مکہ سے ریاض تک: نعمان محمود اور نئے دفاعی فریم ورک کی پہلی قیادت

0

نیوز ڈیسک

اسلام آباد: ایک معاہدہ مکہ مکرمہ میں ہوا، اس کے ادارہ جاتی ڈھانچے کی بنیاد استنبول میں رکھی گئی، اور اب اس کا اگلا مرحلہ ریاض میں شکل اختیار کر رہا ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی یہ پیش رفت محض ایک نئی تقرری تک محدود نہیں۔ اس کے ساتھ تینوں ممالک کے درمیان طے پانے والے دفاعی فریم ورک نے ایک باقاعدہ ادارہ جاتی شکل اختیار کرنا شروع کردی ہے۔

اس عمل کے مرکز میں ایک پاکستانی سابق فوجی افسر ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نعمان محمود کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا ہے۔ وہ ریاض میں قائم کیے جانے والے جنرل سیکریٹریٹ کی سربراہی کریں گے، جو تینوں ممالک کے درمیان معاہدے سے متعلق دفاعی تعاون اور مشترکہ امور کو مربوط کرنے کے لیے مرکزی ادارہ ہوگا۔

استنبول میں ہونے والے معاہدے کے پہلے اسٹریٹجک سیاسی اور دفاعی اجلاس کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق، سیکریٹریٹ کی ابتدائی سربراہی تین سال کے لیے ایک پاکستانی سیکریٹری جنرل کریں گے۔

یوں پاکستان کو اس نئے سہ فریقی دفاعی ڈھانچے کے ابتدائی ادارہ جاتی مرحلے میں ایک نمایاں قائدانہ ذمہ داری حاصل ہوگئی ہے۔

کون ہیں نعمان محمود؟

نعمان محمود کا فوجی کیریئر فیلڈ کمانڈ، انٹیلی جنس، اعلیٰ عسکری انتظام اور دفاعی تعلیم کے مختلف شعبوں پر محیط رہا ہے۔

وہ 2019 سے 2021 تک پشاور میں تعینات پاکستان آرمی کی 11ویں کور کے کمانڈر رہے۔ اس سے قبل وہ شمالی وزیرستان میں ایک انفنٹری ڈویژن کی کمان بھی کر چکے تھے۔

ان کے کیریئر میں جنرل ہیڈکوارٹرز میں اہم ذمہ داریاں بھی شامل رہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی کے بعد انہوں نے انسپکٹر جنرل کمیونیکیشنز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے طور پر خدمات انجام دیں۔

انٹر سروسز انٹیلی جنس میں بھی وہ اہم ذمہ داریوں پر فائز رہے، جن میں ڈائریکٹر جنرل اینالیسس کا عہدہ شامل ہے۔

نومبر 2021 میں وہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر مقرر ہوئے، جہاں انہوں نے اعلیٰ عسکری تعلیم اور دفاعی امور سے متعلق ادارہ جاتی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

اب عسکری سروس سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ایک مختلف نوعیت کا اسٹریٹجک کردار ادا کریں گے—ایسا کردار جو انہیں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تشکیل پانے والے نئے دفاعی فریم ورک کے پہلے سیکریٹری جنرل کے طور پر سامنے لاتا ہے۔

معاہدے کا آغاز کہاں سے ہوا؟

اس کہانی کی بنیاد 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں رکھی گئی، جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔

معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی دفاع، سلامتی اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔

معاہدے کی ایک اہم شق کے مطابق، تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق، یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ بیرونی جارحیت کے مقابلے میں اجتماعی دفاعی صلاحیت اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ہے۔

لیکن مکہ میں ہونے والی دستخطی تقریب اس عمل کا اختتام نہیں تھی۔

یہ دراصل ایک ایسے فریم ورک کا آغاز تھا جسے اب باقاعدہ ادارہ جاتی ڈھانچے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

مکہ کے بعد استنبول

31 اگست کو اس عمل نے اگلا مرحلہ اس وقت طے کیا جب استنبول میں مکہ معاہدے کی اسٹریٹجک سیاسی اور دفاعی کمیٹی کا افتتاحی اجلاس ہوا۔

تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع سمیت اعلیٰ عسکری حکام نے اجلاس میں شرکت کی، جہاں معاہدے کو عملی سطح پر آگے بڑھانے کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔

اجلاس کے اہم فیصلوں میں سعودی عرب میں مستقل سیکریٹریٹ کا قیام شامل تھا۔

یہ وہ مقام ہے جہاں ایک سیاسی معاہدہ بتدریج ایک مستقل ادارہ جاتی نظام میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

اور اس ابتدائی مرحلے میں سیکریٹریٹ کی قیادت پاکستان کے پاس ہوگی۔

ریاض ہی کیوں؟

سعودی عرب کو سیکریٹریٹ کے مرکز کے طور پر منتخب کیے جانے کے بعد ریاض اس فریم ورک کا انتظامی مرکز بن جائے گا۔

یہیں سے تینوں ممالک کے درمیان معاہدے کے تحت طے پانے والے معاملات، دفاعی تعاون اور مشترکہ سرگرمیوں کو مربوط کیا جائے گا۔

استنبول اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں تینوں ممالک نے اجتماعی دفاعی صلاحیت اور ڈیٹرنس کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

اس کے ساتھ دفاعی صنعتوں، مشترکہ ٹیکنالوجی کی ترقی اور پیداوار میں تعاون بڑھانے کی بات بھی کی گئی، جبکہ علاقائی امن، استحکام، کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پرامن حل کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

اس طرح ریاض میں قائم ہونے والا سیکریٹریٹ صرف ایک انتظامی دفتر نہیں ہوگا بلکہ معاہدے کے عملی نفاذ اور تینوں ممالک کے درمیان رابطہ کاری کا بنیادی پلیٹ فارم بنے گا۔

پاکستان کا نیا کردار

مکہ معاہدے میں پاکستان پہلے ہی تین دستخط کنندہ ممالک میں شامل ہے، لیکن نعمان محمود کی تقرری نے اس کردار کو ایک نئی ادارہ جاتی جہت دے دی ہے۔

اب معاہدے کے ابتدائی مرحلے میں وہ سیکریٹریٹ، جو تینوں ممالک کے درمیان تعاون کو مربوط کرے گا، ایک پاکستانی سیکریٹری جنرل کی قیادت میں کام کرے گا۔

یہ ذمہ داری ایک ایسے سابق فوجی افسر کو دی گئی ہے جس کا تجربہ مغربی سرحدی سیکیورٹی، کور کمانڈ، انٹیلی جنس، دفاعی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ عسکری تعلیم جیسے مختلف شعبوں پر محیط ہے۔

تین شہر، ایک بنتا ہوا ڈھانچہ

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے اب تک کے سفر کو تین شہروں کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔

مکہ — جہاں معاہدے پر دستخط ہوئے۔

استنبول — جہاں اس کے ادارہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل کا عمل آگے بڑھا۔

ریاض — جہاں اب اس ڈھانچے کا مستقل سیکریٹریٹ قائم کیا جا رہا ہے۔

اور ان تین مراحل کے درمیان ایک پاکستانی نام مسلسل نمایاں ہوکر سامنے آیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نعمان محمود۔

ایک سابق کور کمانڈر، انٹیلی جنس عہدیدار اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر سے اب ایک نئے سہ فریقی دفاعی فریم ورک کے پہلے سیکریٹری جنرل کا کردار سنبھالنے کی توقع ہے۔

مکہ میں ہونے والا معاہدہ اب ریاض میں ایک ادارے کی شکل اختیار کر رہا ہے۔

لیکن اصل سوال شاید اب شروع ہوتا ہے۔

جب یہ سیکریٹریٹ مکمل طور پر فعال ہوگا، تو مکہ معاہدہ عملی طور پر کس شکل میں سامنے آئے گا؟

کیا یہ تینوں ممالک کے درمیان سیاسی ہم آہنگی اور دفاعی تعاون کا مستقل میکانزم بنے گا، یا وقت کے ساتھ اس کا تعاون دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور مشترکہ صلاحیتوں کے مزید شعبوں تک پھیلے گا؟

مکہ میں دستخط سے شروع ہونے والا سفر اب ریاض میں ادارہ سازی کے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے—اور اس نئے باب کی پہلی قیادت پاکستان کے پاس ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.