نیوزڈیسک
اسلام آباد: آذربائیجان اور آرمینیا، دونوں سابق سوویت ریاستیں، انیس سو اٹھاسی سے روس کی ثالثی میں تعلقات سنبھالتی رہی ہیں، مگر حالیہ امن معاہدہ امریکا کی مدد سے طے پایا، جسے ماہرین روس کے لیے جیو پولیٹیکل دھچکا اور خطے میں “علاقائی ری سیٹ” قرار دے رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی میں آذربائیجان کے صدر الہام علیوف اور آرمینیا کے وزیر اعظم نیکول پشینیان نے وائٹ ہاؤس میں مکمل جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے، جن پر صدر ٹرمپ نے بطور گواہ بھی دستخط کیے۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک بڑے تصادم کے قریب تھے لیکن انہیں قائل کیا گیا کہ لڑائی کے بجائے تجارت اور معیشت کو ترجیح دیں۔ دونوں رہنماؤں نے وعدہ کیا کہ اب جنگ نہیں ہوگی۔
نگورنو کاراباخ کے متنازع خطے پر انیس سو اسی کی دہائی سے جاری تنازع میں ہزاروں افراد جان سے گئے۔
1994 میں چھ سالہ جنگ کے اختتام پر آرمینیا نے اس علاقے کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا، لیکن 2020 میں آذربائیجان نے کچھ علاقہ واپس لے لیا، اور 2023 میں روس کے یوکرین جنگ میں الجھنے کے دوران پورے کاراباخ پر کنٹرول حاصل کر لیا۔
اس کے نتیجے میں تقریباً ایک لاکھ آرمینیائی باشندے نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جس سے آرمینیا کا جھکاؤ مغرب کی طرف بڑھ گیا۔
معاہدے کے تحت ایک نیا ٹرانزٹ کوریڈور، “ٹرمپ روٹ برائے امن و خوشحالی”، قائم کیا جائے گا جس میں ریلوے، آئل اینڈ گیس پائپ لائنز اور فائبر آپٹک نیٹ ورک شامل ہوگا، جو آذربائیجان کو اس کے خودمختار علاقے نخچیوان سے جوڑے گا۔
اس منصوبے پر آرمینیا اور آذربائیجان میں کنٹرول کے حوالے سے اختلافات ہیں، لیکن امریکی ثالثی نے درمیانی حل کی امید پیدا کی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، خطے میں امریکا کا یہ بڑھتا اثر نہ صرف روس بلکہ چین اور ایران کے لیے بھی پریشانی کا باعث ہے۔
دونوں ممالک کے رہنماؤں نے ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کی سفارش بھی کی۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ بھی روکی تھی اور جلد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، پیوٹن نے مشرقی یوکرین کے بدلے جنگ ختم کرنے کی پیشکش کی ہے۔