نیوز ڈیسک
اسلام آباد: انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی کے معاملے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، مرکزی ملزم نعمان پر مزید 9 افراد کو سرکاری ملازمتیں دلوانے کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے ہتھیانے اور انہیں تقرری کے جعلی خطوط فراہم کرنے کا الزام ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نے مبینہ طور پر مختلف افراد کو سرکاری نوکریاں دلوانے کا وعدہ کیا اور اس مقصد کے لیے ان سے بھاری رقوم وصول کیں۔ متاثرین کو تقرری کے خطوط بھی دیے گئے، تاہم بعد میں یہ دستاویزات جعلی ثابت ہوئیں۔
ذرائع کے مطابق، متاثرہ افراد نے ابتدا میں متعلقہ حکام کے پاس شکایات درج نہیں کرائی تھیں، جس کے باعث مبینہ فراڈ کے یہ واقعات سامنے نہیں آ سکے۔ تاہم، اب وفاقی پولیس نے بعض متاثرین کا سراغ لگا لیا ہے، جبکہ متاثرہ افراد بھی حکام سے رابطہ کر رہے ہیں۔
پولیس ان افراد کے بیانات اور فراہم کردہ دستاویزات کی روشنی میں ملزم کے خلاف سامنے آنے والے دیگر الزامات کی چھان بین کر رہی ہے۔ تفتیش کار اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مبینہ طور پر کتنے افراد کو ملازمتوں کا جھانسہ دے کر رقم وصول کی گئی اور آیا اس معاملے میں مزید افراد بھی ملوث ہیں۔
لائبہ اعجاز کیس کا پس منظر
واضح رہے کہ لائبہ اعجاز کی موت کے معاملے میں ملزم نعمان سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔ لائبہ کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا تھا کہ ملزم نے انہیں امریکا میں اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ، ویزا اور اسکالرشپ دلوانے کا جھانسہ دے کر بھاری رقم وصول کی اور بعدازاں مبینہ طور پر جعلی دستاویزات فراہم کیں۔
لائبہ اعجاز انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ تھیں۔ ان کی موت کے معاملے نے تعلیمی مواقع اور بیرونِ ملک داخلوں کے نام پر مبینہ دھوکا دہی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
پولیس کے مطابق، لائبہ اعجاز کی موت کے معاملے اور ملزم کے خلاف سامنے آنے والے دیگر الزامات کی تحقیقات جاری ہیں۔ حکام مزید ممکنہ متاثرین کی نشاندہی، مالی لین دین کی تفصیلات جمع کرنے اور الزامات کی تصدیق کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔
تاحال ملزم کے خلاف ان الزامات پر تحقیقات جاری ہیں، اس لیے انہیں ثابت شدہ حقائق کے بجائے الزامات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
