نیوز ڈیسک
اسلام آباد: طالبہ لائبہ کی موت کے معاملے میں گرفتار ملزم نعمان کے خلاف مبینہ فراڈ کے مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، ملزم پر مانسہرہ میں بھی نوجوانوں کو سرکاری ملازمتیں دلوانے کے نام پر رقم وصول کرنے اور جعلی تقرری نامے جاری کرنے کے الزامات ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نعمان نے مانسہرہ میں ایک ہی خاندان کے چھ نوجوانوں کو سرکاری ملازمتیں دلوانے کا جھانسہ دے کر مبینہ طور پر 85 لاکھ روپے وصول کیے۔ ملزم نے متاثرین کو سرکاری ملازمتوں کے تقرری نامے بھی فراہم کیے، تاہم خاندان کی جانب سے ان دستاویزات کی تصدیق کرانے پر وہ جعلی نکلے۔
متاثرہ خاندان نے مبینہ فراڈ سے متعلق دستاویزات کے ہمراہ وفاقی پولیس سے رابطہ کرکے تفصیلات فراہم کیں۔ ذرائع کے مطابق، مانسہرہ میں مزید 12 نوجوان بھی سرکاری ملازمتوں کے نام پر رقم دینے کے بعد متاثر ہوئے۔ ان نوجوانوں، جن میں لڑکے اور لڑکیاں شامل تھے، کے سی ایم ایچ میں طبی معائنے بھی کرائے گئے تھے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ لائبہ کی موت سے تقریباً ایک ماہ قبل مانسہرہ پولیس ملزم نعمان کی گرفتاری کے لیے اسلام آباد پہنچی تھی۔ اس کارروائی میں اسلام آباد پولیس بھی شامل تھی اور دونوں پولیس ٹیمیں ملزم کے گھر گئی تھیں، تاہم چھاپے کے وقت گھر خالی ملا اور ملزم وہاں موجود نہیں تھا۔
ملزم کے خلاف تھانہ مانسہرہ میں بھی مقدمہ درج ہونے کی اطلاعات ہیں۔ لائبہ کی موت کے معاملے میں سامنے آنے والے ان انکشافات کے بعد ملزم پر عائد الزامات اور مبینہ فراڈ کے دیگر پہلوؤں کی تحقیقات اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔
