گوادر کے ماہی گیر کا بے زبان مخلوق سے اظہارِ محبت

0

نیوز ڈیسک

گنز، مغربی گوادر: بلوچستان کے ساحلی علاقے گنز میں مقامی ماہی گیر طارق نے دو سبز سمندری کچھوؤں کو بحفاظت بچانے کے بعد دوبارہ سمندر میں چھوڑ دیا۔ یہ اقدام سمندری حیات کے تحفظ اور خطرے سے دوچار آبی انواع کی بقا کے لیے مقامی ماہی گیر برادری کے مثبت کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

سبز سمندری کچھوے، جن کا سائنسی نام Chelonia mydas ہے، سمندری ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہیں۔ تاہم، غیر قانونی اور تباہ کن ماہی گیری کے طریقوں، خصوصاً ٹرال اور تاروں سے بنے جالوں کے استعمال کے باعث یہ کچھوے خطرات سے دوچار ہیں۔ ایسے جالوں میں پھنسنے سے کچھوؤں کو شدید چوٹیں پہنچنے یا ان کی موت واقع ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

مقامی مشاہدات کے مطابق، گزشتہ چند ماہ کے دوران مکران کے ساحلی علاقوں میں سمندری کچھوؤں کی موجودگی کی اطلاعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتِ حال کے پیش نظر سمندری حیات کی نگرانی، ذمہ دارانہ ماہی گیری اور قدرتی مساکن کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

سمندری حیات کے تحفظ کے ماہر ظریف بلوچ کے مطابق، سمندری کچھوؤں کو بچا کر بحفاظت سمندر میں چھوڑنا تحفظِ ماحولیات کے حوالے سے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی آبادی میں آگاہی بڑھنے سے ماہی گیر سمندری کچھوؤں اور دیگر آبی حیات کے تحفظ میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

مقامی ماہی گیر طارق کا یہ اقدام اس امر کی مثال ہے کہ ساحلی آبادی خطرے سے دوچار سمندری انواع کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق، بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں سمندری حیات کے تحفظ کے لیے متعلقہ حکومتی اداروں، ماہی گیر برادری اور ماحولیاتی تنظیموں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے تباہ کن ماہی گیری کی روک تھام، پائیدار ماہی گیری کے فروغ اور سمندری کچھوؤں کے قدرتی مساکن کے تحفظ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.