سڑک پر بندروں کے ایک جھنڈ کی یہ تصویر اسی قدرتی احساس کی عکاسی کرتی ہے، جہاں مائیں اپنے نوزائیدہ بچوں کو مضبوطی سے اپنے جسم سے لپٹائے ہوئے ہیں، جبکہ بالغ بندر ایک دوسرے کے قریب رہ کر اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ کوئی بچہ پیچھے نہ رہ جائے۔
نہ کوئی افراتفری ہے، نہ خوف، بلکہ ایک خاموش سمجھ بوجھ ہے کہ بقا کا راز ساتھ رہنے میں ہے۔
یہ ذمہ داری اور محبت کا ایسا سبق ہے جس کے لیے کسی زبان کی ضرورت نہیں۔
تاہم اس خوبصورت منظر کے پس منظر میں ایک تشویشناک حقیقت بھی چھپی ہوئی ہے۔
جنگلی جانور تفریح یا شوق کے لیے شہر کی سڑکوں کا رخ نہیں کرتے۔ وہ اس لیے انسانی آبادیوں کے قریب آنے پر مجبور ہوتے ہیں کیونکہ ان کے قدرتی مسکن میں تبدیلی آ چکی ہے۔
خوراک کے ذرائع کم ہو رہے ہیں، درختوں کی تعداد گھٹ رہی ہے اور وہ جنگلات جو کبھی جنگلی حیات کا گھر تھے، سڑکوں کی توسیع، ہاؤسنگ منصوبوں اور غیر قانونی کٹائی کے باعث سکڑتے جا رہے ہیں۔
ہر کٹا ہوا درخت صرف لکڑی کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا، بلکہ یہ کسی جانور کا مسکن، خوراک کا ذریعہ اور بقا کا ایک اہم سہارا بھی ہوتا ہے۔ جب یہ سب ختم ہوتا ہے تو جنگلی حیات تیز رفتار ٹریفک اور انسانی آبادیوں کے خطرات کا سامنا کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
بندر انسانوں کے علاقوں پر قبضہ نہیں کر رہے، بلکہ ہم ان علاقوں تک پھیل چکے ہیں جو کبھی ان کا قدرتی گھر تھے۔
پاکستان میں قدرت کئی بار اپنے بدلتے حالات کے ذریعے خبردار کر چکی ہے۔ پرندے ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرکے آتے ہیں لیکن انہیں شکار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جنگلات کی کمی جانوروں کو بے گھر کر رہی ہے، دریا آلودہ ہو رہے ہیں، گیلی زمینیں سکڑ رہی ہیں اور ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید انواع اپنی بقا کے لیے انسانی آبادیوں کے قریب آنے پر مجبور ہو رہی ہیں۔
اس نقصان کی قیمت صرف جنگلی حیات کی ہلاکتوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کا اثر پورے ماحولیاتی نظام پر پڑتا ہے، جو بالآخر انسانوں کی زندگیوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔
اس تصویر میں موجود بندر شہری ترقی، زمین کے حصول یا تعمیراتی منصوبوں کی حقیقت نہیں سمجھتے۔ وہ صرف ایک بات جانتے ہیں کہ ان کے بچوں کو محفوظ رہنا ہے۔ اسی لیے وہ انہیں اپنے قریب رکھتے ہیں، خطرناک راستے ایک ساتھ عبور کرتے ہیں اور کسی کو پیچھے نہیں چھوڑتے۔
شاید یہی اس تصویر کا سب سے بڑا پیغام ہے۔
جہاں انسان اکثر سہولت کو ترجیح دیتا ہے، وہاں فطرت اب بھی محبت، حفاظت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی ہے۔
ترقی ضروری ہے، لیکن ایسی ترقی جو زندگی کو سہارا دینے والے جنگلات اور قدرتی نظام کو ختم کر دے، مستقبل کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
جو قوم اپنی جنگلی حیات کی حفاظت کرتی ہے، وہ صرف جانوروں کو نہیں بچاتی بلکہ اس قدرتی توازن کو محفوظ رکھتی ہے جس پر خود انسان کا مستقبل بھی منحصر ہے۔
جب یہ بندر سڑک عبور کرکے دوبارہ درختوں میں گم ہو جاتے ہیں تو ایک سوال ذہن میں ضرور آتا ہے کہ اس سے پہلے کہ ہم انہیں واپس جانے کے لیے محفوظ جنگلات فراہم کریں، انہیں مزید کتنی سڑکیں عبور کرنا ہوں گی؟
فوٹو کریڈٹ: اے پی پی

Leave A Reply

Your email address will not be published.