چکوال: ڈہوڈہ قصبہ سیلابی ریلے کی زد میں، درجنوں گھر تباہ

چکوال کے قصبہ ڈہوڈہ میں تباہی میں طوفانی بارشیوں سے تباہی، انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت، متاثرین سراپا احتجاج

0

چکوال: ضلع چکوال میں حالیہ طوفانی بارشوں نے شدید تباہی مچادی، خاص طور پر قصبہ ڈہوڈہ اور اس کے نواحی علاقے بری طرح متاثر ہوئے۔ طوفانی بارشوں سے پیدا ہونے والے سیلابی ریلے نے سینکڑوں گھروں کو زمین بوس کردیا جبکہ متعدد مکانات اس حد تک متاثر ہوئے کہ رہائش کے قابل نہ رہے۔ شہریوں اور تاجروں کو کروڑوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا ہے۔
ڈہوڈہ اور گرد و نواح میں مین بازار سمیت گلیاں دریا کا منظر پیش کرتی رہیں، جبکہ کئی گھنٹوں تک سیلابی ریلہ علاقے میں موجود رہا۔ بدقسمتی سے 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود حکومت یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کوئی امدادی کارروائی شروع نہ کی جاسکی۔ متاثرہ افراد اپنی مدد آپ کے تحت چھتوں اور اونچے مقامات پر پناہ لینے پر مجبور رہے۔چکوال: ڈہوڈہ قصبہ سیلابی ریلے کی زد میں، درجنوں گھر تباہعلاقہ مکینوں کے مطابق برساتی ندی میں طویل عرصے سے توسیع نہ ہونے کے باعث ہر دو سال بعد اس قسم کی تباہی دہرائی جاتی ہے۔ اس بار بھی حکومت کو بروقت اقدامات کے مشورے دیے گئے لیکن کوئی عملی اقدام نہ ہوا۔
مقامی تاجروں نے بتایا کہ ان کا قیمتی سامان اور کاروباری اثاثے پانی میں بہہ گئے۔ بازار کی دکانیں، گودام اور گھروں کے اندر موجود سامان مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ تاجروں نے اربوں روپے کے نقصان کا اندازہ لگایا ہے اور حکومت سے فوری امداد کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حالیہ دورۂ چکوال کے دوران سب سے زیادہ متاثرہ قصبہ ڈہوڈہ کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا گیا۔ انتظامیہ نے “سب اچھا ہے” کی رپورٹ دے کر کاغذی کارروائی مکمل کردی جبکہ حقیقت اس کے برعکس رہی۔

چکوال: ڈہوڈہ قصبہ سیلابی ریلے کی زد میں، درجنوں گھر تباہ

علاقہ مکینوں نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈہوڈہ اور دیگر متاثرہ علاقوں کو فوری طور پر آفت زدہ قرار دیا جائے، نقصانات کا جامع سروے کروا کر متاثرین کی مالی امداد کی جائے اور برساتی ندی میں فوری توسیع کے منصوبے شروع کیے جائیں تاکہ آئندہ اس قسم کی تباہی سے بچا جاسکے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے مزید بارشوں کی پیشگوئی کے بعد شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ متاثرین نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف زبانی دعووں اور کاغذی کارروائیوں پر اکتفا نہ کرے، بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے تباہ حال شہریوں کو ریلیف فراہم کرے۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.