نیوز ڈیسک
اسلام آباد: پاکستان کے فاسٹ بولر نسیم شاہ کا کہنا ہے کہ ان کے کرکٹ کیریئر کے بہترین سال ابھی آنا باقی ہیں، تاہم اس مرحلے پر ان کی توجہ صرف رفتار اور وکٹیں لینے کے بجائے تجربے، حکمت عملی، جسمانی فٹنس اور انجریز سے بچاؤ پر مرکوز ہے۔
سات ماہ کے وقفے کے بعد قومی ٹیم میں واپسی کرنے والے نسیم شاہ نے اپنی کارکردگی سے ایک بار پھر توجہ حاصل کی ہے۔ ان کی واپسی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان 2027 کے آئی سی سی مینز ون ڈے ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے اپنی ٹیم کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
جمعرات کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر گفتگو کرتے ہوئے نسیم شاہ نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ کھلاڑی اور اس کے کھیل میں پختگی آتی ہے۔ ان کے مطابق، تجربہ اور سمجھ بوجھ ایک فاسٹ بولر کو یہ جاننے میں مدد دیتے ہیں کہ کس موقع پر کون سی گیند کرنی ہے اور ہر گیند کے پیچھے کیا حکمت عملی ہونی چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ نوجوان فاسٹ بولرز عموماً رفتار بڑھانے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ کامیابی کے لیے صرف تیز بولنگ کافی نہیں۔ درست لائن و لینتھ، حالات کے مطابق حکمت عملی اور گیند پر بہتر کنٹرول بھی اتنے ہی اہم ہیں۔
قومی ٹیم میں واپسی اور متاثر کن بولنگ
پاکستان نے 9 اکتوبر کو راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں سری لنکا کے خلاف اپنے ہوم انٹرنیشنل سیزن کا آغاز کیا، جس کے ساتھ ہی نسیم شاہ نے بھی قومی ٹیم میں واپسی کی۔ پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں انہوں نے چار اوورز میں 36 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔
نسیم نے سری لنکن کپتان کوسل مینڈس کو 136.9 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرتے ہوئے ایسا شاٹ کھیلنے پر مجبور کیا جس پر وہ تھرڈ مین کے مقام پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔ اس کے بعد انہوں نے 141.9 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کر کے دونیتھ ویلالاگے کو بولڈ کیا، جبکہ لاہیرو اڈارا کی وکٹ بھی حاصل کی، جنہوں نے 91 رنز بنائے تھے۔
دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں نسیم کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے، تاہم پاور پلے کے دوران اپنے دو اوورز میں صرف نو رنز دے کر انہوں نے حریف ٹیم پر دباؤ برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا۔
ان کی یہ کارکردگی اس بات کی مثال ہے کہ جدید کرکٹ میں ایک فاسٹ بولر کی افادیت کا اندازہ صرف وکٹوں سے نہیں، بلکہ رنز روکنے، بلے بازوں پر دباؤ ڈالنے اور میچ کی صورت حال کے مطابق بولنگ کرنے سے بھی لگایا جاتا ہے۔
انجریز کا تجربہ اور فٹنس کی اہمیت
نسیم شاہ کے کیریئر میں بار بار ہونے والی انجریز ان کے لیے ایک بڑا چیلنج رہی ہیں۔ انجری کے باعث وہ 2023 کے آئی سی سی مینز ون ڈے ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کر سکے تھے، جبکہ 2026 کی پاکستان سپر لیگ کے دوران کمر کی تکلیف کے باعث انہیں ٹورنامنٹ سے دستبردار ہونا پڑا۔
انجری کے بعد میدان میں واپسی کے تجربے پر بات کرتے ہوئے نسیم نے بتایا کہ بحالی کا عمل بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کھلاڑی کو اپنی تربیت دوبارہ ابتدا سے شروع کرنا پڑ رہی ہو۔ ان کے مطابق، چوٹ سے صحت یاب ہونے کے بعد معمول کے مطابق دوڑنا بھی مشکل ہو سکتا ہے، جبکہ بولنگ کے لیے درکار فٹنس اور ردھم دوبارہ حاصل کرنا مزید محنت کا تقاضا کرتا ہے۔
انہوں نے بحالی کے مناسب پروگرام پر عمل کرنے، جسمانی صلاحیتوں اور حدود کو سمجھنے اور طبی ماہرین کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا ماننا ہے کہ انجریز سے بچاؤ اور بولنگ میں تسلسل برقرار رکھنا طویل عرصے تک اعلیٰ سطح پر کھیلنے کے لیے ضروری ہے۔
کاکول نہیں، راولپنڈی سے جڑی ہے تاریخی یاد
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم نسیم شاہ کے کیریئر میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ فروری 2020 میں بنگلہ دیش کے خلاف اپنے چوتھے ٹیسٹ میچ کے دوران انہوں نے 16 سال اور 359 دن کی عمر میں ہیٹ ٹرک کرکے تاریخ رقم کی تھی۔ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے کم عمر ترین بولر بنے۔
بین الاقوامی کرکٹ میں اپنے آغاز کے بعد سے نسیم پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے مختلف فارمیٹس میں نمایاں کارکردگی دکھا چکے ہیں۔ ان کے ون ڈے ریکارڈ میں بھی اہم کامیابیاں شامل ہیں، جہاں انہوں نے 34 میچوں میں 60 وکٹیں حاصل کیں۔
اگست 2022 میں نیدرلینڈز کے خلاف انہوں نے 33 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں، جبکہ جنوری 2023 میں نیوزی لینڈ کے خلاف 57 رنز دے کر پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ مسلسل دو ون ڈے میچوں میں پانچ، پانچ وکٹیں حاصل کرنے کا یہ کارنامہ انہیں پاکستانی بولرز کے ایک منفرد گروپ میں شامل کرتا ہے۔
ورلڈ کپ کی تیاری اور مستقبل کے عزائم
نسیم شاہ کے مطابق، جدید وائٹ بال کرکٹ میں فاسٹ بولرز کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑتا ہے۔ مختلف پچوں، جارحانہ بیٹنگ اور تیزی سے اسکور کرنے کے رجحان کے باعث بولرز کے لیے ضروری ہے کہ وہ بلے بازوں کی حکمت عملی کو سمجھیں، اپنی مہارتوں میں اضافہ کریں اور دباؤ برقرار رکھنے کے نئے طریقے سیکھیں۔
انگلینڈ اور سری لنکا کے خلاف مجوزہ سہ فریقی ون ڈے سیریز ان کے لیے اپنی فارم اور ردھم کو مزید بہتر بنانے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔ یہ مقابلے پاکستان کی 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے تیاریوں میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اپنے کیریئر کا جائزہ لیتے ہوئے نسیم شاہ نے تسلیم کیا کہ کھیل کے بعض پہلوؤں، خصوصاً ٹیسٹ کرکٹ میں، انہیں مزید بہتر بنانے کی گنجائش موجود ہے۔ وہ بلند بانگ دعووں کے بجائے اپنی کارکردگی کے ذریعے پیش رفت ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
فی الحال ان کی ترجیحات میں فٹنس برقرار رکھنا، انجریز سے بچنا، کارکردگی میں تسلسل پیدا کرنا اور اپنے تجربے سے فائدہ اٹھانا شامل ہیں۔ اگر وہ ان اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب رہے تو 2027 کا ون ڈے ورلڈ کپ ان کے کیریئر کا ایک اہم مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ وہ فٹ رہیں اور قومی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوں۔
نسیم شاہ کے لیے اب اصل کامیابی صرف تیز رفتار گیندیں کرنا یا زیادہ وکٹیں لینا نہیں، بلکہ ایک ایسے مکمل فاسٹ بولر کے طور پر ابھرنا ہے جو تجربے، حکمت عملی، فٹنس اور مستقل مزاجی کے امتزاج سے طویل عرصے تک پاکستان کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکے۔
