ظریف بلوچ
پسنی: بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی میں تیز دھوپ اور سخت موسمی حالات کے باوجود صدیوں پرانی خشک مچھلی کی روایت آج بھی زندہ ہے، تاہم وقت کے ساتھ اس صنعت کا کردار نمایاں طور پر بدل چکا ہے۔
کبھی ساحلی علاقوں کی معیشت کا اہم ستون سمجھی جانے والی خشک مچھلی کی تجارت اب نئی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہے۔ اگرچہ اس کی ماضی جیسی اہمیت باقی نہیں رہی، لیکن آج بھی یہ صنعت سیکڑوں افراد کے روزگار کا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔
پسنی میں گزشتہ چار سال سے خشک مچھلی کے کاروبار سے وابستہ کارکن مبارک بتاتے ہیں کہ شدید گرمی میں کھلے آسمان تلے مچھلی خشک کرنا ایک مشکل کام ہے، لیکن روزگار کے محدود مواقع کے باعث وہ اس پیشے سے جڑے ہوئے ہیں۔
مبارک کے مطابق، “ہم اس کام سے اپنے گھر کا خرچ چلاتے ہیں۔ گرمی میں مچھلی خشک کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، لیکن بے روزگاری کی وجہ سے ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ ہم ماہانہ تقریباً 35 ہزار سے 50 ہزار روپے تک کما لیتے ہیں۔”
کراچی سے تعلق رکھنے والے مبارک روزگار کے سلسلے میں موسمی بنیادوں پر پسنی آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں کاروباری حالات بہتر رہے ہیں۔ ان کے بقول، “جب تک سمندر میں مچھلی موجود ہے، یہ کاروبار بھی چلتا رہے گا۔”
دھوپ میں خشک ہوتی مچھلی اور بدلتی ہوئی منڈیاں
پسنی ہور کے قریب ایسے مقامات پر جہاں چھوٹی یا کم قیمت والی مچھلی تازہ حالت میں برآمد نہیں ہو پاتی، اسے کھلے علاقوں میں پھیلا کر قدرتی دھوپ سے خشک کیا جاتا ہے۔
خشک ہونے کے بعد یہ مچھلی کراچی منتقل کی جاتی ہے، جہاں اسے مزید پروسیس کرکے پولٹری فیڈ کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
ماضی میں خشک مچھلی کی تجارت پسنی کی بڑی معاشی سرگرمیوں میں شامل تھی۔ کولڈ اسٹوریج کی سہولیات کے عام ہونے سے پہلے بحیرہ عرب سے حاصل ہونے والی مچھلی کو صاف کرکے، نمک لگا کر اور دھوپ میں خشک کیا جاتا تھا، جس کے بعد اسے سری لنکا سمیت دیگر ممالک کو برآمد کیا جاتا تھا۔
1970 کی دہائی سے یہ صنعت کئی خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ رہی اور مقامی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی رہی، تاہم وقت کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی نے ماہی گیری کے شعبے کا انداز بدل دیا۔
کولڈ اسٹوریج، ریفریجریٹڈ ٹرانسپورٹ اور جدید کشتیوں میں نصب کولنگ سسٹمز کے باعث تازہ مچھلی کو محفوظ رکھنا اور بیرون ملک بھیجنا آسان ہوگیا۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں تازہ سمندری خوراک کی بڑھتی طلب نے روایتی خشک مچھلی کی مانگ کو بھی متاثر کیا۔
ختم نہیں ہوئی، صرف بدل گئی صنعت
اگرچہ خشک مچھلی کی صنعت نے اپنا پرانا مقام کھو دیا، لیکن یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ اس نے ایک نیا مقصد حاصل کر لیا ہے۔
جب سمندر سے حاصل ہونے والی بڑی مقدار میں مچھلی مارکیٹ کی طلب سے زیادہ ہو جائے یا برف کی کمی کے باعث تازہ مچھلی برآمد کے معیار پر پوری نہ اتر سکے تو اسے ضائع کرنے کے بجائے خشک کر لیا جاتا ہے۔
یہ خشک مچھلی بعد میں پولٹری فیڈ تیار کرنے والی صنعت کو فراہم کی جاتی ہے۔
مبارک کے مطابق، پسنی میں تقریباً 200 خاندان اب بھی اس شعبے سے وابستہ ہیں۔ ہر ہفتے خشک مچھلی لے جانے والے ٹرک کراچی کے ابراہیم حیدری پہنچتے ہیں، جہاں اسے پولٹری فیڈ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
کھلے آسمان تلے محنت
خشک مچھلی تیار کرنے والے مزدوروں کے لیے یہ کام آج بھی آسان نہیں۔ شدید گرمی، دھوپ اور سخت حالات میں انہیں کئی گھنٹے کھلے آسمان تلے کام کرنا پڑتا ہے۔
خشک کرنے کے ایک مقام پر کام کرنے والے ایک بزرگ مزدور کے مطابق وہ روزانہ تقریباً ایک ہزار روپے کماتے ہیں، تاہم کام مستقل بنیادوں پر دستیاب نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا ہے کہ بے روزگاری نے کئی افراد کو اس مشکل پیشے سے جوڑ دیا ہے، جہاں آمدنی کا انحصار موسم، مچھلی کی دستیابی اور کاروباری حالات پر ہوتا ہے۔
بحالی اور جدید سہولیات کی ضرورت
پسنی سے تعلق رکھنے والے مصنف اور تجزیہ کار ملک جان کے ڈی کے مطابق خشک مچھلی کی صنعت ماضی جیسی حیثیت تو حاصل نہیں کر سکی، تاہم اس میں اب بھی معاشی ترقی کی صلاحیت موجود ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جدید طریقہ کار، بہتر انفراسٹرکچر، پروسیسنگ سہولیات اور مناسب سرمایہ کاری کے ذریعے اس روایتی شعبے کو دوبارہ مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خشک مچھلی کا کاروبار نہ صرف مقامی خاندانوں کے لیے آمدنی کا ذریعہ ہے بلکہ اس سے ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد، جن میں سوزوکی پک اپ اور رکشہ ڈرائیور بھی شامل ہیں، بالواسطہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر اس صنعت میں جدید ٹیکنالوجی، بہتر پروسیسنگ یونٹس اور مناسب سہولیات فراہم کی جائیں تو پسنی کی خشک مچھلی کی تجارت ایک بار پھر ساحلی معیشت کا اہم حصہ بن سکتی ہے، جبکہ یہ علاقے کی تاریخی اور ثقافتی روایت کو بھی محفوظ رکھنے میں مدد دے گی۔
Prev Post
Next Post
