نیوز ڈیسک
امریکا میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل سیاسی کشیدگی میں اضافے کے درمیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں اور ان کی ’میک امریکا گریٹ اگین‘ (MAGA) تحریک کے بعض نمایاں حامیوں کی جانب سے انتخابی شکست کی صورت میں مارشل لا نافذ کرنے اور انتخابی عمل میں مداخلت کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔ ان تجاویز نے امریکی جمہوری نظام، انتخابی شفافیت اور اقتدار کی آئینی منتقلی سے متعلق نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، 30 ستمبر کو آن لائن پلیٹ فارم ’رمبل‘ پر براہِ راست نشر ہونے والی ایک ویڈیو کانفرنس میں شرکاء نے نومبر کے انتخابات میں ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے ووٹوں، یعنی میل اِن بیلٹس، میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے خدشات ظاہر کیے۔ تاہم، رپورٹ کے مطابق ان دعوؤں کی حمایت میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
’پریکنکٹ پروجیکٹ اینڈ الیکشن انٹیگریٹی‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والی اس آن لائن نشست میں ٹرمپ کے کئی نمایاں حامی شریک ہوئے، جن میں اسٹیو بینن اور ٹینا پیٹرز بھی شامل تھے۔ گفتگو کے دوران انتخابی عمل کی نگرانی، ووٹوں کی جانچ پڑتال اور ممکنہ انتخابی تنازعات سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کی تجاویز پیش کی گئیں۔
انتخابی شکست کی صورت میں مارشل لا کی تجویز
کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ کے بچپن کے دوست اور وکیل پیٹر ٹکٹن نے الزام عائد کیا کہ ڈاک کے ذریعے بھیجے جانے والے بیلٹ پیپرز پر ووٹرز کے پتے تبدیل کرکے انتخابی دھاندلی کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں جائز ووٹ مسترد کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم، ان الزامات کی تصدیق کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
پیٹر ٹکٹن نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر ڈیموکریٹس نومبر کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو صدر ٹرمپ کو اقتدار ان کے حوالے کرنے کے بجائے انتخابی عمل کی شفافیت کی تحقیقات کے لیے مارشل لا نافذ کرنے پر غور کرنا چاہیے۔
بعد ازاں ایک انٹرویو میں انہوں نے اپنی تجویز کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فوج کو انتخابی مواد اور بیلٹ پیپرز کا کنٹرول سنبھالنا چاہیے تاکہ انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کی مکمل تحقیقات کی جا سکیں اور مزید دھاندلی کو روکا جا سکے۔
ان تجاویز نے اس سوال کو نمایاں کر دیا ہے کہ آیا انتخابی بے ضابطگیوں کے غیر مصدقہ دعووں کو بنیاد بنا کر ریاستی اور فوجی اختیارات کے غیر معمولی استعمال کی حمایت کی جا سکتی ہے یا نہیں۔
انتخابی عمل روکنے کی تجویز
آن لائن اجلاس میں شریک ایک اور شخصیت گریگوری اسٹینسٹرم نے بھی سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے سخت اقدامات کی تجویز پیش کی۔ ان کے مطابق انتخابی عمل کو عارضی طور پر روکنے یا نیشنل ایمرجنسیز ایکٹ کے تحت ہنگامی اختیارات استعمال کرنے کے امکانات پر غور کیا جا سکتا ہے، تاکہ ریاستوں کو اپنے انتخابی طریقہ کار میں تبدیلیوں پر مجبور کیا جا سکے۔
ان تجاویز نے امریکی آئینی نظام میں وفاقی حکومت کے اختیارات، ریاستوں کی انتخابی خودمختاری اور ہنگامی اختیارات کے استعمال کی حدود سے متعلق خدشات کو مزید اجاگر کیا ہے۔
امریکا میں انتخابات کا انعقاد ایک آئینی اور قانونی نظام کے تحت ہوتا ہے، جس میں وفاقی اور ریاستی اداروں کے الگ الگ اختیارات متعین ہیں۔ ایسے میں انتخابی عمل کو روکنے، فوج کو انتخابی مواد کا کنٹرول دینے یا ہنگامی اختیارات کے ذریعے ریاستوں کے انتخابی طریقہ کار پر اثرانداز ہونے کی تجاویز قانونی اور آئینی جانچ کی متقاضی ہیں۔
ان مباحث کو 6 جنوری 2021 کے واقعات کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے، جب صدر ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی کانگریس کی عمارت کیپیٹل پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس واقعے نے اقتدار کی آئینی منتقلی، انتخابی نتائج کے احترام اور امریکی جمہوریت کے استحکام سے متعلق سنگین سوالات اٹھائے تھے۔
ریپبلکن اکثریت کو ممکنہ انتخابی چیلنج
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈیموکریٹس نے اپنی انتخابی مہمات کے لیے نمایاں مالی وسائل جمع کیے ہیں اور سیاسی مبصرین کے مطابق ریپبلکن پارٹی کو ایوانِ نمائندگان میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وسط مدتی انتخابات امریکی سیاست میں اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان کے نتائج کانگریس میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کھونے کی صورت میں صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کو قانون سازی، بجٹ اور دیگر اہم پالیسی معاملات میں زیادہ سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تاہم، انتخابی نتائج کے بارے میں پیشگی اندازوں اور سیاسی خدشات کو حتمی نتائج تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح انتخابی دھاندلی کے الزامات کی جانچ بھی قابلِ تصدیق شواہد اور قانونی طریقہ کار کے مطابق ہونا ضروری ہے۔
وائٹ ہاؤس کا مؤقف
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے دیگر صدور کے مقابلے میں زیادہ اقدامات کیے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ووٹنگ کے نظام کو محفوظ بنانے، ووٹر کی شناخت کے تقاضوں کو لازمی قرار دینے اور ووٹرز کی شہریت کی تصدیق جیسے اقدامات کے لیے پُرعزم ہے۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمہ انصاف نے تمام 50 ریاستوں کو خطوط بھیجے ہیں، جبکہ پولنگ کے دن آئینی طریقہ کار کی پاسداری یقینی بنانے کے لیے ملک بھر میں تقریباً ایک ہزار انتخابی مبصرین تعینات کیے جانے کا منصوبہ بھی بیان کیا گیا ہے۔
انتظامیہ ان اقدامات کو انتخابی نظام کے تحفظ اور شفافیت سے جوڑتی ہے، جبکہ ان کے عملی نفاذ، قانونی حدود اور انتخابی عمل پر ممکنہ اثرات کا جائزہ بھی اہم ہوگا۔
امریکی جمہوریت کے لیے اہم سوالات
موجودہ بحث محض انتخابی حکمت عملی یا سیاسی بیان بازی تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے امریکی جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو بھی موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔ انتخابی نظام پر اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات شفاف انداز میں ہوں اور ان کے نتائج قابلِ تصدیق شواہد پر مبنی ہوں۔
اسی طرح، انتخابی شکست کی صورت میں اقتدار کی آئینی منتقلی جمہوری نظام کا بنیادی تقاضا ہے۔ کسی بھی غیر معمولی اقدام کی قانونی حیثیت کا تعین سیاسی مفادات کے بجائے آئین، قانون اور متعلقہ اداروں کی نگرانی کے تحت ہونا چاہیے۔
نومبر کے انتخابات کے نتائج نہ صرف کانگریس میں سیاسی طاقت کا توازن طے کریں گے بلکہ یہ بھی واضح کریں گے کہ امریکا میں انتخابی عمل پر اعتماد، سیاسی تقسیم اور اقتدار کی آئینی حدود سے متعلق جاری بحث کس سمت آگے بڑھتی ہے۔
