اسلام گل آفریدی
کالاش وادیاں: ذاکر احمد کے لیے ایک ایکڑ زمین پر کھڑی مکئی اور پھلیوں کی فصل محض ایک زرعی پیداوار نہیں، بلکہ دس افراد پر مشتمل خاندان کے موسمِ سرما کے گزر بسر کا اہم سہارا ہے۔
مگر ستمبر میں بھی جاری بے موسمی بارشوں نے انہیں اس فکر میں مبتلا کر دیا ہے کہ کہیں فصلیں کٹائی سے پہلے ہی تباہ نہ ہو جائیں۔
“مکئی اور پھلیاں کٹائی کے لیے تیار ہیں، لیکن غیر متوقع بارش انہیں تباہ کر سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو سردیوں کے لیے خوراک کا انتظام مشکل ہو جائے گا کیونکہ ہم مکئی اور گندم پر انحصار کرتے ہیں،” احمد کہتے ہیں۔
احمد کے مطابق 2010 کے بعد تقریباً ہر سال سیلاب اور شدید بارشوں نے ان کے خاندان کو متاثر کیا ہے۔ کبھی فصلیں تباہ ہوئیں، کبھی مویشیوں کو نقصان پہنچا اور کبھی گھر متاثر ہوا۔
سیلابی پانی اپنے ساتھ پتھر، ریت اور گاد بھی لاتا ہے جو زرعی زمین پر جمع ہو جاتی ہے۔ اس سے نہ صرف زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے بلکہ اسے دوبارہ کاشت کے قابل بنانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
احمد کی کہانی صرف ایک کسان کی پریشانی نہیں۔ پوری کالاش وادی میں بدلتے موسموں کے اثرات اب زمین، پانی، انفراسٹرکچر، سیاحت اور لوگوں کے روایتی طرزِ زندگی میں نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔
ندی نالوں میں بڑے بڑے پتھر موجود ہیں، کئی پرانے درخت گر چکے ہیں، سڑکیں متاثر ہوئی ہیں اور بعض عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔ پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے نظام بھی بار بار نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔
خطرہ صرف فصلوں اور گھروں تک محدود نہیں
کالاش برادری کے لیے موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ زرعی زمین یا املاک کے نقصان سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔
ان کی مذہبی رسومات، تہوار، خوراک، مویشی بانی اور سماجی روایات صدیوں سے زمین، جنگلات، پانی، پہاڑوں اور موسمی چکروں سے جڑی ہوئی ہیں۔
مقامی سماجی کارکن رحمت کے مطابق کالاش برادری کا فطرت کے ساتھ تعلق صرف معاشی نہیں بلکہ ثقافتی اور مذہبی نوعیت کا بھی ہے۔
“کالاش لوگوں کا فطرت کے ساتھ ثقافتی اور عقیدے پر مبنی تعلق ہے۔ اگر موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ان میں سے کسی بھی نظام کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کے اثرات براہِ راست ہمارے روایتی طرزِ زندگی، تہواروں اور مذہبی تقریبات پر مرتب ہوں گے،” وہ کہتے ہیں۔
انہیں 2015 کے سیلاب بھی یاد ہیں، جب زرعی زمینوں، باغات، گھروں، ہوٹلوں، سڑکوں اور پلوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تھا۔
ان کے مطابق بروقت انتباہ کے باعث جانی نقصان سے بچنے میں مدد ملی، لیکن بنیادی ڈھانچے اور مقامی لوگوں کے روزگار کو شدید نقصان پہنچا۔
سیاحت بھی موسمیاتی خطرات کی زد میں
کالاش وادیوں میں سیاحت آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے، لیکن سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکوں کی بندش کے خدشات نے سیاحوں کی آمد کو بھی متاثر کیا ہے۔
ضلعی حکام کے مطابق گزشتہ سال 50 ہزار سے زائد سیاحوں نے ان وادیوں کا رخ کیا تھا، جبکہ رواں سال یہ تعداد تقریباً 35 ہزار رہ گئی ہے۔
محمد حلیم خان گزشتہ تین دہائیوں سے وادی میں ہوٹل چلا رہے ہیں۔ 2013 کے سیلاب نے ان کے کاروبار کو تقریباً ختم کر دیا تھا۔
ساڑھے چار کنال اراضی پر قائم ان کا 24 کمروں کا ہوٹل، ہال اور باورچی خانہ سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔
“اب وہاں صرف پتھر اور ریت ہی باقی رہ گئی ہے،” خان کہتے ہیں۔
ان کے مطابق ماضی میں سیاح اکتوبر تک وادیوں کا رخ کرتے تھے، لیکن اب سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکیں بند ہونے کے خدشات کے باعث اگست کے بعد سیاحوں کی تعداد میں نمایاں کمی آ جاتی ہے۔
خان کا کہنا ہے کہ پگھلتے گلیشیئرز اور پہاڑوں میں بننے والی عارضی جھیلیں بھی اچانک سیلاب کا سبب بن سکتی ہیں، خصوصاً جب ان جھیلوں کے قدرتی بند ٹوٹ جائیں۔
“سیلاب عمارتوں، زرعی اراضی، سڑکوں، پانی کی فراہمی کے نظام اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہاں تعمیراتی کام پہلے ہی مشکل اور مہنگا ہے کیونکہ وادی تک تعمیراتی سامان پہنچانے پر بہت زیادہ لاگت آتی ہے،” وہ کہتے ہیں۔
جنگلات کی کٹائی اور بڑھتا کٹاؤ
مقامی رہائشی سیلاب کے بڑھتے ہوئے اثرات کو جنگلات کی کمی سے بھی جوڑتے ہیں۔
احمد کے مطابق اجازت یافتہ اور ذاتی استعمال کے لیے درختوں کی کٹائی نے پہاڑی ڈھلوانوں کو کٹاؤ کے لیے زیادہ غیر محفوظ بنا دیا ہے۔
شدید بارشوں کے دوران مٹی، ریت اور پتھروں کے ساتھ آنے والا ملبہ کھیتوں اور رہائشی علاقوں میں جمع ہو جاتا ہے، جس سے نقصان مزید بڑھ جاتا ہے۔
“ہمارا مطالبہ ہے کہ جنگلات کی کٹائی روکی جائے۔ جب درخت زیادہ تھے تو سیلاب اور بارشوں سے اتنا زیادہ نقصان نہیں ہوتا تھا،” احمد کہتے ہیں۔
ان کے مطابق جب فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں تو مقامی لوگوں کے پاس روزگار کے لیے دوسرے علاقوں کا رخ کرنے کے سوا محدود راستے رہ جاتے ہیں۔
جب فصلوں کا نقصان ثقافت کا نقصان بن جائے
کالاش برادری کے لیے زرعی پیداوار اور مویشی صرف خوراک یا آمدنی کا ذریعہ نہیں، بلکہ ان کی مذہبی اور ثقافتی زندگی کا بنیادی حصہ بھی ہیں۔
دودھ، پنیر، بکریاں، گندم، اخروٹ، انگور، ناشپاتی، آڑو اور دیگر موسمی پیداوار مختلف تہواروں اور اجتماعی تقریبات میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
چلم جوشی کے تہوار میں دودھ، پھول، اخروٹ اور شہتوت کی اہمیت ہے، جبکہ اُچاؤ کا تعلق موسمِ گرما کی چراگاہوں، مویشیوں اور فصلوں کی کٹائی سے ہے۔
چاوموس کے دوران بکریوں کی قربانی اور پوری برادری کے لیے اجتماعی کھانے کی تیاری بھی روایتی رسومات کا حصہ ہے۔
یہی صورتحال جنازوں کے موقع پر بھی نظر آتی ہے، جو کالاش معاشرے میں بڑی اجتماعی تقریبات تصور کیے جاتے ہیں۔ خاندان اور پڑوسی ایسی تقریبات کے لیے بکریاں، پنیر، گھی، آٹا اور دیگر غذائی اشیا فراہم کرتے ہیں۔
اس لیے زراعت، مویشیوں، جنگلات یا پانی کے وسائل میں خلل صرف غذائی تحفظ کو متاثر نہیں کرتا بلکہ کالاش مذہبی اور ثقافتی زندگی کی مادی بنیادوں کو بھی کمزور کر سکتا ہے۔
روایتی علم بھی خطرے میں
کالاش برادری کا قدرتی ماحول کے ساتھ تعلق روایتی علم تک بھی پھیلا ہوا ہے۔
موسم اور فلکیات سے متعلق ان کا روایتی علم، جسے سوری جاجیک (Suri Jajik) کہا جاتا ہے، بھی ان کے ثقافتی ورثے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ بدلتے موسم، بے قاعدہ بارشیں اور درجہ حرارت میں اضافہ اس روایتی علم اور نسل در نسل منتقل ہونے والی ماحولیاتی سمجھ کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
رہائشیوں کے مطابق بڑھتا ہوا درجہ حرارت، بے قاعدہ بارشیں، سیلاب، خشک سالی، پانی کی دستیابی میں تبدیلی اور قدرتی وسائل پر بڑھتا دباؤ پہلے ہی ان کی روزمرہ زندگی اور معاشی سرگرمیوں کو متاثر کر رہا ہے۔
ان کا مطالبہ ہے کہ جنگلات کے تحفظ، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے بچاؤ، پانی اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری اور موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت رکھنے والی زراعت کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
ضلعی انتظامیہ اور کالاش ویلیز ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے بھی ان خطرات سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں موقف طلب کیا گیا ہے۔
تاہم ذاکر احمد کے لیے اس وقت موسمیاتی تبدیلی کی پوری بحث کا مطلب ایک بہت سادہ سوال ہے: کیا ان کے کھیت میں کھڑی مکئی اور پھلیاں کٹائی تک محفوظ رہیں گی؟
کیونکہ ان فصلوں کا بچنا صرف ایک سال کی خوراک کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک خاندان کے لیے آنے والے موسمِ سرما کی بقا، اور ایک ایسی برادری کے لیے اپنی زمین اور روایات سے جڑے رہنے کا سوال بھی ہے۔
گل اسلام آفریدی کی فیچر رپورٹ وائس پی کے ویب سائٹ پر شائع ہو چکی ہے، جس کا اردو ترجمہ شدہ ورژن بھی دستیاب ہے۔
