سوشل میڈیا:جنگل میں منگل

1

اشتیاق احمد
آج کے ڈیجیٹل دور میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس کی رسائی سوشل میڈیا تک نہ ہو۔ موبائل فون نے دنیا کو اس قدر سمیٹ دیا ہے کہ لوگ گویا سوشل میڈیا کو اپنی جیبوں اور ہاتھوں میں لیے پھرتے ہیں۔ انٹرنیٹ کے ارزاں پیکجز نے فیس بک، واٹس ایپ، یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز کو صرف شہروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ دور دراز دیہات، پہاڑوں، جنگلات اور ناافتادہ علاقوں تک بھی پہنچا دیا ہے۔ اب وہ مقامات بھی، جہاں کبھی رابطے کا واحد ذریعہ کسی راہ گیر یا ڈاکیے کا انتظار ہوتا تھا، دنیا سے لمحوں میں جڑ چکے ہیں۔
میرا آبائی علاقہ درمیانی سطح کی پہاڑیوں، سرسبز جنگلات اور قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ حال ہی میں جب میں اپنے گاؤں گیا تو سوشل میڈیا اور موبائل فون کی افادیت سے متعلق ایک ایسا دلچسپ واقعہ پیش آیا جس نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔

میں ایک پرانے دوست سے ملاقات کے لیے اس کے گھر پہنچا۔ معلوم ہوا کہ وہ قریبی جنگل میں بکریاں چرانے گیا ہوا ہے۔ اس کا بیٹا، جو گھر پر موجود تھا، بڑے خلوص سے ملا اور بولا:
“انکل! آپ بیٹھیں، میں ابھی ابو کو بلا لیتا ہوں۔” میں نے مسکراتے ہوئے کہا:
“رہنے دو بیٹا، تمہیں جنگل میں انہیں ڈھونڈنے کی کیا ضرورت ہے؟ میں پھر کبھی آ جاؤں گا۔”

اس نے فوراً جواب دیا:
“مجھے کہیں جانے کی ضرورت نہیں، بس فون کر دیتا ہوں۔”
میں نے حیرت سے پوچھا:
“کیا تمہارے ابو کے پاس جنگل میں بھی موبائل ہوتا ہے؟”
وہ اعتماد سے بولا:
“جی ہاں، ہمارے گھر میں سب کے پاس فون ہے، ابو کے پاس انٹرنیٹ پیکج بھی ہے۔ ہم ہر وقت ان سے رابطے میں رہتے ہیں۔”
‎میں نے اسے فون کرنے سے منع کیا اور کہا کہ میں خود ہی چل کر دوست سے مل لیتا ہوں۔ اس طرح کچھ چہل قدمی بھی ہو جائے گی اور برسوں بعد اپنے بچپن کی ان پگڈنڈیوں کو بھی دیکھ لوں گا
جن پر کبھی روزانہ آنا جانا ہوتا تھا۔
اس نے ہاتھ کے اشارے سے سمت بتائی، اور میں جنگل کی طرف روانہ ہو گیا۔
‎اگرچہ یہ علاقہ میرے لیے اجنبی نہیں تھا، لیکن برسوں بعد وہاں جانا ایک الگ ہی احساس تھا۔ درخت ویسے ہی خاموش کھڑے تھے،
ہوا ویسی ہی ٹھنڈی تھی اور پہاڑی ڈھلوانیں آج بھی بچپن کی
یادیں تازہ کر رہی تھیں۔
چند منٹ چلنے کے بعد میرا دوست ایک ٹیلے پر بیٹھا نظر آیا۔ اس کے اردگرد بکریاں چر رہی تھیں، مگر وہ خود موبائل فون پر کسی سے محوِ گفتگو تھا۔ اس نے مجھے دیکھ کر مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلایا اور بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
‎کچھ دیر بعد اس نے فون بند کیا، گرمجوشی سے ملا اور ہنستے ہوئے
بولا:
“یار! تمہیں یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی؟ لڑکے سے فون کروا دیتے، میں گھر آ جاتا۔”
میں نے جواب دیا:
“اس نے تو یہی کہا تھا، مگر میں نے خود آنے کو ترجیح دی۔”
باتوں ہی باتوں میں اس نے بتایا کہ وہ ایک دوسرے بکروال سے بات کر رہا تھا۔ ہفتہ کے روز جبر منڈی میں چند بکریاں لے جانے کا ارادہ تھا، اس سے پوچھ رہا تھا کہ اگر وہ بھی جائے تو دونوں اکٹھے چلیں۔
پھر اس نے اپنی مخصوص پنجابی لہجے میں ایک ایسا جملہ کہا جس میں جدید ٹیکنالوجی کی پوری افادیت سمٹ آئی تھی:
“ایہ فون بڑی کم دی چیز اے۔ او وی آلے دوالے بکریاں نال اے، اوے نال گل ہو گئی۔ نہیں تے اوے کول جانا پیندا۔ نالے گھر والیاں نال رابطہ رہنا اے، اور اتھے بیٹھے بیٹھے آسے پاسے دیاں خبراں وی مل جانیاں نے”
میں دل ہی دل میں مسکرا اٹھا۔ ایک سادہ چرواہے نے چند لفظوں میں موبائل فون، انٹرنیٹ اور مسلسل رابطے کی پوری اہمیت بیان کر دی تھی۔
بلاشبہ سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ نے انسانی زندگی کو بے شمار آسانیاں فراہم کی ہیں۔ معلومات تک رسائی، ایک دوسرے سے فوری رابطہ، ہنگامی حالات میں مدد، کاروباری معاملات اور تعلیمی سرگرمیوں میں ان کا کردار ناقابلِ انکار ہے۔ ایسے علاقوں میں، جہاں اخبارات، رسائل یا ٹیلی وژن کی رسائی محدود ہو، موبائل فون ہی دنیا کی کھڑکی بن جاتا ہے۔
آج کل مختلف علاقائی، ادبی، ثقافتی اور سماجی پلیٹ فارمز بھی وجود میں آ چکے ہیں جہاں لوگ اپنے علاقے کی تاریخ، ثقافت، زبان اور روایات کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں خود بھی ایسے کئی فورمز سے استفادہ کرتا ہوں اور انہیں ایک مثبت پیش رفت سمجھتا ہوں۔
‎لیکن ہر سہولت کی طرح سوشل میڈیا کے بھی کچھ منفی پہلو ہیں۔
سب سے بڑا نقصان شاید یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان بالمشافہ ملاقاتیں کم ہوتی جا رہی ہیں۔ میرے دوست کی مثال ہی لے لیجیے۔ موبائل نے یقیناً اس کا وقت بچا دیا، مگر اگر فون نہ ہوتا تو وہ اپنے ساتھی سے ملنے جاتا، حال احوال پوچھے جاتے، چند خوش گوار لمحے ساتھ گزرتے، اور گھر والوں سے بھی ملاقات ہو جاتی۔ یوں صرف ایک کام نہیں ہوتا بلکہ رشتوں کی حرارت بھی برقرار رہتی۔
سوشل میڈیا کا ایک اور رجحان بھی قابلِ غور ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اکثر شخصیات کی بے جا تعریف، مبالغہ آمیز تحسین اور قصیدہ گوئی عام ہو چکی ہے۔ اگر کوئی صاحبِ حیثیت معمولی سا اچھا کام بھی کر دے تو اس کی تعریف میں زمین و آسمان ایک کر دیے جاتے ہیں، لیکن اگر کوئی عام آدمی خاموشی سے رفاہِ عامہ کا کوئی قابلِ قدر کام انجام دے تو اس کا ذکر بھی مشکل سے ہوتا ہے۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسے گمنام لوگوں کی حوصلہ افزائی زیادہ ضروری ہے، کیونکہ ان کے لیے نہ شہرت محرک ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی ذاتی مفاد۔ ان کی تعریف دوسروں کے لیے بھی ترغیب اور نیکی کی دعوت بن سکتی ہے۔
ٹیکنالوجی یقیناً ایک نعمت ہے، مگر نعمت کا حسن اس کے متوازن استعمال میں ہے۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا اگر علم، آگہی، رابطے اور خیر کے فروغ کا ذریعہ بنیں تو ان سے بہتر ایجاد شاید ہی کوئی ہو۔ لیکن اگر یہی ذرائع انسانوں کے درمیان فاصلے بڑھا دیں، تعلقات کی گرمجوشی کم کر دیں یا محض خودنمائی اور شخصیت پرستی کا وسیلہ بن جائیں تو پھر ہمیں اپنے استعمال پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
آخرکار، ترقی کا اصل مقصد صرف فاصلے سمیٹنا نہیں بلکہ دلوں کو بھی قریب لانا ہے۔ اگر ٹیکنالوجی ہمیں ایک دوسرے کے قریب لا سکے تو یہی اس کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔

1 Comment
  1. Saleem Raza says

    اشتیاق بھائی کا مضمون بنیادی طور پر سوشل میڈیا کے فائدے، بالمشافہ تعلقات کی کمی، شخصیت پرستی اور ٹیکنالوجی کے متوازن استعمال پر ایک خوبصورت سماجی مشاہدہ ہے۔ لیکن اس میں سوشل میڈیا کے موجودہ دور کے کئی زیادہ گہرے اور فیصلہ کن پہلو زیرِ بحث نہیں آئے—خصوصاً یہ کہ سوشل میڈیا اب محض رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی توجہ، رائے، رویّے، معلومات اور اجتماعی شعور کو تشکیل دینے والا نظام بن چکا ہے۔
    : آپ کے لیے ایک قدرے گہرا تبصرہ یوں ہو سکتا ہے:

    اشتیاق بھائی کا مضمون ایک نہایت خوبصورت اور سادہ واقعے سے شروع ہو کر سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی اثرات تک پہنچتا ہے۔ خاص طور پر چرواہے کا یہ مشاہدہ کہ موبائل نے اسے جنگل میں بیٹھے بیٹھے اپنے ساتھی، گھر والوں اور آس پاس کی دنیا سے جوڑے رکھا، سوشل میڈیا اور جدید مواصلات کی حقیقی افادیت کو بہت خوبصورتی سے واضح کرتا ہے۔
    تاہم میرے خیال میں اس بحث کا ایک اور بہت اہم اور گہرا پہلو ابھی تشنہ رہ گیا ہے۔
    آج کا سوشل میڈیا صرف رابطے کا ذریعہ نہیں رہا؛ یہ انسانی توجہ، سوچ، رائے، ترجیحات، اجتماعی رویّوں اور حتیٰ کہ حقیقت کے ہمارے تصور کو تشکیل دینے والا ایک طاقتور نظام بن چکا ہے۔ پہلے ہم سوشل میڈیا استعمال کرتے تھے، اب بڑی حد تک سوشل میڈیا ہمارے استعمال، توجہ اور ردِعمل کو بھی تشکیل دیتا ہے۔
    مسئلہ صرف یہ نہیں کہ موبائل نے ہمیں بالمشافہ ملاقاتوں سے دور کر دیا ہے۔ اصل سوال یہ بھی ہے کہ ہم کیا دیکھتے ہیں، کیوں دیکھتے ہیں، کون ہمیں وہ چیز دکھا رہا ہے، اور کس مقصد کے تحت دکھا رہا ہے؟ الگورتھمز ہماری دلچسپی، غصے، خوف، پسند اور کمزوریوں کو پڑھ کر ہمارے سامنے مخصوص مواد لاتے ہیں۔ یوں ایک ہی معاشرے میں رہنے والے دو افراد اپنی اپنی الگ “ڈیجیٹل حقیقت” میں زندگی گزار سکتے ہیں۔
    اسی طرح سوشل میڈیا نے اطلاعات کو جمہوری ضرور بنایا ہے، مگر معلومات اور علم ایک چیز نہیں۔ ہر شخص کو اظہار کا حق مل جانا ایک بڑی پیش رفت ہے، لیکن ہر گردش کرتی ہوئی خبر حقیقت نہیں ہوتی۔ جھوٹی خبر، ادھوری خبر، مصنوعی تصویر، مصنوعی ویڈیو، AI سے تیار کردہ مواد، پروپیگنڈا اور جذباتی سرخیاں چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس لیے آج کے دور میں ڈیجیٹل خواندگی اتنی ہی ضروری ہے جتنی پڑھنا اور لکھنا۔
    اشتیاق بھائی نے شخصیت پرستی اور بے جا تعریف کی جس طرف اشارہ کیا ہے، وہ بھی دراصل ایک بڑے مسئلے کی صرف ایک علامت ہے۔ سوشل میڈیا نے شہرت کو ایک الگ قدر بنا دیا ہے۔ بعض اوقات اچھا کام اس لیے نہیں کیا جاتا کہ وہ اچھا ہے، بلکہ اس لیے کیا جاتا ہے کہ وہ اچھا “دکھائی” دے۔ یوں خدمت، نمود بن سکتی ہے؛ علم، نمائش بن سکتا ہے؛ اور سچ، مقبولیت کے مقابلے میں کمزور پڑ سکتا ہے۔
    ایک اور اہم پہلو ڈیجیٹل تنہائی ہے۔ انسان کے ہزاروں آن لائن رابطے ہو سکتے ہیں، لیکن حقیقی زندگی میں اس کے پاس بات سننے والا کوئی نہ ہو۔ ہزاروں “friends” انسان کو لازماً حقیقی رفاقت نہیں دیتے۔ اس لیے ٹیکنالوجی نے فاصلے کم کیے ہیں، مگر یہ ضروری نہیں کہ اس نے ہر جگہ قربت بھی پیدا کی ہو۔
    پھر ایک بہت اہم سوال ڈیجیٹل اختیار اور رازداری کا ہے۔ ہم مفت میں سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، لیکن ہماری توجہ، عادات، پسند، تلاش، روابط اور رویّوں سے پیدا ہونے والا ڈیٹا بھی ایک بڑی قدر رکھتا ہے۔ لہٰذا جدید انسان کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ڈیجیٹل دنیا میں صرف صارف ہی نہیں، بلکہ وہ خود بھی ایک “ڈیٹا” بن چکا ہے۔
    اس کے ساتھ ایک مثبت پہلو بھی نظر انداز نہیں ہونا چاہیے۔ یہی سوشل میڈیا ایک گمنام شخص کی آواز کو دنیا تک پہنچا سکتا ہے، کسی مظلوم کی مدد کے لیے لوگوں کو متحد کر سکتا ہے، کسی دور دراز علاقے کی ثقافت کو محفوظ کر سکتا ہے، چھوٹے کاروبار کو عالمی منڈی تک پہنچا سکتا ہے اور ایسے علم تک رسائی دے سکتا ہے جو پہلے صرف مخصوص طبقات تک محدود تھا۔
    لہٰذا اصل مسئلہ سوشل میڈیا اچھا ہے یا برا؟ نہیں۔
    اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اسے کس مقصد، کس شعور اور کس اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنا ہے؟
    میرے نزدیک مضمون کا عنوان “جنگل میں منگل” ایک اور خوبصورت معنی بھی پیدا کرتا ہے: ٹیکنالوجی جنگل تک تو پہنچ گئی، مگر اب ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ انسانی شعور بھی ٹیکنالوجی کی رفتار تک پہنچے۔
    کیونکہ آنے والے دور میں طاقت صرف اس کے پاس نہیں ہوگی جس کے پاس سب سے زیادہ معلومات ہوں گی، بلکہ اس کے پاس ہوگی جو معلومات اور حقیقت میں فرق، آزادی اور الگورتھم میں فرق، شہرت اور کردار میں فرق، اور رابطے اور حقیقی تعلق میں فرق سمجھ سکے۔
    آخرکار ٹیکنالوجی انسان کی خدمت کے لیے ہے، انسان ٹیکنالوجی کی خدمت کے لیے نہیں۔
    اگر سوشل میڈیا ہمیں دنیا سے جوڑتے ہوئے انسان سے بھی جوڑے، تو یہ واقعی نعمت ہے؛ لیکن اگر یہ ہمیں دنیا سے جوڑ کر اپنے آپ، اپنے رشتوں اور حقیقت سے دور کر دے تو پھر مسئلہ ٹیکنالوجی میں نہیں، ہمارے استعمال اور ہمارے شعور میں ہے۔
    اشتیاق بھائی نے ایک اہم دروازہ کھولا ہے؛ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس دروازے سے آگے بڑھ کر سوشل میڈیا کے اثرات نہیں بلکہ اس کے پیچھے کام کرنے والے پورے انسانی، نفسیاتی، معاشی، معلوماتی اور اخلاقی نظام کو بھی سمجھیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.