سہیل آفریدی آخری وقت میں پیچھے ہٹ گئے، شہباز شریف

0

نیوز ڈیسک

گوجرانوالہ: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور صوبائی حکومت کے مبینہ عدم تعاون کے تناظر میں ایمرجنسی کا نفاذ ناگزیر ہوگیا تھا۔

ان کے مطابق وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کے ساتھ طویل مذاکرات کے ذریعے سیاسی معاملات حل کرنے کی کوشش کی، تاہم آخری مرحلے پر اتفاق رائے برقرار نہ رہ سکا۔

ہفتے کے روز گوجرانوالہ میں مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی محمود بشیر ورک کے انتقال پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کی سیاسی صورت حال، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور وفاق و صوبائی حکومت کے تعلقات پر اظہار خیال کیا۔

شہباز شریف نے دعویٰ کیا کہ حکومت اور پیپلز پارٹی کے مشترکہ وفد نے پی ٹی آئی کے ساتھ 48 گھنٹے تک مذاکرات کیے اور معاملات طے کرنے کے لیے ایک مسودہ بھی تیار کرلیا گیا تھا۔ ان کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت پی ٹی آئی کو اپنا لانگ مارچ مؤخر یا واپس لینا تھا، تاہم آخری وقت میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے مسودے سے اتفاق نہیں کیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مذاکراتی کوششیں ناکام ہونے کے بعد وفاقی حکومت کے پاس ایمرجنسی کے نفاذ کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا تھا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان تعاون ناگزیر ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب سیکیورٹی فورسز کے اہلکار ملک کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی اور ان سے قبل سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے ساتھ متعدد ملاقاتوں میں صوبے کی ترقی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی تھی

شہباز شریف نے پی ٹی آئی کے احتجاجی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے گزشتہ سال نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کا حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ اس سے ملک بھر میں معمولات زندگی متاثر ہوئے تھے۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پی ٹی آئی نے حالیہ احتجاج کے حوالے سے خونریزی کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔

وزیراعظم کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو محض انتظامی اقدام کے بجائے دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی اور سیاسی مذاکرات کی ناکامی سے جوڑ رہی ہے۔ تاہم اس معاملے پر صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کا مؤقف بھی اہمیت رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے 11 اکتوبر کو وزیراعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دی تھی۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس اقدام کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے بھی منظوری حاصل ہوچکی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.