کمسن بچیوں کی قبروں کو نشانہ بنانے کا الزام، پشاور میں نوجوان گرفتار 

0

عمران ٹکر

پشاور: پشاور میں ایک کمسن بچی کی قبر سے لاش نکالنے اور مبینہ بے حرمتی کے الزام میں 19 سالہ نوجوان کی گرفتاری نے بچوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ قبرستانوں کی سکیورٹی اور نگرانی کے نظام پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔

پولیس کے مطابق گرفتار نوجوان افغان شہری ہے اور بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کر چکا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے دوران تفتیش کمسن کی لاش قبر سے نکالنے کی یہ تیسری کوشش ہونے کا اعتراف کیا ہے، جبکہ اس پر کمسن بچیوں کی قبروں کو نشانہ بنانے اور لاشوں کی مبینہ بے حرمتی کے الزامات بھی ہیں۔

مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ اس نوعیت کے واقعات گزشتہ ایک سال سے جاری تھے۔ تاہم پولیس کی جانب سے سامنے آنے والے الزامات اور مبینہ اعترافات کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین عدالت کرے گی۔

واقعے کے بعد یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ اگر ایسے واقعات ایک عرصے سے جاری تھے تو انہیں بروقت روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔ قبرستانوں میں نگرانی کے انتظامات، سکیورٹی، روشنی اور داخلی راستوں کی دیکھ بھال سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔

بچوں کے تحفظ کے ماہرین اور سماجی حلقوں کے مطابق بچے کی عزت، وقار اور انسانی حرمت موت کے بعد بھی برقرار رہتی ہے۔ اس لیے واقعے کی مکمل، سائنسی اور غیر جانب دار تحقیقات ضروری ہیں تاکہ مبینہ سابقہ واقعات اور ممکنہ دیگر متاثرین کا بھی سراغ لگایا جا سکے۔

تحقیقات میں یہ پہلو بھی شامل کیا جانا چاہیے کہ آیا کسی مرحلے پر ادارہ جاتی غفلت، نگرانی کے فقدان یا بروقت اطلاع نہ ملنے کی وجہ سے مبینہ سرگرمیوں کو جاری رہنے کا موقع ملا۔

قبرستانوں کی سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے حساس قبرستانوں میں چار دیواری، مناسب روشنی، داخلی راستوں کی نگرانی اور مقامی سطح پر کمیونٹی واچ جیسے اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے۔ پولیس، ضلعی انتظامیہ، مقامی حکومت اور شہریوں کے درمیان مربوط رابطہ بھی ایسے واقعات کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

دوسری جانب سماجی ذمہ داری کا پہلو بھی اہم ہے۔ اگر کسی علاقے کے رہائشیوں کو غیر معمولی یا مشتبہ سرگرمیوں کا علم ہو تو انہیں خاموش رہنے کے بجائے بروقت متعلقہ اداروں کو اطلاع دینی چاہیے تاکہ ممکنہ نقصان کو روکا جا سکے۔

اس حساس واقعے کی کوریج کے دوران متاثرہ خاندان کی عزت اور رازداری کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین کو بچوں کی شناخت، تصاویر، قبروں کی غیر ضروری تفصیلات یا ایسے مواد کی تشہیر سے گریز کرنا چاہیے جو خاندان کے صدمے میں مزید اضافہ کر سکتا ہو۔

یہ واقعہ اس وسیع تر سوال کو بھی سامنے لاتا ہے کہ بچوں کا تحفظ صرف ان کی زندگی کے دوران تشدد، استحصال اور بدسلوکی سے بچانے تک محدود نہیں، بلکہ ان کی وفات کے بعد بھی عزت، وقار اور حرمت کے تحفظ کو یقینی بنانا معاشرے اور ریاست کی ذمہ داری کا حصہ ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.