نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس شروع ہوگیا، جس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دنیا بھر میں عالمی قوانین کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران دنیا میں کئی جنگیں شروع ہوئیں، جن کے تباہ کن اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوئے۔ ان کے مطابق متعدد جنگیں آج بھی ہولناک بربریت کے ساتھ جاری ہیں، جبکہ ان تنازعات میں شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض جنگوں میں بھوک کو بھی بطور ہتھیار استعمال کیا گیا، جبکہ فوجی طاقت سکیورٹی کی ضمانت نہیں دے سکتی۔
سیکریٹری جنرل نے غزہ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود وہاں حالات کشیدہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کی موجودہ صورتحال فلسطین کے دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
گوتریس نے خبردار کیا کہ دنیا اپنی آنکھوں کے سامنے دو ریاستی حل کو ختم نہیں ہونے دے سکتی۔ ان کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں نسلی امتیاز کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 7 اکتوبر کے بعد غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور بڑی تعداد میں فلسطینی جاں بحق ہوئے۔
سوڈان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ وہاں اقتدار کی جنگ بدستور جاری ہے اور یہ تنازع اب شہریوں کے خلاف جنگ میں تبدیل ہوچکا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہیں۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت پاکستانی وفد کے دیگر ارکان بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال بھی کیا۔
