ایران کے ساتھ تنازع: کیا امریکی فضائی طاقت دباؤ میں آ رہی ہے؟

0

نیوز ڈیسک

واشنگٹن: ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع نے جہاں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی عسکری موجودگی کو چیلنج کیا ہے، وہیں اس کے اثرات اب امریکی فضائی طاقت اور مستقبل کی جنگی تیاریوں تک بھی پہنچتے دکھائی دے رہے ہیں۔

امریکی کانگریس کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق، تنازع کے دوران 81 امریکی فوجی طیارے تباہ یا شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں لڑاکا طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور بغیر پائلٹ کے فضائی نظاموں سمیت مختلف اقسام کے طیارے شامل ہیں۔

اعداد و شمار میں سب سے نمایاں حصہ MQ-9 ریپر ڈرونز کا ہے، جن کے نقصانات مبینہ طور پر مجموعی تعداد کے نصف سے بھی زیادہ ہیں۔ یہ ڈرونز مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کا اہم حصہ رہے ہیں اور انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی کے ساتھ ساتھ جنگی مشنز میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔

لیکن مسئلہ صرف ڈرونز تک محدود نہیں۔ متاثرہ طیاروں میں امریکی فضائیہ کے بعض انتہائی جدید اور اسٹریٹجک پلیٹ فارمز بھی شامل ہیں، جن میں F-35A اسٹیلتھ فائٹر اور E-3 سینٹری ایئر بورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول طیارہ بھی شامل ہیں۔

نقصان صرف طیاروں کا نہیں

E-3 سینٹری امریکی فضائی کارروائیوں میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ طیارہ فضا سے وسیع علاقے کی نگرانی، اہداف کی نشاندہی اور فضائی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

چونکہ امریکہ کے پاس ایسے طیاروں کی تعداد محدود ہے، اس لیے اس نوعیت کے کسی نقصان کو محض ایک جنگی اثاثے کے ضائع ہونے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ ایک مخصوص صلاحیت رکھنے والے طیاروں کی تعداد میں کمی کا اثر دوسرے محاذوں پر بھی پڑ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب واشنگٹن کو دنیا کے مختلف خطوں میں اپنی فوجی ذمہ داریاں برقرار رکھنا ہوں۔

یہی وجہ ہے کہ کانگریس کی رپورٹ میں اس سوال پر توجہ مرکوز کی گئی ہے کہ آیا پینٹاگون طیاروں کو پہنچنے والے نقصانات اور ان کے حقیقی آپریشنل اثرات کے بارے میں قانون سازوں کو کافی معلومات فراہم کر رہا ہے یا نہیں۔

اربوں ڈالر کا نقصان

فضائی بیڑے کو پہنچنے والے نقصان کی مالی قیمت بھی معمولی نہیں۔

کانگریشنل بجٹ آفس کے تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ 81 طیاروں کو تبدیل کرنے یا دوبارہ تیار کرنے پر تقریباً 1.9 ارب سے 3.3 ارب ڈالر خرچ ہو سکتے ہیں۔

تاہم، یہ رقم تنازع کے مجموعی مالی بوجھ کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتی۔ CNN کے ایک تخمینے کے مطابق، ایران کے ساتھ امریکی محاذ آرائی کی مجموعی لاگت کم از کم 45 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

اس تخمینے میں مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات شامل نہیں، حالانکہ متاثر ہونے والے کئی طیارے انہی تنصیبات پر تعینات تھے۔

کیا ہر تباہ شدہ طیارہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا؟

طیاروں کے نقصانات کے اعداد و شمار کو سمجھنے کے لیے ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ’تباہ‘ یا ’متاثر‘ قرار دیے گئے تمام طیارے مستقل طور پر امریکی بیڑے سے خارج نہیں ہوئے۔

کچھ طیاروں کی مرمت کے بعد انہیں دوبارہ آپریشنل سروس میں شامل کیا گیا۔ مثال کے طور پر، ستمبر میں اردن کے موافق سالتی ایئر بیس پر ایرانی حملے کے دوران متاثر ہونے والے آٹھ F-15 اسٹرائیک ایگل طیاروں کی بعد میں مرمت کی گئی۔

اس کے باوجود، بڑے پیمانے پر نقصانات یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ امریکی فوج کتنی تیزی سے اپنے فضائی بیڑے کو دوبارہ مطلوبہ سطح پر لا سکتی ہے، خصوصاً ایسے طیاروں کی صورت میں جن کی تیاری یا متبادل کا عمل طویل اور مہنگا ہے۔

امریکی ڈرون حکمت عملی کا امتحان

MQ-9 ریپر کے نقصانات شاید اس چیلنج کی سب سے واضح مثال ہیں۔

امریکی فضائیہ کے چیف آف اسٹاف جنرل کینتھ ولزباخ سمیت امریکی عسکری حکام اور تجزیہ کار ایران کے خلاف کارروائیوں میں ڈرونز کو اہم اثاثہ قرار دیتے رہے ہیں۔ لیکن اطلاعات کے مطابق **صرف رواں سال مشرقِ وسطیٰ میں 45 MQ-9 ریپرز ضائع ہو چکے ہیں**، جن میں نقصانات کا تعلق ایران اور یمن کے حوثی جنگجوؤں کے ساتھ محاذ آرائی سے جوڑا گیا ہے۔

یہ اعداد و شمار ایک بنیادی سوال کو جنم دیتے ہیں: کیا نسبتاً کم لاگت اور دور سے چلائے جانے والے ڈرونز واقعی ایسے ماحول میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں جہاں مخالف کے پاس انہیں نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود ہو؟

روایتی طور پر ڈرونز کو انسانی پائلٹ کی جان کو خطرے میں ڈالے بغیر نگرانی اور حملوں کے لیے ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ تاہم، زیادہ جدید فضائی دفاعی نظاموں اور متنازع فضائی حدود میں ان کی کمزوری امریکی فوجی منصوبہ سازوں کے لیے ایک بڑھتا ہوا مسئلہ بن سکتی ہے۔

اصل سوال: کیا مشرقِ وسطیٰ امریکی طاقت کو دوسری جگہ کمزور کر رہا ہے؟

ایران کے ساتھ تنازع کا سب سے بڑا اسٹریٹجک سوال شاید یہ نہیں کہ امریکہ کتنے طیارے کھو چکا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ان نقصانات کا اثر امریکی فوجی طاقت کے دوسرے محاذوں پر کس حد تک پڑ سکتا ہے۔

اگر خصوصی نوعیت کے طیارے، جدید جنگی پلیٹ فارمز اور نگرانی کے نظام بڑی تعداد میں متاثر ہوتے ہیں تو انہیں فوری طور پر تبدیل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اس کے نتیجے میں پینٹاگون کو اپنے محدود فضائی وسائل کی ترجیحات ازسرنو طے کرنا پڑ سکتی ہیں۔

واشنگٹن کو ایک طرف مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی کارروائیوں کی ضروریات پوری کرنا ہوں گی اور دوسری طرف دنیا کے دیگر خطوں میں موجود اپنے دفاعی وعدوں کو بھی برقرار رکھنا ہوگا۔

یوں ایران کے ساتھ موجودہ محاذ آرائی امریکی فضائی طاقت کے لیے صرف ایک جنگی چیلنج نہیں رہی۔ یہ امریکی دفاعی منصوبہ بندی کے لیے ایک بڑے امتحان میں تبدیل ہو سکتی ہے: کتنی فضائی طاقت ایک ہی وقت میں مختلف محاذوں پر برقرار رکھی جا سکتی ہے، اور اس کی قیمت امریکہ کب تک برداشت کر سکتا ہے؟

اگر طیاروں کے نقصانات کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو آنے والے عرصے میں پینٹاگون کو صرف نئے طیارے خریدنے کے فیصلے نہیں کرنے ہوں گے، بلکہ اسے یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ محدود اور مہنگے فضائی اثاثوں کو ایک ایسے خطے میں کس طرح استعمال کیا جائے جہاں فضائی برتری پہلے کی نسبت کہیں زیادہ مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.